بے پیندے کے لوٹے

انسان اپنی ذات میں ایک معمہ ہے۔ صدیوں سے انسانی فطرت اور اس کی حقائق کا لوگوں اور مفکروں نے اپنے اپنے طور پر مشاہدہ اور تحقیق کی ہے۔ اپنے اپنے طور پر سبھی نے انسان کو روئے زمین پر سب سے بہترین مخلوق ثابت کیا ہے۔ تاہم  آج انسان مذہب، ثقافت، سیاست اور سماج وغیرہ کے مختلف خانوں میں بٹا ہوا ہے۔

بلکہ اب تو انسان کو جاننا اور سمجھنا اور بھی پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔سوشل میڈیا، ارد گرد کے ماحول اور ذاتی تجربات نے تو ہمیں اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم کیا سنیں اور کیا کہیں۔ کیا رشتہ دار، دوست، پڑوسی، مفکر، دانشور، مذہبی مبلغین اور سیاستدان، بس جناب ہر کوئی اسی بات میں لگا ہوا ہے کہ کیسے اس کی دکان چمکے۔ خواہ اسے جھوٹ کا ہی سہارا کیوں نہ لینا پڑے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں ایک خلفشار ہے۔ روزانہ ایک نیا تماشہ ہو رہا ہے۔ کبھی رشتہ داروں کا ڈرامہ تو کبھی دوستوں کی نادانی، تو کبھی سیاستدانوں کا منہ پھاڑنا۔ گویا جینا حرام ہو گیا ہے۔ وعدہ خلافی اس طرح کہ مت پوچھیے صاحب۔ روز خود کو اور لوگوں سے سننے کو ملتا کہ فلاں نے وعدہ کیا تھا اور غائب ہوگیا۔ جھوٹ کی تو آپ بات ہی نہ کریں۔ مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعدمسجد کے دروازے سے موبائل فون پر دوستوں کو یہ کہنا کہ ابھی میں کسی کے ساتھ کافی پی رہا ہوں۔ جلد ہی آپ کو فون کرتا ہوں۔ استغفراللہ۔

اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی کے ساتھ ہمدردی اور نرم رویہ اپنانے کا مطلب ہے کہ  وہ انسان احمق ہے اور اس سے کسی بہانے پیسہ اینٹھ لیا جائے یا پھر کوئی کام نکال لیا جائے۔ یعنی انسانی ہمدردی کا اب کوئی وجود ہی نہیں رہا اور ظالموں نے اپنے مفاد کی خاطر انسانی ہمدردی اور انسانیت کا گلا ہی گھونٹ دیا ہے۔یہ وبا صرف ان ملکوں میں ہی نہیں، جہاں غربت ہے یا روزگار کم ہے بلکہ اس کا دائرہ لگ بھگ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ آئے دن ایسی ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں  کہ بس جناب زبان پر یہی بات آتی  ہے کہ  اب قیامت کب آئے گی۔

ان ہی باتوں کے مد نظر آج میں برطانیہ کی سیاست اور آنے والے عام انتخاب پر کچھ تبصرہ کروں گا۔

برطانیہ میں جب سے(Brexit) بریکسٹ ہوا ہے ہر روز  پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر یہی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ برطانیہ کو یورپین یونین میں رہنا چاہیے یا اس سے باہر ہو جاناچاہیے۔ لگ بھگ تین سال ہوچکے ہیں لیکن بریکسٹ کی ہڈی جو حلق میں اٹکی ہے وہ کمبخت نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ نہ جانے کتنے بل اور عدالت کے فیصلے ہوچکے ہیں۔ ایک الیکشن بھی ہوگیا اور ایک وزیر اعظم نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ آئے دن کتنے وزیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے رہے ہیں۔ لیکن کیا مجال کہ بریکسٹ کا مسئلہ حل ہو۔ پھر گھوم پھر کر پارلیمنٹ اسی نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ برطانیہ یورپین یونین سے نکلے یا کیوں نکلے۔

23جون 2016کو برطانیہ میں یورپ کے ساتھ رہنے اور چھوڑنے کے سوال پر اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کر وایا تھا۔ جس میں 52%فی صد لوگوں نے (Brexit)بر یکسٹ(یوروپین یونین چھوڑنے والوں کا گروپ) کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔

 تب سے برطانیہ میں سیاسی اورمعاشی طور پر ایک زلزلہ آیا ہوا ہے۔ اب بھی (Brexit)بر یکسٹ کا بھوت گاہے بگاہے کسی نہ کسی بہانے نمودار ہو رہا ہے جس سے سیاستداں سے لے کر عام آدمی تک سب نروس اور پریشان ہیں۔

وزیر اعظم تھریسا مے کے استعفیٰ کے بعد متنازعہ ایم پی بورس جونسن نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔ آتے ہی جناب نے مر مٹنے کی بات کرنے لگے۔ وزیراعظم بنتے ہی ایسے ایسے بیان دیے کہ یوں محسوس ہوا کہ برطانیہ 31اکتوبر کو یورپین یونین سے باہر ہو جائے گا۔ بورس جونسن نے یورپین یونین سے اکتوبر کے درمیان ایک معاہدہ بھی کر لیا تھا جس میں برطانیہ کو یورپین یونین سے نکلنے کے بعد کیا کیا فوائد ہوں گے۔ لیکن مسئلہ بورس جونسن کا یہ ہے کہ انہیں اپنی کوئی بھی بات منوانے کے لیے پارلیمنٹ کی حمایت ضروری ہے۔

آخر کار بورس جونسن کو منہ کی کھانی پڑی اور اگر 31اکتوبر کو بریکسٹ نہیں ہوا یعنی برطانیہ یورپین یونین سے الگ نہیں ہوا تو مر مٹنے والی بات کہنے والے بورس جونسن پھر ذلیل و خوار ہوئے۔ بورس جونسن نے پچھلے کچھ ہفتوں میں اپنا پورا زور لگایا تھا لیکن برطانوی پارلیمنٹ نے بھی بورس جونسن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ یوں تو بورس جونسن عادتاً پل پل میں اپنا بیان بدلتے ہیں جس پر زیادہ تر سیاست دانوں نے کہا کہ بورس جونسن پر یقین کرنا  احمقانہ بات ہوگی۔ بلکہ آپ یوں کہہ لے کہ بورس جونسن کا رویہ بے پیندے کے لوٹے جیساہے۔تاہم 31اکتوبر برطانیہ کے علیحدہ نہ ہونے پر بورس جونسن نے نہ ہی تو اپنی جان دی اور نہ ہی انہیں اپنے جھوٹ  پر کوئی افسوس ہے۔

بحالتِ مجبوری بورس جونسن کو پارلیمنٹ میں ایک بل لانا پڑا جس میں پارلیمنٹ کی مدت پوری ہونے سے قبل الیکشن  کی تجویز رکھی گئی۔ جسے تقریباً سیاسی پارٹیوں نے حمایت کی اور 12دسمبر کو عام انتخاب کا اعلان ہوگیا۔اس بار پارلیمنٹ ڈھائی برس ہی چل سکا اور پارلیمنٹ کا زیادہ تر وقت بریکسٹ کی نظر ہؤا۔ تاہم 1923کے بعد دسمبرمیں عام انتخاب ہوگا۔ عموماً برطانیہ میں الیکشن مئی کے مہینے میں ہوتا ہے۔ 12دسمبر 2019کا لیکشن کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم برطانیہ میں دسمبر کا مہینہ کرسمس کی تہوار کے لیے بھی کافی اہم مہینہ ہے۔ جس میں زیادہ تر لوگ تہوار کی تیاری اور خریداری یں مصروف ہوتے ہیں۔

ظاہر سی بات ہے بریکسٹ ایک ملک اور قوم کا معاملہ ہے تو اسے کیسے محض ایک وزیر اعظم اپنی انا کے ذریعہ کامیاب کروالے۔ بریکسٹ سے برطانیہ کی صورت تو بدلے گا اس کے علاوہ یہاں رہنے والے لاکھوں لوگوں کی قسمت بھی بدل جائے گی۔ برطانیہ میں شامل اسکاٹ لینڈ، ویلز اور ناردن آئیرلینڈ بھی ایسے ممالک ہیں جہاں بریکسٹ کے معاملے میں کافی تناؤ ہے۔ اسکاٹ لینڈ تو کسی بھی وقت برطانیہ سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی ایس این پی (اسکاٹس نیشنل پارٹی) نے پچھلے کئی برسوں سے اسکاٹ لینڈ کو یونائیٹڈ کنگڈم سے علیحدہ کرنے کی مہم چلا ئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے تین سال قبل ایک ریفرنڈم بھی ہوا تھا جس میں اسکاٹس نیشنل پارٹی کو کامیابی نہیں مل پائی تھی۔لیکن اسکاٹش نیشنل پارٹی نے بریکسٹ کے بعد پھر ایک بار اسکاٹ لینڈ کو یونائیٹد کنگڈم سے علیحدہ  کرنے کی مہم میں تیزی لائی ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی کی لیڈر نکولا اسٹرجن نے صاف طور پر اپنا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آنے والے الیکشن میں اپنے منشور میں اسکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے علیحدہ کرنے کی بات کو شامل کرے گی۔ نکولا اسٹرجن نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر لیبر پارٹی بر سر اقتدار آئی تو بہت ممکن ہے کہ اسکاٹ لینڈ کو یونائٹڈ کنگڈم سے علیحدہ کرنے کے لیے ایک اور ریفرنڈم کرایا جائے گا۔

عام طور پر برطانیہ میں الیکشن چند خاص مسائل پر ہوتا ہے۔جن میں صحت، تعلیم، روزگار،امیگریشن اور ٹیکس اہم ہوتا ہے۔ لیکن اس بار الیکشن کی مہم میں تمام پارٹیاں اب تک صرف برطانیہ کا یورپ سے باہر ہونے اور اس کے بعد کس طرح ملک کو چلایا جائے، کس طرح معیشت کو محفوظ رکھا جائے اور کس طرح یورپین یونین سے تجارت پر معاہدہ کیا جائے، جیسے مسائل پر ہی بحث ہورہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی سیاسی جماعت برطانیہ کے عوام کو اپنی پالیسی اور مہم سے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔جس کا فیصلہ 12/دسمبر کو ہو جائے گا۔