حکمرانوں کو جانا ہوگا، اس سے کم پر بات نہیں بنے گی: مولانا فضل الرحمٰن
- سوموار 04 / نومبر / 2019
- 4120
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ناجائز حکمران کے ہوتے ہوئے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اور اس سے کم پر بات نہیں بنے گی۔
اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا آج حزب اختلاف کی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں رہنماؤں نے آزادی مارچ کے شرکا کو خراج تحسین پیش کیا۔ آج تمام سیاسی جماعتوں نے قائدین نے ہمیں یہ بھی یقین دلایا کہ وہ اس محاذ پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج تمام سیاسی جماعتوں کے مارچ میں شمولیت سے متعلق شکوک و شبہات دم توڑ گئے ہیں۔ آج یہ بات بھی دم توڑ گئی کہ کونسی سیاسی جماعت آپ کے ساتھ کس حد تک ہے اور کس حد تک نہیں اور اب ہمیں اگلے مراحل تک جانا ہے۔ آج ایک عجیب صورتحال ہے، 2014 میں انہوں نے ایک دھرنا دیا، جس میں حکومت اور اپوزیشن ایک طرف تھیں اور عمران خان ایک طرف تھا خدا جانے یہ کس کا نمائندہ ہے، عمران خان پہلے سلیکٹڈ تھے اب ریجیکٹڈ ہوگئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو طاقتور دیکھا چاہتے ہیں، عالمی برادری کی نگاہ میں محترم دیکھنا چاہتے ہیں۔ کمزور پالیسیوں کی نتیجے میں آج پاکستان تنہا نظر آرہا ہے۔ کیونکہ یہ پڑوسی ملکوں کو اعتماد نہیں دے سکتا، ہم عالمی برادری میں پاکستان کو تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو آواز بلند کی وہ پوری قوم کی آواز ہے۔ یہ آواز اس نوجوان کی آواز ہے جو اپنے مستقبل کو تاریک دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو قرضوں میں جکڑ دیا اور پوری طرح آئی ایم ایف کےشکنجے میں ہیں اور جتنا وقت ان کو ملے گا ایک ایک دن پاکستان کے زوال کا دن ہوگا۔ خارجہ پالیسی ان کی ناکام، داخلی طور پر پاکستان غیر مستحکم ہیں جبکہ پاکستان کے تمام ادارے ملکی استحکام سے متعلق اضطراب میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مذاکراتی کمیٹی بنا کر بھیجی کہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مذاکرات تو ہمیں کرنے ہیں شرط تو ہم لگائیں گے جبکہ نااہل حکومت کے ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ مذہبی لوگ ہیں خواتین کو نہیں آنے دیا جاتا۔ مذہبی بنیاد پر قوم کو تقسیم کرنا مغرب کی سازش ہے۔ ہم مذہبی شناخت رکھتے ہوئے بھی فرقہ واریت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں اور آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں غیر منتخب لوگ اقتدار پر قابض ہوں گے تو اضطراب ہوگا۔ بحیثیت شہری ہم مضطرب ہیں ہمارا اضطراب کون دور کرے گا۔ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اور قوم کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا اس سے کم پر بات نہیں بنے گی جبکہ ناجائز حکمران کے ہوتے ہوئے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ خطرے کی بات کیوں کی جاتی ہے، ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہم نے 15 'ملین مارچ‘ کیے ہیں جن میں اپوزیشن پارٹیاں شریک ہوئیں لہٰذا تصادم ہوگا تو قوم کے ساتھ ہوگا۔
قبل ازیں مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت اپوزیشن کی 9 جماعتوں کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں 5 سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، نیشنل پارٹی اور جمعیت اہل حدیث کی قیادت شریک نہیں ہوئی۔ جے یو آئی ذرائع کے مطابق اجلاس میں دھرنا جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کانفرنس کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تمام جماعتیں یک زبان ہیں اور احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کر لیے جائیں۔
دھرنے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ احتجاج جاری ہے اور جاری رہے گا تاہم حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے رابطہ کیا ہے لیکن آزادی مارچ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ختم ہوگا۔ ایسے ہم یہاں سے نہیں اٹھیں گے اور اگر ہمیں 4 ماہ بھی احتجاج جاری رکھنا پڑا تو جاری رکھیں گے۔