احتجاجیوں کے کسی غیر قانونی مطالبے کو تسلیم نہیں کریں گے: وزیراعظم
- منگل 05 / نومبر / 2019
- 4490
وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا کی جانب سے کسی غیر قانونی اور غیر آئینی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی سے ملاقات میں کہی۔
اجلاس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کے علاوہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک اور شفقت محمود شریک ہوئے۔ چوہدری پرویز الہٰی نے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور سیاسی صورتحال کی تفصیلات سے آگاہ کیا جبکہ مذاکراتی کمیٹی نے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتائیں۔
ملاقات میں موجود ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے دھرنے کے شرکا کے پرامن رہنے کو سراہا اور اور املاک کو نقصان نہ پہنچانے کے طرز عمل کی تعریف کی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائی کمیٹی کو فعال کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت میں کردار ادا کرنے پر چوہدری برادران کا شکریہ بھی ادا کیا۔
حکومتی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت نے لاہور سے خصوصی طور پر اسلام آباد آکر مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد پریس کانفرنس میں ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ معاملات چل رہے ہیں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی ڈیڈلاک نہیں ہے، معاملات جلد حل ہوجانے چاہئیں۔
دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم آج دوبارہ آزادی مارچ کے مطالبات پر گفتگو کے لیے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے ملاقات کرے گی۔