امریکی محکمہ خارجہ کی پاکستان کے بارے میں منفی رپورٹ، پاکستان کی مایوسی

  • منگل 05 / نومبر / 2019
  • 4420

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی محکمہ خارجہ کی اس رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے میں کایماب نہیں ہؤا۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اگرچہ طالبان سے مذاکرات میں مدد کر رہی ہے۔ لیکن اسلام آباد طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم نہیں کر سکا جو کئی خطرات کا باعث ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حکومت شدت پسند تنظیموں لشکرِ طیبہ اور جیش محمد کو فنڈز حاصل کرنے اور انہیں نئی بھرتیاں کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان جماعتوں کے اتحادی 2018 کے عام انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ماضی کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود تحریکِ طالبان پاکستان، جماعت الاحرار، داعش اور لشکر جھنگوی پاکستان میں دہشت گرد حملے کر رہی ہیں۔ امریکی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک حملوں میں ملوث افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور جیشِ محمد جیسی تنظیمیں پاکستان میں اب بھی کام کر رہی ہیں۔ دہشت گرد انفرادی لوگوں کے ساتھ اسکولوں اور سرکاری و مذہبی عمارتوں کو خودکش حملوں اور دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔

رپورٹ میں دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق کہا گیا ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایشیا پیسیفک گروپ میں شامل ہے۔ پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات کرنا ہیں۔ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی معاونت کو جرم قرار دیا ہے لیکن اس پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اس وقت بھی پاکستان میں قائم کچھ مدارس میں انتہاپسندی کا ڈاکٹرائن جاری ہے۔ مدارس پر حکومتی نگرانی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں حکومت کوششیں بھی کر رہی ہے۔ لیکن بہت سے مدارس رجسٹریشن کرانے سے گریزاں ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی محکمٔ خارجہ کی رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق مذکورہ رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے گزشتہ دو عشروں میں کیے جانے والے بے پناہ اقدامات اور قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے خطے سے القاعدہ کا مکمل خاتمہ ممکن ہوا۔ پاکستانی اقدامات سے نہ صرف یہ خطہ بلکہ دنیا ایک محفوظ مقام بنی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کئے گئے اور اس سلسلسہ میں پاکستان پرعزم ہے۔ پاکستان نے اپنی عالمی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے مؤثر قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں۔