انیس احمد کا ناول ’نکا‘
- تحریر خالد حسین تھتھال
- منگل 05 / نومبر / 2019
- 18530
میں ویساں جوگی دے نال (بُلھے شاہ)
”دور کہیں وادی سے اُٹھتی کوک سنائی دی تو جوگی پہاڑوں سے نیچے اترنے لگا۔ کبھی وہ بھی یوں ہی چھن چھن کرتے اُونٹوں کی لمبی قطار میں کسی کچاوے پر اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا چنن پیر کے میلے کو جایا کرتا تھا.“
ان الفاظ سے ناول شروع ہوتا ہے او ر یہ جملے ناول کے اختتام میں ہیں: ”نا حق ہم جوگی سنت سادھو صوفی ملنگ سچ کے کھوج میں عمریں گزار دیتے ہیں. چالیس سے اوپر تو میں نے بھی گزار دیے لیکن کیا ملا. سچ تو بچپن کی معصومیت کے ساتھ ہی ہم سے جدا ہو جا تا ہے. سچ جس کے ساتھ ہم پیدا ہوتے ہیں اور کھو دیتے ہیں. پھر زندگی بھر اسے تلاش کرتے رہتے ہیں بنوں میں، ویرانوں میں، کتابوں میں، آوازوں میں اور اپنے جیسے انسانوں میں۔“
”ریٹراسپیکٹو نیریٹو“ میں ناول کی پرتیں کھلتی جاتی ہیں. ناول کا مرکزی کردار نِکا بچپن سے ہی جوگیوں کی وضع قطع اور ان کے کمالات سن کر متاثر ہو جاتا ہے. ہاں ابا میں جوگی بنوں گا…… جوگی…… ہواؤں میں اڑوں گا……منکے اکٹھے کر کے لاؤں گا، نازو کے لیے……بہت سارے منکے….وہ اپنا ہار بنائے گی۔ جوگ کے پیچھے کوئی وجوگ کار فرما ہوتا ہے۔ یہ وجوگ معمول کی زندگی سے محرومی، سماجی، معاشی جذباتی خلا اور خلیج کے مختلف مدارج ہو سکتے ہیں۔ ایسے جُہد اور کشتٹ کے ماحول میں جوگ ایسا مسلک ہے جو زندگی اور سماج سے تعلّق کو انوکھے ڈھنگ سے قائم رکھنے کا اور داخلی طمانیت کا سبب سمجھا یا بتایا جاتا ہے.
نِکا ناول وسیع اورکشادہ پس منظر کا ناول ہے۔ جغرافیائی محلِ وقوع، جنوبی پنجاب روہی کا علاقہ ہے اور اس کا محور علاقہ میں بسنے والی انتہائی پسماندگی، غربت، محرومی اور ظلم و جبر کے ماحول میں اپنی شناخت، اپنا مذہب، اپنے رسم و رواج اور روایات تک کی پردہ پوشی کرتے زندگی بسر کرتی وہ لوکائی ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے تو رہ ہی رہی ہے۔ لیکن وڈیرے جاگیرداروں اور مذہبی پیر و پیشواؤں کے جبر اور زیادتیوں کا ایک نرک اس سے بھی سِوا ہے جو اپنے گھروں میں کام کرنے والے مزارعوں، مریدوں اور معتقدوں سے جو ان کے پاس مدد و اعانت، دعا اور فیض یاب ہونے کے لیے اپنی اپنی بساط کے مطابق یا ادھار لے کر نذرانہ پیش کرنے آتے ہیں وہ نہ صرف بے نیلِ مرام لوٹتے ہیں۔ بلکہ اور طرح کے معجزوں کے طفیل ذلّت و رسوائی کی دلدل میں دھنستے ہی چلے جاتے ہیں۔ ایسے ہی فیض سے امیر مائی کے بیٹے نِکے کا جنم ہوا۔
ناول نگار نے (سوشل ریلزم) سماجی حقیقت پسندی کے نقطہ نظر کے مطابق اس بستی کے باسیوں کو اس جہان میں جو جہیز ملا ہے اسے بہت باریک بینی سے دیکھ کروہ کھٹ کھلار کے دکھا دی ہے۔ ناول میں بٹوارے کے بعد کا زمانہ دکھایا گیا ہے۔ پرانے قلعے سے جڑی بیس پچیس گھروں کی بستی میں مقیم لوگ جن کی آپس میں رشتہ داریاں تھیں۔ کچھ نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے، نام تبدیل کر لیے ہیں اور کچھ ایسی ظاہری تبدیلی کے باوجود اپنے اندر اپنے دھرم گیان سے ہی پیوستہ ہیں۔ بھاگ بھری جو کبھی سِیتا تھی وہ بھی ان میں گامو کے ساتھ کیلاش سے بھاگ کرشادی کر کے یہاں آ بستی ہے۔ بھا گ بھری نے اپنے بھگوان اور دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں گھر میں چھپا رکھی ہیں، چھپ کر پوجا پاٹھ کرتی ہے جنہیں نکا دیکھ لیتا ہے اور بہت خوش اور حیران ہوتا ہے کہ دادی ابھی تک گڑیوں کے ساتھ کھیلتی ہے۔
”دینو نے یہ سن کر کہ دلاور کا نام مکھن لال ہے حیرت سے اچھلتے ہوئے کہا ”تو ہندو ہے تو دلاور نام کیسے رکھ لیا۔ یہ تو مسلمانوں والا نام ہے۔ دلاور ”کیا ہندو کیا مسلمان۔ دینو سائیں ہم تو جوگی ہیں کال بیلیا جوگی۔ ہم دین دھرم کے بھید بھاو نہیں جانتے ۔“
ناول میں کرداروں کی بہتات ہے۔ اگر اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے تو واقعی ان کے نام کتاب کے ایک ہی صفحہ پر تو آ ہی جاتے ہوں گے۔ یہ کردار ناول کا حصہ ہیں اور یہی اس ناول کی طوالت اور ضخامت کا باعث بھی ہیں۔ کرداروں کی تصویر کشی، ماحول کی منظر نگاری، کسی وقوعے واردات یا صور تحال کی جُزئیات نگاری بہت عمدگی سے کی گئی ہے۔ ہر کردار کی وضع قطع، اس کی جنس، عمر، پیشے اور معاشرے میں اس کے مقام اور مرتبے کے مطابق کی گئی ہے۔ روایتی سُوجھ سیانف کی بہت سی باتیں اس میں اور رچاوٹ بھرتی ہیں۔ جیسے ایک بار نکا جب شہر سے واپسی پر نازو کے بھائی ڈتو چرواہے کے ساتھ جاتا ہے اور اسے جلدی واپس آنا ہوتا ہے۔
’نکا رخصت ہونے لگا تو ڈتو نے ایک بکری کے گلے میں رسا ڈال کر نکے کو پکڑاتے ہوئے کہا ’یار اسے بھی واپس ڈیرے پر لیتا جا۔ اس کا لیلا بیمار تھا میں ساتھ نہیں لایا۔ اب اسے دودھ پلانے کے لیے چلّا رہی ہے۔ نہ گئی تو کچھ کھائے پیے بغیر یوں ہی چلّاتی رہے گی…….اپنا ڈیرہ وہیں ٹوبے کے ساتھ ہی تو ہے اور ایسا کر, بکری کھُلی چھوڑ دے۔ یہ خود ہی تجھے ڈیرے پر لے جائے گی۔‘ ص318
” گامو کے کھنڈرانوالی پلٹ آنے پر چندومل کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ناشتے سے فارغ ہوتے ہی اس کے پاس چلا آتا اور دونوں بڈھے گئے وقتوں کو یاد کرتے حقہ گُڑ گڑاتے رہتے۔ کبھی پہروں چپ چاپ بیٹھے رہتے جیسے ایک دوسرے کے لیے ان کی موجودگی ہی کافی ہو۔“
کہانی اور کہانیوں کا تانا بانا مہارت اور سلیقہ سے بنا گیا ہے۔ اکثر کرداروں کی اپنی اپنی الگ کہانی ہے جو ناول میں تنوّع اور تفاوت کا باعث بنتی ہے جیسے دلاور، گام، گام، بھاگ بھری۔ یہ کہانیاں کہیں دوسرے کردار بیان کرتے ہیں اور کہیں کہیں وہ کردار خود بیان کرتے ہیں۔ دلاور موچی اپنی کہانی خو د بیان کرتا ہے.۔گام صاحب اپنے گھر میں نکے کے ساتھ ٹافیاں اُچھال اُچھال کر ہنس کھیل رہے ہوتے ہیں تو نِکا کپ بورڈ سے ٹکراتا ہے تو بہت سی نوادرات گرتی اور ٹُوٹ جاتی ہیں۔
”یہ فوٹو میری ماں نے کھینچا تھا،تصویر میں یہ سایہ اسی کا ہے۔ میں نے جب اسے آخری بار دیکھا تھا۔ تصویر میں یہ انگریز افسر دیکھ رہے ہو نا۔ کرنل براؤن ہے یہ مادر………… یہاں ریگستانوں میں کھنڈرات ڈھونڈتا پھرتا تھا اس کے ساتھ لندن بھا گ گئی۔“ کرنل براؤن کا نام سن کر نکا چونکا اور اسے بکسے میں رکھی داد ا کی خاکی یونیفارم یاد آنے لگی ”اری بھاگو! وہ تو اب لوٹنے والا نہیں۔ تجھے بتایا تو تھا کوئی وڈیرن لے اڑی تھی اپنے کرنل صاحب کو۔“
پیر صاحب نے اپنے بیٹے کی شادی پر بڑے بڑے لوگوں، سیاسی لیڈروں اور حکومت کے عہدیداروں کو مدعو کیا تھا۔ تا کہ انہیں اپنے ووٹروں کی تعداد سے مرعوب کرتے ہوئے الیکشن میں انتخابی ٹکٹ کا حصول یقینی بنا سکیں۔ اس بار نکے کے ساتھ امیرمائی بھی اپنے بھائی سجاول کو ملنے گئی تھی۔ گام صاحب اسے رات کو کندھے دبانے کے لیے بلاتے ہیں اوراسے اپنے قرب سے نوازتے ہیں.۔ واپس آ کر امیر مائی کی ذہنی حالت بہت بگڑ جاتی ہے۔ رات کو دریا پر نہانے چلی جاتی ہے۔ اپنا بدن ہر وقت رگڑ رگڑ کر صاف کرتی رہتی ہے۔
پھر اس کے غائب ہونے کے دو دن بعد امیر مائی کی لاش دریا میں بہت دور ایک جھاڑی میں اٹکی ہوئی ملی تو وہ اتنی پھول چکی تھی کہ اسے وہیں دفنا دیا گیا۔ باپ دادا اور لالے کے ساتھ نکا بھی اسے دفنانے گیا تھا اور تب اس نے دیکھا کہ ماں کے تن پر چھینٹ کا وہی قرمزی جوڑا تھا جو اس نے پیر صاحب کو نظرانہ دیتے وقت پہن رکھا تھا اور جو گھر لوٹنے کے بعد اس نے دوبارہ کبھی نہیں پہنا تھا۔ ”سچ تو یہ ہے کہ یہ ما یاوے پیر وڈیرے کسی کو نہیں چھوڑتے۔ شہرکے سارے کوٹھوں میں ان کی اولادیں رُلتی پھرتی ہیں۔“
نکے کو امداد میاں سے تب اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ اس کا باپ سلامو نہیں بلکہ نظام الدین جمال زادہ ہے۔ جب امداد میاں اس بات کا
اظہار کرتے ہیں کہ میری تو بچیاں ہی ہیں ”اللہ نے بیٹا دیا ہوتا تو اور بات تھی“ نکے کے یہ کہنے پر کہ ”پیر سائیں سے دعا کیوں نہیں کروائی میں بھی تو انہی کی دعا سے پیدا ہوا تھا۔“ امداد میاں درشتی سے بو لا ” کیا بکتا ہے نکے اپنی زال کو دعا کے لیے اس پیر سائیں کے پاس بھیجتا وظیفہ کرواتا، نرینہ اولاد کے لیے سُتھن اترواتا۔ اس نیک بخت کی جیسے تیری ماں نے۔“ یوں نکا اپنی اصلیت کو پا جاتا ہے۔
جب ملک خدا بخش نکے کے ساتھ اپنی بیٹی روبینہ کے کہنے پر اسے اپنے گھر بلا کر نکے کے ساتھ اس کی شادی کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں تو نکا اپنی اصلیت انہیں بتاتا ہے ”تو سچ تو یہ ہے انکل کہ میں اولاد تو پیر عظام الدین جمال زادہ کی ہوں لیکن جمال زادہ نہیں حرام زادہ ہوں۔ میری ماں کے ساتھ اپنے حجرے میں جلالی وظیفہ کیا تھا انہوں نے امیر مائی کے ساتھ پھر ان کی دعا سے میں پیدا ہو گیا میرا باپ تو سلامو لکڑ ہارا ہے انکل سلامو منڈا جس کا جھگا وہاں دریا پر ہے اور انکل………
”خاموش حرام زادے خبردار جو مجھے انکل کہا“
پھر وہاں نکے کی جو دُرگت بنتی ہے اسے ناول نگار نے کئی صفحات پر کما حقّہ بیان کیا ہے۔ پھر یہیں سے جوگ کا جنون جاگتا ہے۔ ایک درگاہ پر جوگیوں کی ٹولی میں بیٹھتا ہے۔ چرس کا ایک دم لیا تو ہوش آنے پر پوچھتا ہے کہاں جا رہے ہو؟ ٹلہ جوگیاں۔ جوگی جواب دیتا ہے۔ ضرور جا بالک کون روکتا ہے تجھے پر جس راہ پر چلنے کی تو سوچتا ہے۔ بہت کٹھن ہے۔ آدھے راستے سے ہی لوٹ آئے گا۔
سُن وارث کیا کہتا ہے:
؎ وارث جوگ دا پاؤنا بڑا اوکھا جوگ پاؤنا جان گواؤنا اے
مشہور شاعر نصیر کوی نے ٹلہ جوگیاں کی ثنا یوں کی ہے:
ساڈے سِر تے ٹلہ جوگیاں پیراں وچ ویہت وگے
مُکھ چمکے دیپک سُوریا من چندر جوت جگے
پتھر چوں چشمہ پھٹیا بن تیرتھ راج کٹاس
ایہہ امرت جل سورگ دا ایتھے بُجھدی روح دی پیا س
دھرتی دا سینہ چیردے لا ڈھگیاں وانگر زور
سا ڈی واج وچ شوکر ناگ دی ساڈی چُپ بلا دا شور
ساڈے سِر تے ٹلہ جوگیاں پیراں وچ ویہت وگے (۱)
ناول میں کہیں کہیں دیو مالا ئی اساطیری حوالے بھی ملتے ہیں۔اقتباس:
”سورج اب کافی اوپر اٹھ آیا تھا اور اس کی تپش سے گرم ہوتی ریت پاؤں جلانے لگی۔ جب وہ ہاکڑہ کے خشک بستر سے گزرنے لگا تو گامو نے پلٹ کر بھاگ بھری سے مزاقا کہا ’’ دیکھو بھاگو یہ وہی ہاکڑہ دریا ہے جسے تو سرسوتی مائی کا بیٹا بتاتی ہے۔ سرسوتی تو ہزاروں سال پہلے کہیں ریت میں کھو گئی۔ پر یہ ڈھیٹ ابھی تک یہیں ہے‘‘۔ بھاگ بھری نے ہاکڑہ کے خشک بستر کو دیکھا تو اونٹ پر بیٹھے بیھے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے پر ٹیکے پھر کریمو سے پوچھنے لگی۔ ’’بچڑا اس میں تو لہر آ ہی جاتی ہے نا کبھی کبھی‘‘۔ ہاں ماسی کریمو بتانے لگا۔’’ کبھی اوپر گھاگرا میں ہاڑ آجائے تو پانی کچھ دنوں کے لیے اس میں بھی چلنے لگتا ہے۔ بہار آ جاتی ہے سارے میں جانور مور پکھی اللہ کے بندے سب نہال ہو جاتے ہیں۔“
رِگ وید جو کہ پنجاب کی دھرتی پر رچا گیا ہے ” اس دی اک کوتا جس اندر سرسوتی دے جس گائے گئے نیں اج وی ہاکڑا گھاگھرا یاں سرسوتی ساہ لیندی اے. اج وی لوک گیتاں اندر اروڑ دے بند ٹٹن دی تانگھ اے رِگ وید اندر مروٹ دی حمد ہڑ آوے گا ہاکڑا اندر ا روڑھ والا بنھ ٹُٹے گا مچھی اتے لورسمہ دربارے ڈھویا جاوے گا ہاکڑا پھر بھی ویہسی ندیاں ویہسن بھر پور نہ جایا نہ جمسی سوڈھا راؤ اہمیر۔سوڈھا راؤ اہمیر تھر اندر حکمرانی کردے رہے. ایہہ مچھی دا ڈھویا اوہناں دے دربار اندر ہی ڈھون دا ایس گیت دے اندر ہوکا دتا گیا ہے‘‘۔ (۲)
گامو نے بھاگ بھری سے وعدہ کر رکھا تھا کہ مرنے کے بعد تیری راکھ جلا کر دریا میں بہا دوں گا. نکا ایک بار جب شہر سے واپس آتا ہے تو گامو اس کے ساتھ رات کے اندھیرے میں دادی کی باقیات قبر سے نکال کر دریا کے کنارے جا کر جلا کر راکھ ساتھ لے آیا۔ اور اگلے دن دریا پر جا کر گامو نے بھاگ بھری کی دھانی چادر پانی پر بچھا کر پھولوں کی پتیوں پر کجے سے راکھ الٹ دی جو دریا کی لہروں پر بہہ گئی۔
جوگی جب پچاس سال بعد واپس آتا ہے موہن لال سوداگر کی کھوئی غازی کی کھوئی کہلاتی ہے۔ بدمعاش ملکو ٹانگے والاکراڑ کی ہٹی لوٹنے آیا موہن لال کے پیٹ میں چھُرا بھی گھونپ دیا۔ بس ایک کراڑ کو مارنے پر لوگوں نے اسے غازی کہنا شروع کر دیا۔ وہ نازو کو ملتا ہے تو اس کے ساتھ ایک بچی ہے پُنل کی مٹھڑی۔ پوتری ہے یہ تیری ٖپُنل کی دھی ہے…تیرا خون ہے تو مجھ سے یہی سننے آیا ہے نا یہاں. نکا حیران ہوتا ہے کے پُنل……… پتہ چلتا ہے کہ اس کا خاوند قادر فوت ہو چکا ہے۔
”میرے دل پہ بھی بوجھ ہے نکے آج ہلکا کر لیتی ہوں. اب تک صرف ماں کو پتہ تھا۔ ابے کو کہہ کے قادر سے شادی کی۔ اب تو بھی جان لے تیرا حق بنتا ہے ۔نکے تو پیر کی دعا سے ہوا تھا نا تیری ماں لے گئی تھی دعا کروانے۔ میری ماں بھی مجھے اپنے پیر کے پاس لے گئی تھی اس کے نہ ہونے کی دعا منگوانے، پر یہ ہو گیا۔ قادر شودا زندگی بھر اسے اپنی ہی اولاد سمجھتا رہا. ہاں نکے پُنل تیرا پوتر ہے۔پھر نازو نے اس سے کہا کچھ روٹی بھاجی کروں جا کے ان کے لیے۔ تیرا من چاہے تو وہیں آ کر کھا لینا سب کے ساتھ۔ نہیں تو میں بھجوا دوں گی‘‘۔
نازو جانے لگی نکا بھی کھاٹ سے اتر آیا اور اپنا جھولا سنبھالتے ہؤئے بولا اچھا نازو مائی میں بھی چلتا ہوں بہت دور جانا ہے۔ نازو کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔ ایک لمحے کے لیے ٹھٹھکی. پھر الوداعی مصافحے کے لیے بازو بڑھاتے ہوئے بولی۔ پُنل سے نہیں ملو گے:
نہیں نازو نکے نے مصافحہ کرتے ہوئے کہا، ایک اور ادھورا رشتہ اٹھانے کی سکت اب نہیں ہے مجھ میں۔ اسے قادرے کا بیٹا ہی رہنے دو نازو۔ جوگی نازو کے ساتھ نہیں جاتا نہ ہی اپنے پتر پُنل کو ملتا ہے۔
سارا شہر بدلا ہوا ہے۔ قبرستان کی زمین پر قریشی صاحب نے قبضہ کر لیا ہے۔چھوٹی سی مسجد اب بہت بڑی سبز گنبد والی مسجد ہے جس نے پورا میدان اور کمہارو ں کی آدھی بستی کا احاطہ کر رکھا تھا۔ بہت سے سبزہ آغاز نوجوان اور بچے ہل ہل کر قران پڑھ رہے تھے اور مہندی سے رنگی بھاری بھاری لال داڑھیوں والے کچھ جلاد صورت استاد تھے جو چھڑ یاں لہراتے ان کے سروں پر کھڑے سبق سنتے اور پھر وقفے وقفے سے کسی شاگرد پر اندھا دھند چھڑیاں برساتے اسے ادھیڑ کر رکھ دیتے۔ پلٹ کر ایک نظر اس نے جھگے پرڈالی اور دریا کی خشک ریت پر چھوٹے چھوٹے قدم رکھتا تبت کو چلنے لگا۔
انیس صاحب نے بہت عرق ریزی سے ایسا ناول لکھا ہے جس میں حالات و واقعات کو واشگاف انداز میں بیان کرنے کے لیے جو پیرایہ اپنایا ہے وہ بہت قابل ِستائش ہے۔
(حوالہ کتاب. اُجڑے دراں دے درشن. اقبال قیصر)
(21اکتوبر اوسلو میں پاکستان فیملی نیٹ ورک کے زیر اہتمام ناول کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا)