فریڈم ہاؤس رپورٹ: پاکستان میں میڈیا اور جمہوری آزادی کی دگرگوں صورت حال
- بدھ 06 / نومبر / 2019
- 4880
صحافتی آزادیوں پر نظر رکھنے والی امریکی تنظیم فریڈم ہاؤس کی 2019 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان جمہوری، سیاسی، مذہبی، سماجی اور اظہار رائے کی آزادی کے لحاظ سے دنیا کے ایک سو ملکوں میں سے 39 ویں نمبر پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان آزادی،سیاسی حقوق، شہری آزادیوں کے حوالے سے جزوی طور پر آزاد ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان میں 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تاہم پاکستان کے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی، جس کا مقصد مبینہ طور پر پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم کو کامیاب کروانا تھا۔ جب کہ انتخابات سے قبل سیاسی بنیادوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں اور قائدین کے خلاف مقدمات بنائے گئے۔
عدالتوں اور ذرائع ابلاغ پر فوج کے مبینہ اثر و رسوخ میں اضافہ دیکھا گیا۔ سیاسی جماعتوں کو ذرائع ابلاغ تک مساوی رسائی حاصل نہیں تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی نوعیت کا مبینہ ’جوڈیشل ایکٹوازم‘ مسلم لیگ ن کے رہنماوں کے انتخابی میدان سے باہر رہنے کی وجہ بنا۔ ذرائع ابلاغ پر دباؤ اور مداخلت کی حکمت عملی نے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو عوامی توجہ سے محروم رکھا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018 کے دوران میڈیا زوال کا شکار رہا۔ جیو اور ڈان جیسے اداروں کو عارضی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافیوں کو سینسرشپ اور ملکی اداروں کی طرف سے دباؤ اور ہراساں کرنے کے واقعات کا سامنا رہا۔ پشتون تحفظ تحریک کی پر امن سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مبینہ طور پر ریاستی اداروں کو استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں 2018 کے انتخابی عمل کے دیگر مسائل میں خواتین کے ووٹر لسٹوں میں اندراج میں مشکلات، احمدی کمیونٹی کے لیے غیر مسلم اقلیت کے طور پر ووٹر لسٹوں میں اندراج کروانے کی شرط اور امیدواروں کی نامزدگی کے لئے مبہم اخلاقی شرائط کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی وجہ سے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں جہاں جنگجو گروپ اور قدامت پسند روایات کی وجہ سے خواتین کم ہی قائدانہ پوزیشن حاصل کر پاتی ہیں، خواتین کے ووٹوں کا تناسب کم رہا۔
رپورٹ میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنوں پر سخت سیکورٹی انتظامات انتخابی عمل کو شفاف بنانے میں معاون نہیں بلکہ اس میں حائل ہوتے نظر آئے۔ جبکہ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد سویلین حکومت خود کو فوج کی ترجیحات کے ساتھ زیادہ منسلک کرتی دکھائی دی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کرپشن کیسز کا سامنا کرتی رہی۔
رپورٹ کے مطابق،تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی تنظیمیں اور اعلٰی تعلیمی ادارے پبلک پالیسی کے کئی پہلووں پر بحث و مباحثے کا پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بلوچستان کی صورت حال، لاپتا افراد کا مسئلہ، افغانستان اور بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سرگرم بعض گروہوں کی سرگرمیوں اور ان کے طاقت کے مراکز سے روابط پر بحث کرنا ممنوعہ موضوعات میں شامل رہے۔ رپورٹ میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا حوالہ دے کر لکھا گیا ہے کہ پچھلے 10 سال میں پاکستان میں 22 صحافیوں کو قتل کیا گیا اور ان کے قتل کے ذمہ داروں کو اب تک سزائیں نہیں مل سکیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانت بھی ملک میں امتیازی قانون سازی، سماجی اونچ نیچ اور فرقہ واریت کو نہیں روک سکی۔ ہندو اقلیت اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کی شکایت کرتی رہی۔ عیسائی اقلیت توہین مذہب کے الزامات کے خدشے میں مبتلا ہے، جو کسی بھی معمولی تنازعے سے شروع ہو کر مجرمانہ حملوں اور ہجوم کے ہاتھوں تشدد کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں توہین مذہب کے الزام میں قید آسیہ بی بی کی رہائی کا بھی ذکر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر رہائی کے باوجود عوامی رد عمل کے خطرے کے پیش نظر انہیں 2018 کے آخر تک ان کی حفاظت کے لیے نا معلوم مقام پر رکھنا پڑا۔ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں احمدی کمیونٹی کے خلاف امتیازی سلوک کی مثال کے طور پر ماہر معیشت عاطف میاں کی وزیر اعظم پاکستان کی معاشی ٹیم کے رکن کے طور پر نامزدگی اور مذہبی حلقوں کی شدید مخالفت کے بعد برطرفی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
فریڈم ہاؤس کی درجہ بندی کے لحاظ سے بھارت اس فہرست پر 75ویں نمبر پر ہے اور شہری آزادیوں اور جمہوری حقوق کے لحاظ سے آزاد ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستانی اور بھارتی کشمیر کے لیے فریڈم ہاؤس رپورٹ کی درجہ بندی علیحدہ کی گئی ہے۔ بھارت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی کے ماحول میں بگاڑ آیا جب کہ ہندو شدت پسندی میں اضافہ دیکھا گیا اور سیکولر طرز عمل کم ہؤا۔ گائے ذبح کرنے کے الزام پر اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو مبینہ طور پر ہراساں اور زد و کوب کیا گیا اور ان پر حملے کیے گئے۔ بھارت میں عدالتی نظام انتظامیہ کے کنٹرول سے آزاد ہے۔ تاہم نچلی سطح کی عدلیہ میں بدعنوانی عام ہے۔
بھارتی زیر انتظام کشمیر کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کے باوجود ملزمان کو سزا نہیں ملتی ۔