مولانا فضل الرحمن کی مزاحمتی سیاست
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 04 / نومبر / 2019
- 4850
مولانا فضل الرحمن مذہبی سیاست کی بنیاد پر اپنا سیاسی کارڈ کھیلنے کی خوب صلاحیت رکھتے ہیں۔ اقتدار کے کھیل میں شراکت داری کو وہ اپنی سیاسی ضرورت او رکنجی سمجھتے ہیں۔
ان کے بقول سیاست او رانتخابات کا کھیل ہی اقتدار کا ہوتا ہے او راسی حکمت عملی کو وہ کامیاب طرز کی سیاست سمجھتے ہیں۔2013کے انتخابات سے لے کر 2018کے انتخابات کے نتائج تک مولانا اقتدار اور طاقت پر مبنی سیاست کے کھیل میں عملی طور پر سیاسی تنہائی کا شکار تھے۔ یہ سیاسی تنہائی ان کو تحریک انصاف یا عمران خان کی سیاست کی وجہ سے دیکھنی پڑی ہے۔مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا بڑا میدان خیبر پختونخوا ہے جہاں عمران خان کی سیاست کا غلبہ ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ 2018کے انتخابی نتائج نے مولانا فضل الرحمن کی انتخابی سیاست کو بہت پیچھے چھوڑ کر ان کے دکھ میں اور زیادہ اضافہ کردیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن اس وقت اسلام آباد میں حکومت مخالف آزادی مارچ یا سیاسی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ایک بڑے سیاسی اجتماع کی بنیاد پر ان کا مطالبہ یہ ہے کہ عمران خان فوری طور پر مستعفی ہوں او رنئے شفاف انتخابات کے لیے راستہ ہموا ر کریں۔ انہوں نے حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم دیا ہوا ہے او ران کے بقول اس کے بعد وہ آگے جانے سمیت تمام مزاحمتی اور عملی اقدامات کا اعلان کرسکتے ہیں۔یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اگرچہ مولانافضل الرحمن کا سیاسی ٹارگٹ عمران خان ہیں، لیکن ان کا مطالبہ عمران خان سے زیادہ اسٹیبلیشمنٹ سے ہے جو ان کے بقول سیاسی میدان میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اداروں کو بھی پیغام دیا ہے کہ وہ ان کے مطالبہ کی حمایت کریں۔مولانا فضل الرحمن کا بنیادی فہم یہ ہے کہ عمران خان کی اصل طاقت اسٹیبلیشمنٹ ہے او راسی طاقت کی بنیاد پر وہ سیاسی نظام پرقبضہ کیے ہوئے ہے۔
ماضی میں عمران خان بھی دھرنے کی سیاست کرچکے ہیں اور وہ بھی اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے استعفی نہیں لے سکے تھے۔ اب مولانا فضل الرحمن بھی وہی کچھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو غلطی عمران خان ماضی میں کرچکے ہیں۔ دھرنوں اور طاقت کے زور پر حکومتوں کو گرانے کا نتیجہ جمہوریت کے حق میں کم او راس کی مخالفت میں زیادہ آتا ہے۔بار بار کی سیاسی اور فوجی مداخلتوں نے پاکستان کی جمہوری سیاست کو کمزور کیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی او راخلاقی حمایت میں نواز شریف، شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، اسفند یار ولی خان، محمود خان اچکزئی، افتاب احمد خان شیرپاؤ او رمولانا انس نورانی کھڑے ہیں۔ لیکن پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن اگرچہ حکومت کے خاتمہ او رنئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر دھرنا دینے او رطاقت کے زور پر حکومت گرانے میں مولانا فضل الرحمن کی حکمت عملی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جبکہ اسفند یار ولی خان او رمحمود خان اچکزئی مولانا کے ساتھ کھڑے ہیں جو عملی طور پر حزب اختلاف کی تضاد ات پر مبنی سیاست کو نمایاں کرتی ہے۔
یہ جو کچھ اسلام آباد میں سیاسی دربار سجایا ہوا ہے اس کا بڑا کریڈیٹ مولانا فضل الرحمن کو جاتا ہے۔ کیونکہ عملی طو رپر یہ اجتماع حزب اختلاف کا نہیں بلکہ جے یو آئی کا ہے۔ مولانا فضل الرحمن ہی اس سیاسی سٹیج کے اصل دولہا ہیں اور دیگر حزب اختلاف کے راہنماؤں حیثیت براتیوں سے زیادہ نہیں او رنہ ہی حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکنوں کی معقول تعداد نظر آتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے یقینی طور پر اس آزادی مارچ سے اپنی سیاسی اہمیت بڑھائی ہے او ر سیاسی منظر میں ان کی شخصیت یا آزادی مارچ موضوع بحث ہے۔ اس نے دیگر حکومت مخالف راہنماؤں کو بھی مولانا فضل الرحمن کے پیچھے کھڑا کردیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا مولانا واقعی وزیر اعظم سے استعفی لے لیں گے اور ملک نئے انتخابات کی طرف بڑھ سکے گا، بظاہر تو ممکن نظر نہیں آتا۔ایسی صورت میں مولانا فضل الرحمن کیا کارڈ کھیلیں گے جو ان کو عملی طو رپر آزادی مارچ سے باہر نکلنے کا محفوظ راستہ دے سکے گا۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاسی حکمت عملی میں مذہبی کارڈ بھی ایک بڑا ہتھیار ہے۔ پاکستان کی مجموعی سیاست میں بہت سی سیاسی او رجمہوریت سے جڑی جماعتیں بھی اپنی سیاسی ضرورت کے تحت مذہبی کارڈ سیاسی مخالفین کے لیے کھیلتی ہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ ن او رایم ایم اے یا پاکستان قومی اتحاد یا اسلامی جمہوری اتحاد کی سیاست میں یہ جھلک نمایاں طو رپر دیکھی جاسکتی ہے۔ اس بار بھی عمران خان کے خلاف مولانا فضل الرحمن نے مذہبی کارڈ بھی کھیلا ہے۔ ختم نبوت، گستاخ رسول، دین او راسلام کا دشمن، یہودیوں کا ایجنٹ او راسلام دشمن قوتوں کا آلہ کار کے طور پر عمران خان کوپیش کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس آزادی مارچ میں بھی یہ کارڈ موجود ہے او رپیپلز پارٹی سمیت مسلم لیگ ن بھی کسی نہ کسی شکل میں اس کی حمایت یا اس پر خاموشی اختیار کرکے خود بھی اس جرم میں شریک ہیں۔
یہ پہلو دلچسپی کا ہے کہ اس آزادی مارچ میں ہمیں مجموعی طور پر مدارس او رمذہبی سیاست سے جڑے افراد ہی غالب نظر آئے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی سمیت تاجر، کسان، مزدور، نوجوان، عورتیں، بچے، بچیاں، استاد، دانشور، شاعر، ادیب، اقلیتیں سمیت دیگر طبقات کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی۔ حکومت کے خلاف عوامی تحریک کم او رایک مذہبی جماعت کی حکومت مخالف ریلی کہی جاسکتی ہے۔ یہ کہنا بھی بجا ہوگا کہ یہ متحدہ حزب اختلاف کی بجائے یک جماعتی تحریک ہے اور اس میں دیگر مذہبی جماعتیں بھی کسی بھی طرح شامل نہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ دیگر مذہبی جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کی اس سیاسی مہم جوئی سے خود کو علیحدہ رکھا اور کہا کہ ہم او رہماری جماعت مولانا فضل الرحمن کی اس حکمت عملی یعنی حکومت گراؤ سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔
مولانا فضل الرحمن نے پانچ نئے الٹی میٹم دیے ہیں۔ اول حزب اختلاف اجتماعی طور پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرسکتی ہے، دوئم پورے ملک میں شٹر ڈاؤن کی کال دی جاسکتی ہے، سوئم ملک کی بڑی شاہرائیں بند کی جاسکتی ہیں، چہارم پورے ملک گیر حکومت مخالف تحریک میں جلسے جلوس کی مدد سے شدت پیدا کی جاسکتی ہے، پنجم ہم اس جلسہ گاہ سے آگے جانے کا بھی اعلان کرسکتے ہیں۔یقینی طورپر مولانا فضل الرحمن دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں کی مدد سے بہت کچھ کرسکتے ہیں اور بہت آگے تک بھی جاسکتے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ مسلم لیگ ن او رپیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں مولانا فضل الرحمن کے کہنے پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان نہیں کریں گی۔ اور ایسا کرنا ان کے لیے سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا۔ اسی طرح دونوں بڑی جماعتیں اب کسی بھی شکل میں حکومت مخالف تحریک کی عملی قیادت مولانا فضل الرحمن کو دے کر ان کے پیچھے نہیں کھڑی ہوں گی۔یہ ہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی باڈی لینگویج بتارہی ہے کہ ان کو عملی طور پر سیاسی محاذ پر دیگرحزب اختلاف کی جماعتوں سے جنگجو طرز کی حکمت عملی پر تعاون نہیں مل رہا۔جہاں تک شٹر ڈاون کا تعلق ہے یہ مکمل طور پر ممکن نہیں اور حال ہی میں کافی حد تک حکومت او رتاجروں کے درمیان بہت سے معاملات پر جو ڈیڈ لاک تھا اور وقتی طور پر ختم ہوا ہے اور وہ مولانا یا کسی او رسیاست میں آخری حد تک نہیں جائیں گے۔
یہ بات پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کو بھی سوچنی ہوگی کہ انہوں نے حزب اختلاف کی سیاست میں ایک بڑا سیاسی خلا پیدا کیا اس کا نتیجہ مولانا فضل الرحمن کی تنہا سیاسی پرواز میں نظر آیا ہے۔ اگر حزب اختلاف کی سیاست کا ریموٹ کنٹرول مولانا فضل الرحمن کے پاس رہتا ہے تو اس کا نتیجہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی مزید سیاسی کمزور ی کی صورت میں سامنے آئے گا۔کیونکہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست سے اہم دو بڑی سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاسی ساکھ کا ہے اور ان کے مقابلے میں مذہبی سیاست کا ابھرنا قومی سیاست کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
اس تناظر میں حکومت کا بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ جیسے اب تک اس آزادی مارچ سے سیاسی طور پرنمٹنے کی کوشش کررہی ہے، اسی حکمت عملی کے تحت ہی اس مارچ سے پرامن طریقے سے نمٹ کر اسے ختم کرنا ہوگا۔ کیونکہ طاقت کا استعمال کسی بھی صورت میں حکومت کے حق میں نہیں ہوگا اور اس کا براہ راست فائدہ حزب اختلاف کو ہوگا جو خود حکومت کی کمزوری کا سبب بنے گا۔