حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے گا: رہبر کمیٹی کا فیصلہ
- جمعرات 07 / نومبر / 2019
- 5150
آزادی مارچ ساتویں روز میں داخل ہونے پر اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما اکرم خان درانی کی زیر صدارت اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی تجاویز زیر غور ہیں لیکن انہوں نے ان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
اکرم درانی کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز میں اقدامات کیے جائیں گے جن کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ آزادی مارچ 2 روز بعد ایک نیا موڑ اختیار کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے چوہدری پرویز الہی سے کہا ہے کہ جو فیصلہ ہوگا رہبر کمیٹی کے ممبران کے زریعے ہی ہو گا۔
رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ (ن) کے ایاز صادق، امیر مقام، جمعیت علما پاکستان کے اویس نورانی، جمعیت اہل حدیث کے شفیق پسروری، قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی کے سینیٹر طاہر بزنجو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے شرکت کی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ جلد قوم کو خوشخبری دیں گے۔ پرامید ہیں، چیزیں بہتری کی طرف جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے کے حل کے لئے جوڈیشل کمیشن سمیت بہت ساری تجاویز ہیں، جس پر مولانا راضی ہوں گے اسی پر بات کریں گے۔
قبل ازیں چوہدری پرویز الہیٰ نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب دعا کریں کوئی فیصلہ حتمی ہوجائے۔ ہماری طرف سے پوری کوشش جاری ہے کوئی کمی نہیں چھوڑنی، انشااللہ اچھا نتیجہ نکلے گا۔
واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ نے آزادی مارچ کے آغاز کے بعد سے مولانا فضل الرحمٰن سے متعدد مرتبہ مذاکرات میں معاونت کے لیے ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں میں 7 روز سے جاری آزادی مارچ کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔
اس سے قبل آزادی مارچ کے حوالے سے مذاکرت کے لیے قائم کی گئی رہبر کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا تھا۔ کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فریقین کا کہنا تھا کہ درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔