صدر ٹرمپ نے امداد بحال کرنے کے لئے یوکرائین پر دباؤ ڈالا تھا: سفارت کار
- جمعرات 07 / نومبر / 2019
- 5550
یوکرائن میں تعینات امریکی سفارت کار بل ٹیلر نے اقرار کیا ہے کہ یہ مکمل طور پر واضح تھا کہ یوکرائن کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روکی گئی امداد اس وقت تک جاری نہیں کی جائے گی جب تک یوکرائن سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کا آغاز نہیں کرتا۔
صدر ٹرمپ کے خلاف جاری مواخذے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایوانِ نمائندگان کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے پچھلے ماہ دیے گئے بیان میں بل ٹیلر کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے لیے امریکی سفیر گورڈن سونڈ لینڈ نے انہیں متعدد بار بتایا کہ صدر ٹرمپ اسے کچھ دو اور کچھ لو کے طور پر دیکھتے تھے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر کا یہ مؤقف رہا ہے کہ یوکرائن کی روکی گئی امداد کو جو بائیڈن کے خلاف کی جانے والی تحقیقات سے مشروط نہیں کیا گیا تھا۔
بل ٹیلر کا مزید کہنا تھا کہ گورڈن سونڈ لینڈ نے یوکرائن کی حکومت کو کہا کہ انہیں یہ تحقیقات کرنی ہوں گی۔ بل ٹیلر کا بیان حلفی بدھ کے روز جاری کیا گیا۔ وہ آئندہ ہفتے صدر ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مواخذے کی سماعت میں بیان دیں گے۔ صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے اراکین کے سامنے بل ٹیلر کا کہنا تھا کہ انہیں یہ مکمل طور پر واضح تھا کہ یوکرائن کو سیکیورٹی مقاصد کے لیے امداد تب تک جاری نہیں کی جائے گی جب تک یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی تحقیقات شروع کرنے کا وعدہ نہیں کرتے۔
بل ٹیلر کا بیان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار ڈیوڈ ہیل کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ ڈیوڈ ہیل نے کہا تھا کہ یوکرائن میں تعینات سابق امریکی سفیر میری یووانوچ کو ان کے عہدے سے اس لیے فارغ کیا گیا کیونکہ وہ جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کروانے میں رکاوٹ سمجھی جا رہی تھیں۔
خیال رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی منظوری دی ہے۔ صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرائن کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا۔ جو بائیڈن 2020 میں صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے مقابلے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواران میں سرِ فہرست ہیں۔
ڈیموکریٹس نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے سے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی سماعت کی جائے گی۔ اس سماعت کا مقصد صدر ٹرمپ کے خلاف جاری مواخذے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایوانِ نمائندگان کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے ریکارڈ کردہ بیانات کو عوام کے سامنے لانا ہے۔
اس سماعت میں سب سے پہلے یوکرائن میں تعینات سفارت کار ولیم ٹیلر اپنا بیان بدھ کو ریکارڈ کروائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرائن کو روکی جانے والی امداد کچھ دو اور کچھ لو کے وعدے کے تحت روکی گئی تھی۔
ولیم کے علاوہ یوکرین میں تعینات سابق امریکی سفیر میری یووانوچ عوام کے سامنے اپنا بیان جمعے کے روز دیں گی۔ ان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ انہیں جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کروانے میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ اس لیے انہیں ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ سرعام سماعت میں گواہی دینے والے پہلے ہی صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے اراکین کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔