ملک کا عدالتی نظام اورعدالتیں زیادہ تر ظالم کے ساتھ ہیں: بلاول بھٹو
- بدھ 06 / نومبر / 2019
- 5290
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی کے خلاف علیحدہ قانون کیوں بنایا جاتا ہے۔ عوام گواہ ہیں کہ ہمارے ملک کی عدالتیں اور عدالتی نظام زیادہ تر ظالم کا ساتھ دیتے ہیں۔
ملتان میں ہائی کورٹ بار کے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آئین دیا اور انہیں راولپنڈی میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں مار دیا گیا اور اب پارٹی کے نائب چیئرمین آصف علی زرداری کو راولپنڈی میں قید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مبینہ جرم اور اس کی ایف آئی آر سندھ میں ہو تو ٹرائل کیسے راولپنڈی میں ہوسکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ’اگر ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف نہیں دے سکتے تو ان کی بیٹی کو تو انصاف دو‘۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں ججز اور وکلا نے انصاف، جمہوریت اور آمریت کے خلاف جدوجہد کی اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے جوڈیشل قتل پر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو 10 برس پہلے صدارتی ریفرنس بھیجا تھا۔ عوام اور پیپلز پارٹی کے جیالے انتظار میں ہیں کہ عدالت تسلیم کرے کہ ذوالفقار علی بھٹو بے قصور تھے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے خود کہا تھا کہ اگر احتساب کیا تو موجودہ حکومت قائم نہیں رہ سکے گی اور ان کے بیان کے اگلے روز ہی ویڈیو لیک کردی گئی۔ نیب کو جمہوری حکومتوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ آج نئے پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے سب کے سامنے ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو جیلوں میں طبی سہولیات نہیں دی جارہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 2019 میں انصاف، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ پاکستان کی وکلا برادری انصاف کے حصول کے لیے لڑی اور پیپلزپارٹی نے آمریت کا مقابلہ کیا۔