احتجاج جاری رہے گا، آئیندہ لائحہ عمل کا اعلان کل ہوگا: مولانا فضل الرحمان

  • اتوار 03 / نومبر / 2019
  • 4260

اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کل آل پارٹیز کانفرنس میں طے کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے یہ بات جے یو آئی کے رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس کے بعد آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج جاری رہے گا اور ان کے پاس پلان اے بی اور سی بھی ہیں۔ اس سے قبل جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے میڈیا کو بتایا کہ متحدہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

حکومتی اتحادی مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان سے فون پر بات کی ہے اور انہیں کامیاب مارچ پر مبارکباد دی۔  اتوار کو چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر حکومتی مذاکرتی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا۔ اس اجلاس میں اپوزیشن سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس وقت کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتظامات بڑھا دیے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری ریڈ زون میں تعینات کر دی گئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا کو اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن سے ڈی چوک یا ریڈ زون کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے حوالے سے فیصلے مشترکہ طور پر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں سے پسپائی نہیں بلکہ پیش رفت کریں گے اور پورے ملک کو اجتماع گاہ بنائیں گے۔ آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آپ کا جذبہ بڑھتا جارہا ہے اور اس میں اضافہ ہورہا ہے اور مقصد کے حصول کے لیے آپ آخری بازی لگانے تک تیار نظر آرہے ہیں۔ اسلام آباد کی تاریخ کا کہ سب سے بڑا اجتماع ہے۔ اس سے پہلے اس سرزمین اور ان فضاؤں نے اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا اور آئندہ بھی اتنا بڑا انسانی اجتماع نہیں دیکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں ہے، مسئلہ اس قوم کی امانت کا ہے۔ عوام کے ووٹ کی امانت کا ہے اور عوام یہاں آکر اپنی امانت واپس حاصل کرنے کی جنگ لڑرہے ہیں۔  جب حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا ووٹ اکٹھا کیا جائے تو اس دھاندلی کے باوجود حکومتی بینچوں پر بیٹھے لوگوں سے پھر بھی زیادہ یہ ووٹ ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آپ الیکشن کمیشن میں جائیں اور وہاں اپنی شکایت درج کریں۔ الیکشن کمیشن بے چارہ ہم سے بھی زیادہ  بے بس ہے۔ اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو آج قوم کی اتنی بڑی تعداد یہاں اسلام آباد میں موجود نہ ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکومتی جماعتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کسی ٹریبیونل میں نہیں جانا، کسی الیکشن کمیشن میں نہیں جانا، کسی عدالت میں نہیں جانا بلکہ دھاندلی کی تحقیق پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔ ایک سال میں اس کمیٹی کی کوئی میٹنگ ہوئی اور نہ ہی اس کے کوئی قواعد و ضوابط طے ہوسکے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومتی بینچوں میں بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ اتنی بری دھاندلی ہوئی ہے کہ کسی ادارے کے سامنےشکایات پیش کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس اسی الیکشن کمیشن میں زیرسماعت ہے۔ پانچ سال ہوگئے وہ ناجائز حکمران پارٹی کا فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ نہیں کرسکتا، تو وہ دھاندلی کا فیصلہ کیسے کرے گا۔

خود تحریک انصاف کے اکبر ایس بابر رل رہے ہیں، جبکہ تم لوگوں سے حساب مانگتے ہو اور خود اپنے حساب کے حوالے سے کسی ادارے کے سامنے پیش ہونے کو تیار نہیں۔ دوسری پارٹی کے افراد پر اعتراض ہے کہ انہوں نے کرپشن کی ہے، یہاں تو پوری پارٹی کرپٹ ہے۔ ایسی قابل احتساب پارٹی آج پاکستان پر حکومت کر رہی ہے۔ کیا ہم اس کی حکومت کو تسلیم کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ  بات بڑی واضح ہے کہ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا، عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا اور اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایک بات میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اس اجتماع کے بعد یہ مطلب نہیں کہ ہمارا سفر رک گیا۔ آج کئی صحافی حضرات سے بات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ یہاں سے واپس جائیں گے اور اس کو پسپائی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں سے جائیں گے تو پیش رفت کی صورت میں جائیں گے اور آگے بڑھ کر اس سے سخت حملہ کرنے کی طرف جائیں گے۔ حکمرانوں کو بتائیں گے کہ آج ایک اسلام آباد بند ہے انشااللہ پورا پاکستان بند کرکے دکھا دیں گے۔ آج ایک اسلام آباد میں اجتماع ہے، پورے پاکستان کو اجتماع گاہ بنا کردکھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سفر اب رکے گا نہیں اور یہ سیلاب رکے گا نہیں بلکہ اپنے مقصد کے حصول تک جاری رہے گا۔ آئین کے اندر تمام محکمہ جات اور تمام اداروں کا کردار کا اپنا دائرہ ہے۔ اپنے دائرے سے وابستہ رہیں گے تو کوئی فساد ملک میں نہیں آرہا۔ یہ بات صرف میں نہیں کررہا ہے بلکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ از سر نو ایک عمرانی معاہدہ ہونا چاہیے۔ ہم آئین سے بہت دور چلے گئے ہیں۔

چیف جسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ہر ادارہ مداخلت کررہا ہے، عوام مطمئن نہیں ہیں کہ پاکستان میں آئین کی حیثیت کیا ہے لہٰذا تمام اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آئین محترم اور سپریم ہے اس کی بنیاد پر اس ملک کا نظام چلے گا اور یہ عہد و پیمان کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان کی عملداری اور اس کے تحت ہم اپنے وطن عزیز کے نظام کو چلا سکیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوری ادارے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں، جمہوریت نام کی چیز نہیں رہ گئی ہے۔ ہر شخص الیکشن میں عوام کی طرف دیکھنے کے بجائے کسی اور طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔ عوام کے ووٹ کو عزت دینا ہوگی۔ عوام کے ووٹ کو امانت سمجھنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ  عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عوام جو فیصلہ کرے جس کے بارے میں کریں ہمیں عوام کے فیصلے پر اعتراض نہیں ہوگا۔