چوہدری برادران کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات
- منگل 05 / نومبر / 2019
- 5080
پاکستان مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی ہے۔ حکومتی و اپوزیشن کمیٹیوں کی ملاقات کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین کے ہمراہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی بھی موجود تھے۔
ملاقات کے بعد اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے چیئرمین اکرم درانی اور چوہدری پرویز الٰہی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور ملاقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ مفاہمت کے لیے یہاں آئے ہیں۔ امید ہے معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے مطالبات پیش کردیے ہیں جن پر تبادلہ خیال کے لیے وزیراعظم عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل اچھا ماحول پیدا کرنا ہے۔ ہر ممکن کوشش ہے کہ ماحول میں بہتری آئے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ معاملات چل رہے ہیں کوئی ڈیڈلاک نہیں ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جلد معاملات حل ہونے چاہئیں، اس سلسلے میں وزیر اعظم سے بھی ملاقات کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مایوسی کی طرف نہیں جانا۔ راستے نکالنے پڑتے ہیں کیونکہ دھرنے سے سب کے لیے معاشی اور اقتصادی مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔ اس موقع پر اکرم درانی نے کہا کہ چوہدری برادران کی خواہش تھی کہ وہ مولانا سے ملیں، ایسی ملاقاتوں سے ماحول کی بہتری میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی چوہدری برادران کے ساتھ بھائیوں کی طرح دوستی ہے۔ یہ تیسری نسل کی دوستی ہے اور اچھے دوستوں کی مدد سے حالات میں بہتری ہوتی ہے۔
اکرم درانی کا کہنا تھا کہ چوہدری برادران ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے آئے تھے۔ ہمارا کام ماحول کو بہتر بنانا ہے کیونکہ سخت ماحول سے مزید مسائل پیدا ہورہے ہیں، لہٰذا اس کے جلد حل میں سب کی بہتری ہے۔
قبل ازیں اسلام آباد میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان آزادی مارچ سے متعلق ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کے چیئرمین اکرم درانی نے کہا تھا کہ پرویز خٹک کی قیادت میں حکومتی مذاکراتی ٹیم آئی جس کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں اور آج تفصیلی بات ہوئی۔ ہم نے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھے جس کو انہوں نے سنا جبکہ اس کے علاوہ بھی گفتگو ہوئی۔
ان دونوں ملاقاتوں سے قبل مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ہوئی تھی، جس میں آزادی مارچ کے حوالے سے لائحہ عمل پر بات ہوئی تھی۔
اے پی سی کے بعد جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اے پی سی بہت مثبت رہی، تمام جماعتیں یک زبان ہیں اور سب کا مثبت کردار تھا۔