نواز شریف سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا پہنچ گئے

  • بدھ 06 / نومبر / 2019
  • 5440

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا میں واقع اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے  ہیں۔

قبل ازیں لاہور کی احتساب عدالت سے رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس ضمانت پر رہا کیا گیا۔ جس کے بعد نواز شریف کو مریم نواز کے ہمراہ شریف سٹی ہسپتال منتقل کی جانے کی اطلاعات سامنے آئیں تھیں۔

شریف سٹی میڈیکل ہسپتال کی ایمبولینس میں نواز شریف کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف اور نواز شریف کے داماد کیپٹن(ر) محمد صفدر بھی موجود تھے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اونگزیب نے نواز شریف کی صحت سے متعلق بیان میں کہا کہ  نواز شریف کے علاج کے لیے ان کی رہائش گاہ پر انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) قائم کیا گیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ نواز شریف کی صحت کی نازک صورتحال کی وجہ سے ڈاکٹروں نے ان کی ملاقاتوں پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ ڈاکٹروں نے مریم نواز کو والد کی صحت سے متعلق سخت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ترجمان نون لیگ نے کہا کہ آئی سی یو میں وینٹی لیٹر اور کارڈیک کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔  نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہونے کے باعث نواز شریف کو انفیکشن کا شدید خطرہ ہے۔  انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے طبی خطرات کے پیش نظر نوازشریف کے لیے گھر پر خصوصی میڈیکل یونٹ بنانے کی تجویز دی تھی۔

ڈاکٹر عدنان کی زیر نگرانی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال نے نوازشریف کی رہائش گاہ پر انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کیا ہے۔ آئی سی یو یونٹ میں ڈاکٹرز 24 گھنٹے موجود رہیں گے۔ گزشتہ روز نواز شریف کو ان کی رضامندی سے ڈسچارج کیا گیا تھا اور انہیں شریف میڈیکل سٹی منتقل کیا جانا تھا۔ تاہم مریم نواز کا روبکار جاری نہ ہونے کی وجہ سے سابق وزیراعظم نے اپنی روانگی میں تاخیر کا فیصلہ کیا تھا۔ 21 اکتوبر کو نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی تھیں۔سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز کر رہے ہیں جبکہ اس بورڈ میں سینئر میڈیکل اسپیشلسٹ گیسٹروم انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اور فزیشن بھی شامل ہیں۔ ماہرین پر مشتمل ٹیم اب تک کوششوں میں مصروف ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی کی وجہ جان سکیں۔

اس دوران یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک لے جایا جاسکتا ہے جہاں ان کا بہتر علاج ہوسکے۔ لیگی رہنماؤں نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کردیا تھا کہ ان کی صحت کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں۔