حکومت درمیانی راستہ نکالنا چاہتی ہے تو تجاویز سامنے لائے: مولانا فضل الرحمٰن
- بدھ 06 / نومبر / 2019
- 4930
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے اگر حکومت کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہتی ہے تو تجاویز سامنے لائے، پھر اپوزیشن دیکھے گی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی اور پاکستان مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کےبعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اب تک مثبت جواب کا مرحلہ نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک ہم سب کا ہے۔ کشتی ڈوبتی ہے تو سب ڈوبتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں اضطراب موجود ہے اسے ختم کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن خود مانتا ہے کہ 95 فیصد فارمز پر دستخط تک نہیں ہیں، ایک سال میں پارلیمانی کمیشن کیوں فعال نہیں ہوا؟ ۔ عمران خان، ذوالفقار بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں۔ اگر انہوں نے دوبارہ الیکشن کروایا تھا تو یہ کیوں نہیں کراسکتے؟۔
اس موقع پرسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ نے کہا کہ کہ ڈیڈ لاک کے باوجود بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہی راستہ نکالے گا۔
ادھر اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ میں شرکا کو بارش کے باعث سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ موسم سرما کا آغاز ہونے کے باعث ٹھنڈی ہواؤں سے مظاہرین کے بیمار پڑنے کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر سوشل میڈیا پر احتجاج میں شریک افراد کی مدد کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایک ٹوئٹر صارف نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ دھرنے کے مقام پر جا کر پر امن مظاہرین کو شیلٹر فراہم کریں۔ دوسرے نے لکھا کہ آپ کس طرح آرام سے سو سکتے ہیں جب کہ ہزاروں افراد سڑک پر سورہے ہیں۔ انہیں جذبہ خیر سگالی کے تحت برساتی، کمبل اور پلاسٹک شیٹ فراہم کی جاسکتی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی وفاقی دارالحکومت میں جاری آزادی مارچ کے شرکا کو موسم کے باعث پیش آنے والی مشکلات پر چیئرمین سی ڈی اے کو فوری طور پر دھرنے کے مقام پر جانے کا حکم دے دیا۔ ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ میں نے یہ اندازہ لگانے کے لیے کہ بارش اور بدلتے موسم کے حوالے سے شرکا کو کیا امداد فراہم کی جاسکتی ہے، چیئرمین سی ڈی اے کو فوری طور پر دھرنے کے مقام پر جانے کا حکم دیا ہے۔