نواز شریف کی صحت بدستور خراب ہے: ڈاکٹر عدنان

  • ہفتہ 02 / نومبر / 2019
  • 8410

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سابق وزیر اعظم کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔  ڈاکٹر عدنان خان نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’نوازشریف کی صحت ناساز ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے اسٹیرائیڈز کم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن خون میں پلیٹلیٹس میں دوبارہ کمی ہوگئی۔ گزشتہ روز پلیٹلیٹس کی تعداد 38 ہزار تک پہنچ گئی تھی اس لیے بغیر کسی تاخیر کے سابق وزیراعظم کی بیماری کی تشخیص ضروری ہے۔ لاہور کے سروسز ہسپتال کے سپریٹننڈنٹ ڈاکٹر سلیم چیمہ نے بھی نواز شریف کی صحت سے متعلق عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ڈاکٹر سلیم چیمہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے پلیٹلیٹس اطمینان بخش سطح پر نہیں ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ ’پلیٹلیٹس بڑھ گئے مگر ابھی نارمل نہیں ہیں‘۔  نواز شریف کا شوگرلیول 200 سے 375 تک پہنچ چکا ہے لیکن گردوں کے مسائل حل کرنے کے لیے نواز شریف کو اسٹیرائیڈ دیے جارےہیں۔

ڈاکٹر سلیم چیمہ نے کہا کہ ’50-50 والی بات بالکل ٹھیک ہے۔ میں میڈیکل بورڈ کا رکن نہیں ہوں‘۔  ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ایک چیز کنٹرول ہوتی ہے تو دوسری میں تبدیلی آجاتی ہے‘۔  انہوں نے کہا کہ ابھی نواز شریف کی صحت بہتر قرار نہیں دی گئی۔  پلیٹلیٹس ڈیڑھ لاکھ سے بڑھیں گے تو ہی فٹ قرار دیا جاسکے گا۔

ماہرین پر مشتمل ٹیم اب تک کوشش کررہی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی ہونے کی وجہ جان سکے۔  اس کے ساتھ ہی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ نواز شریف کو علاج کے لیے ملک کے کسی اور ہسپتال یا بیرونِ ملک لے جایا جاسکتا ہے جہاں ان کا بہتر علاج ہوسکے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد گزشتہ ایک ہفتے سے لاہور کے سروسز ہسپتال میں موجود ہیں۔

لیگی رہنماؤں نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کردیا کہ ان کی صحت کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں ہے۔

جسم میں پلیٹلٹس خون کے اندر گردش کرتے پلیٹ کی شکل کے چھوٹے چھوٹے زرات ہوتے ہیں جن کے گرد جھلی ہوتی ہے۔ پلیٹلٹس کا کام جسم سے خون انخلا کو روکنا ہوتا ہے۔ پلیٹلٹس خون کے ساتھ گردش کرتے ہیں اور کہیں بھی زخم یا خراش لگنے کی ضرورت میں وہاں جمع ہو کر خون کے انخلا کو روک لیتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق کی پلیٹلٹس کی غیرموجودگی سے دماغ میں خون جمع ہوجاتا ہے جس سےکئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں اور برین ہیمرج بھی ہوسکتا ہے۔ صحت مند جسم میں پلیٹلٹس کی تعداد ایک لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پلیٹلٹس کی کمی کے باعث انفکیشن، گردوں کی بیماری، ادویات کے اکثریت یا جسم کے مدافعتی نظام میں خرابی سے ہوسکتی ہے۔ پلیٹلٹس کی کمی کےباعث دل کے دورے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔