وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا
- ہفتہ 09 / نومبر / 2019
- 4870
وزیراعظم عمران خان نے سکھ برادری کے مذہبی پیشوا باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا ہے۔
ضلع نارووال میں واقع کرتارپور میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے علاوہ بھارت سے بھی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مذہبی امور پیرنور الحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری و دیگر افراد شریک تھے۔
بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، سابق کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو، بالی وڈ اداکار سنی دیول و دیگر ہزاروں سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کیا اور تقریب سے خطاب میں سکھ برادری کو بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کی مبارک باد دی۔
وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور سے جڑے منصوبوں کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے حکومت اتنی محنتی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جو بھی اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں آئے وہ انصاف اور انسانیت کا پیغام لے کر آئے۔ گرونانک کا نظریہ و فلسفہ بھی انسانیت اور محبت پ استوار ہے۔ وہ انسانوں کو تقسیم کرنے، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ ہم آپ کے لیے کرسکے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا برصغیر میں کرتارپور کی کیا اہمیت تھی۔ یہ جگہ سکھ برادری کا ’مدینہ‘ ہے۔ اللہ کے تمام پیغمبر لیڈرز تھے اور لیڈر نفرت نہیں بلکہ لوگوں کو ملاتا ہے۔ لیڈر نفرت پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا۔ نیلسن منڈیلا نے 27 سال برس جیل میں کاٹنے کے بعد اپنے مجرموں کو معاف کیا اور محبت کا پیغام دے کر خون کی ہولی سے ملک کو بچا لیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا کہ ’خطے میں سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے‘ اور تجارت اور سرحدیں کھولنے سے خوشحالی آسکتی ہے۔ میں نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ ہمارے درمیان کشمیر کا مسئلہ موجود ہے جسے ہم ہمسائیوں کی طرح بات چیت کرکے حل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیا جائے تو برصغیر کا خطہ ابھر سکتا ہے‘۔ عمران خان نے کہا میں نے یہ سب کچھ نریندر مودی سے کہا تھا لیکن اب یہ مسئلہ خطے کی حدود سے نکل کر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے۔ 80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کرکے انہیں بند کیا ہوا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا۔ نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں انصاف سے امن ہوتا ہے۔ ناانصافی سے انتشار اور انصاف سے امن پھیلتا ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور سارے برصغیر کو اس مسئلے سے آزاد کریں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں۔
کرتارپور آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ٹرمینل ون اور امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور یاتریوں کے لیے چلائی جانے والی شٹل سروس سے گوردوارہ پہنچے۔ جہاں انہوں نے گوردوارے کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔
امیگریشن کاؤنٹرز پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے یاتری کے طور پر پاکستان آنے والے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سے ملاقات کی۔ مصافحہ کیا اور ان سے خیریت بھی دریافت کی۔ بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شریک سابق بھارتی کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو سے بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ عمران خان نے دنیا بھر کے 14 کروڑ سکھوں کے دل جیت لیے ہیں۔ سکندر اعظم نے اپنی طاقت سے دنیا فتح کی۔ عمران خان آپ لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ عمران خان نے سکھ برادری پر جو احسان کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کےبعد پہلی بارپاکستان بھارت سرحد کی رکاوٹیں ختم ہوئیں۔ نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ اگر مسائل جپھی سے حل ہوسکتے ہیں تو سرحدوں پر خون خرابے کی ضرورت نہیں ہے۔
بھارتی آکال تخت کے سربراہ گیانی ہرپریت سنگھ کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر بھارت دروازہ نہ کھولتا تو ہم یہاں نہیں آسکتے تھے اور اگر پاکستان دروازہ نہ کھولتا تو ہم اندر نہیں آسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت ہی خوشیوں بھرا دن ہے۔ 72 سال بعد ہماری خواہش پوری ہوئی۔
زیرو لائن پر سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے من موہن سنگھ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ راہداری کھلنے سے پاکستان بھارت تعلقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ نے کرتار پور راہداری پر پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرتارپور راہداری کھلنے پر سب ہی خوش ہیں کیونکہ 70 سال سے ہماری خواہش رہی ہے کہ کرتار پور راہداری کھولی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی شروعات ہے امید ہے کہ راہداری کھلنے سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے۔