آزادی مارچ میں سیرت طیبہ کانفرنس

  • ہفتہ 09 / نومبر / 2019
  • 7440

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف جاری آزادی مارچ میں 12 ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت طیبہ کانفرنس ہورہی ہے۔

امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کی صدارت میں ہونے والی سیرت طیبہ کانفرنس سے پیر ذوالفقار نقشبندی خصوصی خطاب کریں گے اور دیگر علما میں مولانا ادریس، مولانا زاہد الراشدی، مولانا سعید یوسف، مولانا اسماعیل کاظمی، مولانا الیاس گھمن شامل ہیں۔

سیرت طیبہ کانفرنس میں ملک کے نامور قرا قاری ابراہیم، قاری عبدالرؤف اور قاری ادریس کے علاوہ نعت خواں مولانا شاہد عمران عارفی، حافظ منیر، عثمان قصوری اور حافظ عبدالباسط حسانی سمیت دیگر شریک ہوں گے۔ نماز عصر کے بعد شروع ہونے والی سیرت طیبہ کانفرنس رات گئے تک جاری رہے گی۔

اسلام آباد مین جمیعت علمائے اسلام کا آزادی مارچ جاری ہے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اس دوران نواز شریف نے آزادی مارچ کی حمایت کرنے کے لئے پارٹی قیادت کو ہدایات دی ہیں۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے لہجے کو تصادم کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی  قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنا تھا۔ کل میں نے یہ بات کہی تھی کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے لیکن اس میں ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ ہماری پوری بات اپنی قیادت تک پہنچانے کی جرات رکھتی ہے۔ لہٰذا ہم نے انہیں پیغام دیا کہ ہمارے پاس آؤ تو استعفیٰ لے کر آؤ خالی ہاتھ نہ آیا کرو۔

انہوں نے کہا کہ  قومی اسمبلی میں کمیٹی کے سربراہ نے جس لب و لہجے کے ساتھ تقریر کی ہے اس لب و لہجے نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں اور ان کی گفتگو مفاہمت کی نہیں بلکہ تصادم کی لگ رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے اندر واقعی مفاہمت کی خواہش ہے تو آپ کا لب و لہجہ اور پارلیمانی گفتگو بھی اس کی تائید کرے۔

اس دوران جمعیت علمائے اسلام کے رہنما بلال احمد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ دھرنا کے شرکا کے لیے 5 ہزار جیکٹس لانے والی اسلام آباد کی ایک گاڑی لاپتہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھنڈ سے بچنے کے لیے 5 ہزار جیکٹس کا آرڈر دیا گیا تھا۔  جیکٹس لانے والی گاڑی لاہور سے نکلی لیکن جہلم میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہے۔  گاڑی کے ساتھ ڈرائیور اور پارٹی رہنما بھی لاپتہ ہیں۔

اس دوران یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اپنے بھائی اور پارٹی کے صدر شہباز شریف کو مولانا فضل الرحمٰن سے فوری ملاقات کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کی ہدایت کے بعد شہباز شریف کی جلد اسلام آباد آمد متوقع ہے۔

ذرائع نے کہا کہ شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال پر مشاورت کریں گے جبکہ آزادی مارچ کے حوالے سے اہم فیصلوں پر بھی بات چیت ہوگی۔ نواز شریف نے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے 4 رکنی ٹیم بھی تشکیل  دی ہے۔ ٹیم میں احسن اقبال، خواجہ آصف، خرم دستگیر اور رانا تنویر شامل ہیں۔

ذرائع نے مطابق نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے چاروں ارکان کو مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ کنٹینر پر نظر آنے کی ہدایت بھی کی ہے۔