آزادی مارچ: مولانا فضل الرحمان آج اہم اعلان کریں گے

  • اتوار 03 / نومبر / 2019
  • 7970

کہ اپوزیشن جماعتوں کے حتمی فیصلوں تک ادھر ہی بیٹھے رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں سے ڈی چوک بھی جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مظاہرین کو کہا کہ کل اور پرسوں تک اور سخت فیصلے کر سکتے ہیں، تاکہ تحریک کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے۔ ’آپ نے ان فیصلوں پر لبیک کہنا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن رہیں گے، جو فیصلہ قیادت کرے گی، آگے مراحل مل کر طے کریں گے۔

اکارکنان سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری تاریخ جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔ آج جو مقاصد آپ نے تین دن میں حاصل کیے ہیں شاید کوئی جماعت سو سال میں بھی ایسا نہ کر سکے۔' انہوں نے اپنے کارکنان سے کہا کہ جب تک تمام اپوزیشن کوئی فیصلے نہیں کرتی، آپ نے استقامت سے اِدھر بیٹھے رہنا ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن طریقے سے آگے بڑھیں گے اور ناجائز حکومت کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج 'جعلی حکومت' نے ایک کمیٹی بنائی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ ہم تو اسلام آباد میں گھوم رہے ہیں۔ ہر طرف کنٹینرز لگے ہوئے ہیں، نہ بنی گالا جانے کے لیے رستہ ہے، نہ  وزیر اعظم ہاؤس اور نہ صدارتی محل کی طرف جاسکتے ہیں۔ تم نے تو سارے رستے بند کیے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ’کس راستے سے آپ ہمیں مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں‘؟

مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو گالم گلوچ بریگیڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گالیوں کے علاوہ کچھ آتا بھی نہیں ہے۔  انہوں نے آزادی مارچ میں افغان طالبان کا جھنڈا لہرانے کو حکومت کی شرارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان سمیت کئی ممالک میں صدارتی پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’یہ عوام یہ دعویٰ لے کر آئے ہیں کہ حکومت غیر آئینی ہے، غیر قانونی ہے، جعلی ہے، خلائی ہے، ناجائز ہے۔' انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ 'استعفی دے دو اور لوگوں کو اپنا حق دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دے دو۔'  ان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں رہبر کمیٹی نے طے کیا ہے کہ ڈی چوک تک جانا بھی ہماری تجویز ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہ یہ عوام آپ کی حکومت کے لیے کافی ہے۔ ابھی لوگ آرہے ہیں۔ آج بھی قافلے آرہے ہیں اور کل بھی آئیں گے۔ 'ایک آواز پر پوری قوم اسلام آباد میں آئے گی۔' اب پاکستان میں تمھاری رٹ ختم ہو چکی ہے۔ ’صرف کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھنا ہی حکومت کا نام نہیں ہوتا۔ اب ہم ملک کو چلائیں گے، ترقی دیں گے ملک کو، اس کی معیشت کو سنبھالیں گے۔'

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کبھی کہتے ہیں کہ اس اجتماع میں خواتین نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے سے انہیں کسی نے نہیں روکا لیکن ماحول ایسا ہے۔ 'ہمارے معاشرے کی کچھ اقدار اور ویلیوز ہوتی ہیں۔ ہماری خواتین گھروں میں بیٹھ کر شریک ہیں، روزے رکھ رہی ہیں اوردعائیں مانگ رہی ہیں۔'  اس وقت اسمبلیوں میں خواتین ہماری نمائندگی کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں میں اقلیتیں بھی ان کی جماعت کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ غیر مسلم ہمارے نمائندے اور اسمبلیوں کے ممبر ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ خواتین کی بات کرتے ہو تو قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں کس نے شکست دلوائی تھی۔ 'ان کو ایک فوجی مرد کے مقابلے میں کس نے ہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ولی خان نے اس خاتون کا ساتھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کا قلم بڑا رحم ہوتا ہے، یہ سب تاریخ رقم کررہی ہے۔  انہوں نے کہا ہم ترقی پسند ہیں اور حکومت رجعت پسند ہے۔ ہم آج کے پاکستان کی بات کرتے ہیں اور یہ 1947 کی بات کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پاکستان اتنا کمزور ملک نہیں ہے کہ چالیس پچاس ہزار لوگ آ کر نظام الٹا دیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق سنیچر کو بھی جلسے میں شرکت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بیشتر افراد اپنے ساتھ کھانے پینے اور رات گزارنے کا سامان بھی لے کر آ رہے ہیں۔ جلسے میں موجود جے یو آئی (ف) کے کارکن محمد نور الاسلام کے مطابق ’کارکنوں کو 15 سے 20 دن تک کا سامان لانے کا کہا گیا ہے اور ساتھ ساتھ مزید اعلان کا انتظار کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔‘ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جلسے کے لیے مختص ایچ نائن کے پنڈال کے ارد گرد پولیس کی نفری بھی تعینات ہے جبکہ پولیس زیادہ تر شرکا کی مدد کرتی اور ان کو جلسہ گاہ کا راستہ بتاتی دکھائی دے رہی ہے۔

وزیراعظم کے استعفے سے متعلق دی گئی ڈیڈلائن کے بعد کی حکمت عملی پر غور کے لیے آج جے یو آئی (ٖف) کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس ہؤا۔ مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت اجلاس میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مرکزی شوریٰ کے ارکان اور صوبوں کے امیر شریک ہوئے۔