میڈیا کی تعلیم اورنوجوان طبقہ
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 03 / نومبر / 2019
- 14890
میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان لڑکوں او رلڑکیوں کو اپنے مستقبل یا کیرئیر کے تناظر میں بہت زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس وقت میڈیا کی انڈسٹری میں جو انتظامی او رمالی بحران ہے اس کے نتیجے میں نوجوانوں کے لیے مواقع بہت محدود ہیں۔
ان میں سے بیشتر نوجوان یا تو مایوسی کا شکار ہیں یا عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔ایک دہائی قبل جتنی تیزی سے پاکستان کے تعلیمی اداروں یا یونیورسٹیوں کی سطح پر میڈیا کی تعلیم کی اہمیت بڑھی اور ایک بڑی تعداد میں لوگ اس تعلیم کا حصہ بنے تو ایسے محسوس ہوتاتھا کہ میڈیا او رمیڈیا سے جڑے تعلیمی نظام میں ایک بڑا انقلاب رونما ہوگیا ہے۔موجودہ صورتحال میں نئے نوجوانوں کے لیے مواقع تو ایک طرف پہلے سے موجود جو لوگ میڈیا میں کام کررہے ہیں ان کو بھی بحران کا سامنا ہے۔کئی ہزار افراد میڈیا سے بے روزگار ہوئے ہیں او رنئے مواقع محدود ہورہے ہیں۔ یہ سوال یونیورسٹیوں کی سطح پر اکثر ہم سے میڈیا کی تعلیم سے جڑے نوجوان طلبہ وطالبات پوچھتے ہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہے؟ کئی ہزار نوجوان لڑکے او رلڑکیاں جو میڈیا کی تعلیم حاصل کرچکے ہیں جس میں بی ایس، ایم ایس، ایم فل او رپی ایچ ڈی جیسی تعلیم ہے وہ بھی مواقع نہ ہونے کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہم میڈیا سے جڑے تعلیمی اداروں یا میڈیا انڈسٹری کو صورتحال کا ذمہ دار قرار دیں،بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ میڈیا کی تعلیم اور روزگار کے مواقع کا سوال پر سنجیدگی سے غور کیاجائے۔ یقینی طور پر فریقین کے درمیان ایک ایسی موثر حکمت عملی درکار ہے جو صورتحال کے بگاڑ میں کچھ بہتری کے امکانات کو پیدا کرسکے۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان طبقہ سمجھتا ہے کہ میڈیا کی تعلیم کا مقصد محض میڈیا کے اداروں میں کام کرنا ہوتا ہے۔ نوجوان یا تو خود بہت محدود سوچ رکھتے ہیں یا ہمارے میڈیا کے تعلیمی ادارے ان کے سامنے مستقبل کے حوالے سے زیادہ امکانات کو پیش کرنے سے قاصر ہیں۔آپ جب بھی نوجوانوں سے بات چیت کریں تو ان کے سامنے تین ہی بڑے اہداف ہوتے ہیں۔ اول وہ کسی ٹی وی میں نیوز کاسٹر بن جائیں، دوئم ٹی وی اینکر، سوئم پرنٹ میڈیا میں یا تو کالم نگار یا رپورٹر بننے کی خواہش ہوتی ہے۔یہ سوچ اور فکر ظاہر کرتی ہے کہ زیادہ تر نوجوان پرنٹ او رالیکٹرنک کی سکرین پر رہنا چاہتے ہیں او رپردہ سکرین کے پیچھے کام کرنے پرتیار نہیں او رنہ ہی اس کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔ہماری میڈیا کی تعلیم میں اب ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ میڈیا کی تعلیم اور ڈیجیٹل میڈیا کے درمیان بہت بڑا خلا ہے۔
ٹی وی اینکر، نیوز کاسٹر، کالم نگار یا رپورٹر بننا ان کا حق ہے، لیکن اس منزل تک پہنچنے کے لیے جو عملی تقاضے ہیں یا اس کے لیے جو محنت و مطالعہ درکار ہوتا اس کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔مسئلہ محض بچے او ربچیوں کا ہی نہیں بلکہ میڈیا سے جڑے تعلیمی اداروں کے ماحول کا بھی ہے او رکس حد تک وہ عملی تربیت دی جاتی ہے جو آج کے میڈیا انڈسٹری کو درکار ہے۔ایک بڑا خلا میڈیا انڈسٹری او رمیڈیا کی تعلیم سے جڑے اکیڈمکس کے درمیان ہے۔ اول تو کوئی موثر رابطہ کاری ہے ہی نہیں او رنہ ہی بہت زیادہ اعتماد سازی کا ماحول ہے۔ اس میں جہاں میڈیا کی تعلیم سے جڑے تعلیمی اداروں کا قصور ہے وہیں اس سے بڑھ کر میڈیا انڈسٹری میں موجود لوگ بھی یونیورسٹیوں کو بہت زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایک دوسرے پر تنقید یا الزام تراشی کا پہلو زیادہ غالب ہے، جو ختم ہونا چاہیے۔کیونکہ یہ عمل دو طرفہ تعاون کے امکانات کو بہت زیادہ محدود کرتا ہے۔
آج کل مختلف یونیورسٹیوں میں ایف ایم ریڈیو، ویب ٹی وی سمیت مختلف مہارتوں کے حوالے سے سہولیات بھی میسر ہیں یا ان کا دعوی کیا جاتا ہے۔مگر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کو خبر بنانا، ٹکر ز، ترجمہ، اردو کمپوؔزنگ، لے آؤٹ، ایڈیٹنگ، گرافکس، ڈیزاننگ، فوٹو گرافی، این ایل ای،ریسرچ، تحقیقی اور شواہد پر مبنی مواد کی تلاش، میڈیا سے جڑی سوشلائزیشن، انسانی وسائل،پروڈکشن، سیٹ ڈیزائننگ، سوشل میڈیا اور پروگرامنگ بشمول اینکرنگ، رپورٹنگ، نیوزکاسٹر جیسی مہارتوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ میڈیا کا دور ڈگری سے زیادہ صلاحیتوں او رمختلف تربیت کے مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ جو لوگ مختلف طرز کی مہارتوں کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں او ر اس کے استعمال کا ہنر جانتے ہیں ان کے لیے ہمیں میڈیا کے محاذ پر مواقع نظر آتے ہیں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ دور اسپیشلائزیشن کا ہے اوراس میں جو لوگ توجہ دیں گے وہی آگے بڑھ سکیں گے۔ محض ڈگری ان کو بڑا روزگار یا مواقع نہیں دے سکے گی۔ روائتی تعلیم سے ہٹ کر نئے جدید طریقوں او ر میڈیا کی نئی جہتوں کو قبول کرنا ہوگا۔خاص طور پر ہمیں سیاست، ترقی، معیشت، سیکورٹی، خارجہ اور علاقائی پالیسی،سپورٹس،ماحولیات، سماجیات جیسے شعبوں میں اپنی مہارتوں کو بڑھانا ہوگا۔
میڈیا سے جڑے تعلیمی اداروں کو بھی اپنے تعلیمی نصاب اور عملی تربیت کے معاملات میں بہت زیادہ نئی سوچ اور فکر پیدا کرنی چاہیے۔ طالب علموں کے انٹرن شپ پروگراموں کو عملی تربیت کے ساتھ جوڑنا ہوگا اور یہ عمل کم ازکم ایک برس پر محیط ہونا چاہیے۔ اس کے لیے میڈیا سے جڑے ادارے خود بھی اپنے اندر وسائل اور مواقع پیدا کریں اور تعلیمی اداروں سے باہر میڈیا انڈسٹری سمیت دیگر شعبہ جات کے ساتھ ٹھوس بنیادوں پر دو طرفہ تعاون کے امکانات کو پیدا کریں اور یہ عمل سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔سمجھنا ہوگا کہ موجودہ انٹرن شپ پروگرام کی کوئی افادیت نہیں اور یہ نئی جہتوں او رضرورتوں کی بنیاد پر تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان ڈگری کے ساتھ عملی تربیت حاصل کرسکیں۔میڈیا کے طالب علموں کو اپنے لیے پبلک ریلیشنگ،ڈاکومنٹری، ایڈوٹائزمنٹ، ڈرامہ اور فلم سازی،ابلاغ عامہ کی مینجمنٹ،ادارہ سازی میں بہتر معلوماتی نظام اوراس کی اہمیت کو بنیاد بنا کر توجہ دینی چاہیے۔
آج کل میڈیا کی دنیا میں میڈیا انٹرپنیورشپ ماڈل پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی تعلیمی اداروں میں اس انداز سے صلاحیت اور رویوں کو پیدا کیا جائے کہ وہ محض ملازمتوں پر بڑ ا انحصار کرنے کی بجائے خود سے اپنے لیے روزگارو کام کے مواقع پیداکریں۔ میں ایسے کئی نوجوانوں کو جانتا ہوں جو اپنی مدد آپ کے تحت مختلف صلاحیتوں کی بنیاد پر میڈیا سے جڑے شعبہ جات میں بہتر انداز میں اپنا اپنا کام کررہے ہیں او ربہت سے نوجوانوں نے اپنے اپنے گروپس بنا کر اجتماعی طور پر کام کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اصل بات میڈیا انڈسٹری تک خود کو محدود کرنے کی بجائے مختلف شعبہ جات میں نئے سے نئے مواقعوں کی تلاش او ران تک اپنی رسائی کے حصول کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔بعض نوجوان دوران تعلیم ہی عملی کام کا حصہ بن کر تعلیم اور تجربہ دونوں حاصل کرنے کی جدوجہد کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے نوجوان عملی زندگی میں آنے سے قبل سوشل میڈیا کی مدد سے اپنے بلاگرز، ویڈیوز، تحریریں، مختلف ماہرین سے انٹرویوز اور اپنی رپورٹ شیئر کرکے اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں۔سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیا خود ایک بڑی صنعت ہے او راس کی مختلف جہتوں کو سمجھ کر ہم محفوظ راستہ تلاش کرسکتے ہیں۔
مایوس یا بددل نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ ہمارے بہت سے اہل دانش اور صحافی حضرات بھی میڈیا کے نوجوان طالب عملوں کو امید کا پہلو دینے کی بجائے ان میں اپنی گفتگو او رتحریروں سے مایوسی زیادہ پیدا کرتے ہیں۔نئی نسل کے نوجوانوں کو ان مایوسی کی باتوں پر زیادہ توجہ دینے کی بجائے اپنے لیے امید، محنت، جدوجہد کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہیے۔ اگرچہ حالات سخت ہیں،لیکن اس کے باوجود جو لوگ اس وقت میڈیا مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں اور خود کو مختلف صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرتے ہیں وہی اس میڈیا کی بڑی صنعت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔بنیادی شرط مطالعہ کی تحقیق کی عادت ہونی چاہیے۔اصل مسئلہ اپنے اہداف کو طے کرنا ہوتا ہے اور یہ کام آپ والدین، استاد اور میڈیا کے مختلف عملی طور پر کام کرنے والے ماہرین کی مدد سے طے کرسکتے ہیں۔ان مشکل حالات میں ہی حالات بہتر پیدا کرنا ہی بڑ ا چیلنج ہے او راس چیلنج کو قبول کرکے ہی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔