کرپشن معاشرے کا ناسُور ہے
- تحریر طارق محمود مرزا
- بدھ 06 / نومبر / 2019
- 14170
ہم سامان کی ٹرالی لے کر بینظیر ائرپورٹ اسلام آباد کے بین الاقوامی ٹرمینل پر پہنچے ہی تھے کہ پورٹر نے آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کردیں۔ ”صاحب مجھے خدمت کا موقع دیں۔ میرے ہوتے ہوئے نہ تو آپ کے سامان کی تلاشی ہوگی اور نہ زائد سامان کا کرایہ دینا پڑے گا۔“
”اس خدمت کے عوض آپ کو کیا دینا پڑے گا ؟“ میں نے پوچھا ۔ اس نے سامان دیکھا اور بولا ” تین ہزار دے دیں، اس میں کسٹم، ائرلائن اور دوسرے کئی محکموں کا حصہ ہوتا ہے“ ۔ ”لیکن ہمارے سامان میں کوئی قابلِ اعتراض چیز ہے ہی نہیں، نہ ہی یہ مقررہ حد سے زیادہ ہے“ ۔ اس نے ایسی نظروں سے مجھے دیکھا جیسے اُستاد نادان طالب علم کو دیکھتے ہیں اور گویا ہو ”صاحب کسٹم والوں سے مک مکاؤ نہ ہو تو وہ سارا سامان کھول کر بکھیر دیتے ہیں جسے اس رش میں سمیٹنا اور پیک کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی طرح چیک اِن کے وقت تھوڑا بہت زائد سامان نکل ہی آتا ہے۔ اس زائد سامان کا کرایہ آٹھ سو روپے کلو چارج کیا جاتا ہے۔ کبھی وہ آپ کے دستی سامان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ میں ساتھ ہوں گا تو اس تمام جھنجٹ سے بچ جائیں گے“۔
میں پچھلے تیس برس سے بیرونی سفر کر رہا ہوں۔ پورٹر نے جو نقشہ کھینچا تھا وہ بالکل درست تھا۔بیرونِ ملک جانے والے ہر مسافر کو انہی حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔اُسے یا تو رشوت دینی پڑتی ہے یا پھر کسٹم، ائر لائن اور ائیر پورٹ پر موجود دوسرے عملے کے ہاتھوں ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ پچھلے تیس برسوں سے جب سے میں سفر کر رہا ہوں کرپشن کی یہ صورتِ حال جوں کی توں قائم ہے۔اس دوران جمہوریت، آمریت اور عسکری ہر طرح کی حکومتیں بدلتی رہیں لیکن کرپشن کا یہ جن کسی کے قابو میں نہیں آیا یا پھر دانستہ اسے کھلا چھوڑ ا گیا تاکہ آنے جانے والے مسافروں کی جیبیں ہلکی ہوتی رہیں۔جب میں یہ سطور تحریر کر رہا تھا یہ خبر آئی کہ گوادر میں ستر کروڑ روپے کی سرکاری زمینوں پر با اثر افراد نے کرپشن کے ذریعے قبضہ کر لیا ہے۔
یہ صر ف دو مثالیں ہیں ورنہ کرپشن کا یہ زہر پاکستان کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ اس زہر نے پوری سوسائٹی کی جڑیں، تنا اور برگ و بار سب کو زہر آلود اور کھوکھلا کر دیا ہے۔ کوئی محکمہ، کوئی ادارہ، کوئی دفتر، کوئی جماعت اور انجمن اس زہر سے محفوظ نہیں ہے۔اس زہر آلود ماحول میں حق، سچ، میرٹ اور قابلیت نیم مردہ اور نڈھال پڑے ہیں۔ ان کی جگہ اقربا پروری، نا انصافی، رشوت، سفارش اور نااہلی راج کر ہی ہے۔ قابلیت، اہلیت اور صلاحیت کی یہاں کوئی وقعت نہیں ہے ہر جگہ نالائق، نااہل اور سفارشی لوگوں کا قبضہ ہے۔ یہ نااہل اور سفارشی اپنے جیسے لوگوں کو آگے لا کر اور اہل لوگوں کو پیچھے دھکیل کر اس کرپٹ سسٹم کو مزید کرپٹ کر رہے ہیں۔ یوں یہ لوگ انتہائی منظم انداز میں پورے معاشرے کو کرپشن زدہ معاشرہ بنا رہے ہیں۔
کرپشن آج کے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ باقی سارے مسائل اس کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔ اگر کسی اہم کرسی پر کسی کرپٹ شخص کو بٹھا دیا جائے تو اس سے ملک اور عوام کی بہتری کی کیسے توقع رکھی جا سکتی ہے۔ایسا شخص حق، ایمانداری، سچائی، محنت اور حب الوطنی کو کیسے اور کیوں پنپنے دے گا۔ببول کے پودے پر پھل اور پھول تو آنے سے رہے۔ایسا شخص اہل اور حق دار لوگوں کو آگے آنے سے حتی الوسع روکے گا۔ اس میں وہ جُر ات اور بہادری بھی نہیں ہو گی جو زندہ قوموں کی نشانی ہو تی ہے۔ جس طرح ایک مردہ جانور پورے تالاب کو ناپاک اور گندہ کر دیتا ہے اس طرح ان کرپٹ لوگوں نے پورے معاشرے کو آلودہ کر دیا ہے۔اس کے اثرات آج ہمیں جا بجا نظر آتے ہیں۔ معاشرے سے خیر و برکت اٹھ چکی ہے۔ صبر، قناعت، برداشت، تحمل اور اخوت کا جذبہ ناپید ہو چکا ہے۔حق اور انصاف کے علمبردار اور برائی کو برا ئی سمجھنے والے یا تو ناپید ہو چکے ہیں یا ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں ہے۔ راشی اور کرپٹ لوگ گردن اکڑا کر دندناتے پھر رہے ہیں وہ اپنے کرتوتوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے اپنے کارناموں پر فخر کرتیہیں۔ میں نے اپنے کانوں سے کئی لوگوں کو کہتے سنا کہ ہماری تنخواہ تو محدود ہے لیکن اوپر کی آمدنی کافی ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو معاشرے، قانون اور خدا کا خوف بھی نہیں ہے اور ان کا ضمیر بھی انہیں ملامت نہیں کرتا۔ انہی کے بارے کہا گیا کہ ”ان کی آنکھوں پر پردہ اور دلوں پر مہر ثبت ہو چکی ہے‘‘ (القرآن)۔
جب کسی معاشرے میں کرپشن اس حد تک گھر کر لے کہ بحیثیت مجموعی اسے برا نہ سمجھا جائے تو اس معاشرے کا زوال یقینی ہے۔ ایسے معاشرے سے اصول پسندی، ِ اخلاقی جرات اور قوّت ایمانی بھی جاتی رہتی ہے۔ وہاں صبر، قناعت، ایمانداری، اخوت اور جذبہ قربانی بھی باقی نہیں رہتی۔ وہاں صرف انحطاط، افراتفری، خود غرضی، لالچ، طمع اور ناانصافی رہ جاتی ہے۔ کیا ہمارا معاشرہ آج وہی تصویر پیش نہیں کر رہا۔ آج ہر طرف نفسا نفسی، راتوں رات امیر بننے کی اندھا دھند دوڑ، دولت اور طاقت حاصل کرنے کی بے مہار ریس اور دوسروں کو پیچھے دھکیل کر یا ان کے حق پر ڈاکہ ڈال کر آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اس دوڑ میں بھائی بھائی کا گلا کاٹنے کے لئے تیار بیٹھا ہے، دوست دوست کو لوٹنے کے منصوبے بنا رہا ہے اولاد والدین سے کنارہ کشی کے لئے تیار ہے۔ کوئی دوسرے کو خوش دیکھ نہیں سکتا۔ آج ہر آدمی ایک ہی مشن پر کاربند ہے کہ کس طرح جلد سے جلد دولت کے انبار اکٹھے کر لے اور اس انبار پر کھڑے ہوکر دوسروں کو نیچا دکھا سکے۔ کسی کو پرواہ نہیں ہے کہ حصولِ مقصد کے لئے کن اخلاقی اصولوں،ملکی قوانین، حقوق العباد، احکامِ الہی سب کو پسِ پشت ڈال کر یہ آگ جمع کی ہے۔ کوئی یہ سوچنے کے لئے تیار نہیں کہ ایک دولت کو پانے کے لئے انسان کتنی اہم چیزیں کھو دیتا ہے۔کیا دولت اتنی اہم ہے کہ اس کے لئے انسان قیمتی رشتے، محبتیں، بھروسا،دوستی،قانون، مذہب اور اللہ کی خوشنودی سبھی کچھ داؤ پر لگا دے۔اس چند روزہ زندگی کے لئے دنیاوی دولت اتنی اہم کیسے ہو گئی۔ کیا ایسی دولت سے انسان کو سکون مل سکتا ہے۔ کیا ناجائزذرائع سے دولت اکٹھی کرنے والے کا ضمیر ملامت نہیں کرتا۔کیا اسے خدا یاد نہیں آتا۔ ایسا شخص اپنے خالق و مالک کا سامنا کیسے کر پائے گا۔ کیا یہ دولت اسے بچا پائے گی یا اس الٹا اس کے گلے کا پھندہ بنے گی۔
ہمارے معاشرے میں دولت کی اہمیت اتنی بڑھگئی ہے کہ لوگ اپنا تعارف اپنی دولت، اپنے بنک بیلنس، اپنی گاڑی اور اپنی کوٹھی کے سائز سے کراتے ہیں۔ کسی اجنبی سے پہلی ملاقات ہو یا کسی پرانے جاننے والے سے کچھ وقفے کے بعد ملنا ہو تو اگلے دو منٹ میں وہ اپنی کتابِ امارت کا ایک ایک صفحہ پڑھ کر سنادیتے ہیں۔وہ اپنی دولت کے مسلسل ذکر سے آپ کو متاثر کرنے میں یوں جُت جاتے ہیں جیسے شاعر اپنا کلام سنا تے ہیں۔ اوپر سے شاعروں کی طرح داد کی بھی توقع کی جاتی ہے۔ایسے میں وہ احباب جو اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں، ان کے دل پر کیا گزرتی ہو گی اس کا ا ندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اسی لئے دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی اس دوڑ میں شامل ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہ اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں دولت ہی سب کچھ ہے۔
اگرچہ کرپشن کو لگا م دینا اور معاشرے میں قانون کی علم برداری قائم کرنا حکومت کا کام ہے۔ اگر حکمران ایماندار ہوں اور وہ اس بیماری کا قلع قمع کرنا چاہیں تو یہ کام مشکل نہیں ہے۔ لیکن جس معاشرے کے حکمران کرپٹ ہوں اس کو سدھارنا ناممکن ہے کیونکہ یہ بیماری اوپر سے نیچے تک بلا رکاوٹ پھیل جاتی ہے۔ تاہم ا فراد کی انفرادی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ زندگی کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔
میں مغربی معاشرے میں رہتا ہوں جو مادی دنیا ہے۔ یہاں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن کا کوئی مذہب نہیں، کسی خدا کو نہیں مانتے، دینی سزا اور جزا پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کے باوجود اس معاشرے کی اکثریت دولت اکٹھی کرنے پر یقین نہیں رکھتی۔ اکثر یت کا بینک بیلنس نہیں ہوتا۔ وہ اتنی دولت کماتے اور جمع کرتے ہیں جو ان کی زندگی میں کام آئے اور بس۔ان کی بھی اولاد ہوتی ہے، ہر والدین کی طرح انہیں بھی یہ عزیز ہوتی ہے۔ وہ اسے تعلیم و تربیت دے کر اپنے فرض سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اولاد کے لئے مال اور ترکہ چھوڑنا انہیں خراب کرنے کے مترادف ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی اپنی کوشش اور اپنی محنت سے بناتا ہے۔ اس کے لئے اسے سارے مواقع میسر ہوتے ہیں پھر اس کا انحصار کسی دوسرے پر کیوں ہو، چاہے وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔
میں یہاں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے عین عروج کے وقت اپنا کاروبار اس لئے سمیٹ لیا کہ انہیں مزید دولت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ کم سے کم دولت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ خوشیاں سمیٹنے لمبے دورے پر نکل جاتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک شخص نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنا گھربیچ دیا ہے اور بیوی کے ساتھ دنیا کی سیر کے لئے جا رہا ہے۔ ایک بڑی پوسٹ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے والے اس آدمی نے بتایا کہ وہ دورانِ سفر محنت مزدوری کر کے اپنا جیب خرچ بناتے رہیں گے اور فطرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوں گے۔سوچیں تو اس شخص کے پاس دولت کے انبار نہیں ہیں لیکن وہ کتنا ہلکا پھلکا ہو کر سکون کی نیند سوتا ہو گا۔ اس سے زیادہ زندگی میں اور کیا چاہئے۔پاکستان میں کچھ لوگوں نے اتنی دولت جمع کرلی ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے لیکن وہ پھر بھی کرپشن سے باز نہیں آتے۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنی دولت کا وہ کیا کریں گے۔اس چند روزہ زندگی میں تو اس کی قطعاََ ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی وہ اسے ساتھ لے کر جا سکتے ہیں تو وہ یہ آگ کیوں جمع کر رہے ہیں۔
دوسری طرف عوام کا معیار بھی نرالا ہے۔ وہ امیر اور بااثر لوگوں کو جھک کر سلام کرتے ہیں، انہیں توقیر دیتے ہیں انہیں ووٹ دے کر اسمبلی میں پہنچاتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی میں ایماندار،محنتی اور خوش اخلاق شخص کی وہ قدر نہیں ہے جو صاحبِ ثروت کی ہے۔ معاشرے میں دولت کی نمائش اور اس کے پیچھے دوڑنے کا یہ سلسلہ آخر کہاں رکے گا۔ ہم تو ایمان کی دولت سے بھی مالا مال ہیں پھر دنیاوی دولت کی اتنی ہوس کیوں؟اللہ اور اس کے رسولؐ کا قانون اور مقصدِ حیات واضح ہے۔ اللہ کے نبیؐ نے واضح فر دیا تھا کہ اللہ کے نزدیک وہی برتر ہے جو تقویٰ میں بر تر ہے ۔ یہ معیار کب، کیوں اور کیسے بدل گیا ہے۔
مہذب دنیا کے اصول کچھ اور ہیں۔پوری دنیا میں پسندیدہ لوگ وہ ہوتے ہیں جن کا اخلاق اچھا ہوتا ہے۔ وی آئی پی وہ ہوتا جس نے ملک اور قوم کے لئے کوئی کارنامہ سرانجا دیا ہوتا ہے۔ مثلاََ کسی تقریب میں قومی سطح کا کوئی کھلاڑی بھی ہو اور وہاں وزیرِ اعظم بھی موجود ہو تو مہمانِ خصوصی وزیرِ اعظم نہیں کھلاڑی ہو تا ہے۔ کیا ہم نے پنے اصل ہیروز کو یاد رکھا ہے یا سیاست دانوں کی گاڑی کی بتیوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے عمر گزار دی ہے۔
ہمیں اپنی ترجیحات کا از سرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگرہم سادگی اختیار کر لیں اور اپنے جیسے سادہ لوگوں کو ترجیح دیں تو یقین کریں اس سے نہ صرف معاشرے بلکہ ہماری زندگیوں میں بھی آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی۔ خدا ہم سب کو آسانیاں دے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔