واضح مطالبات سے قبل اپوزیشن سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: وزیر تعلیم
- ہفتہ 02 / نومبر / 2019
- 4270
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت کا جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو استعفے کے لیے دی گئی 2 روزہ مہلت ختم ہونے سے قبل اپوزیشن سے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔
وفاقی وزیر برائے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت اور وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تشکیل کردہ کمیٹی کے رکن شفقت محمود نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے خطاب کے بعد ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان نے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے دھرنے سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا اجلاس بنی گالا میں طلب کرلیا ہے۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے معاہدے میں طے کیے گئے مقام پر اپنا جلسہ منعقد کیا اور اب تک انہوں نے ڈی چوک یا کسی اور مقام کی جانب بڑھنے سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا تھا کہ وہ دو روز کے بعد اگلا فیصلہ کریں گے اور ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر وہ وہاں 2، 3 یا جتنے مرضی دن بیٹھے رہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ 'جب اپوزیشن اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرلے گی اور اس فیصلے سے اگر کوئی نئی صورتحال سامنے آتی ہے تو ہم بھی اپنے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیں گے'۔
اپوزیشن کی جانب سے اگلے پلان کے اعلان سے قبل حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ کسی مذاکرات کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ تاہم شفقت محمود نے دعویٰ کیا کہ وہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اراکین سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنی تقریروں میں کوئی قابل ذکر بات نہیں کی۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ حکومت کا اپوزیشن سے صرف جلسے کے مقام کا معاہدہ ہوا تھا جس میں اپوزیشن نے اتفاق کیا تھا کہ وہ جلسے کے لیے مختص جگہ سے آگے نہیں بڑھیں گے اور جب تک وہ وہاں رہیں گے حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے مذاکرات اس وقت ہوسکتے ہیں جب ان کے کوئی خاص مطالبات ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ وزیراعظم کے استعفے کے معاملے پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ شفقت محمود نے اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے تقاریر اور انٹرویوز میں کیے جانے والے 2 مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'دو معاملات وزیراعظم کا استعفیٰ اور نئے انتخابات پر مذاکرات نہیں ہوسکتے'۔
انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے معمولات زندگی کو متاثر کرنے پر تنقید کی اور اپوزیشن کی ریلی کے باعث ان دونوں شہروں میں تعلیمی اداروں کی بندش پر افسوس کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کو سڑکوں کی بندش اور ٹریفک کے متبادل روٹس کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل کا احساس ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود نے کہا کہ وہ اپوزیشن سے مطمئن ہیں کیونکہ انہوں نے حکومت اور مقامی انتظامیہ سے کیے گئے معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں کی۔ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپوزیشن کو ریڈ زون میں ڈی چوک کی جانب پیش قدمی سے خبردار کیا اور کہا کہ کہ اگر اپوزیشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔
دوسری جانب اپوزیشن کے سینئر رکن نے دعویٰ کیا کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) نے ڈی چوک کی جانب پیش قدمی کا لائحہ عمل طےکیا ہے جو دھرنے کے مقام سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔