جرمنی میں انتہاپسندوں کے خلاف قرارداد منظور
- اتوار 03 / نومبر / 2019
- 6020
جرمنی کے ایک مشرقی شہر میں اسلاموفوبیا اور انتہا پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں کے بعد حکام نے شہر میں 'نازی ایمرجنسی' نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔
واضح رہے کہ ڈریسڈن اسلام مخالف تحریک کا مرکز بن چکا ہے جہاں ہر ہفتے مسلمانوں کے خلاف ریلی کا انقعاد کیا جاتا ہے۔ جرمنی کی انتہا پسند تنظیم اے ایف ڈی نے ستمبر میں مقامی انتخابات میں 28 فیصد کامیابی حاصل کی تھی۔
ڈریسڈن کی سٹی کونسل نے گزشتہ بدھ 'نازی ایمرجنسی' کے عنوان سے دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف قرارداد کی حمایت کی۔ قرار داد بائیں بازو کی جماعت ڈائی پارٹی کے مقامی کونسلر میکس اسچنباچ نے پیش کی تھی۔ انہوں نے مقامی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ اس شہر میں اب 'نازی مسئلہ' ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ شہر ڈریسڈن میں جمہوریت مخالف، امتیازی سلوک اور دائیں بازوں کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش ہے۔ قرار داد میں جمہوری ثقافت کو تقویت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اقلیتوں کے تحفظ، انسانی حقوق اور انتہا پسندوں کے متاثرین کو ترجیح دی جائے۔
اس تحریک میں یہودیت، نسل پرستی اور اسلامو فوبیا سے لڑنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کونسل میں قرارداد کے حق میں 39 جبکہ مخالفت میں 29 ووٹوں پڑے۔
پرتشدد انتہاپسندوں کے خلاف قرارداد کو بائیں اور لبرل جماعتوں کی حمایت حاصل رہی لیکن اسلام مخالف انتہاپسند جماعت اے ایف ڈی اور مسیحی ڈیموکریٹس جماعت نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیے۔ مسیحی ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ قرار داد صرف انتہا پسندی کے خلاف نہیں ہے۔