بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا حکم دے دیا

  • ہفتہ 09 / نومبر / 2019
  • 7270

بھارتی سپریم کورٹ نے 1992 میں شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اس متنازعہ جگہ پر رام مندر کی تعمیر کا حکم دیا ہے۔ مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متباد اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس بھارتی سپریم کورٹ رنجن گوگوئی نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ ایودھیا میں متنازع زمین پر مندر قائم کیا جائے گا جبکہ مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے نمایاں مقام پر 5 ایکڑ زمین فراہم کی جائے۔

ایک ہزار 45 صفحات پر مشتمل فیصلہ بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا جس میں ایک مسلمان جج عبدالنذیر بھی شامل تھے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مندر کی تعمیر کے لیے 3 ماہ میں ٹرسٹ تشکیل دیا جائے۔

فیصلے کے ابتدائی حصے میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کردیا۔ اہم ترین اور 27 سال سے جاری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ آثارِ قدیمہ کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بابری مسجد کے نیچے بھی تعمیرات موجود تھیں جو اسلام سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔ اس بات کے اطمینان بخش شواہد موجود ہیں کہ بابری مسجد کسی خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے مطابق آرکیالوجیکل سروے انڈیا (اے ایس آئی) نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ متنازع زمین پر 12 ویں صدی عیسوی میں مندر تھا اور نہ ہی خاص طور پر یہ بتایا کہ بابری مسجد کے نیچے پائی جانے والی تعمیرات مندر کی تھیں۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ اے ایس آئی رپورٹ میں اس انتہائی اہم بات کا جواب نہیں دیا گیا کہ بابری مسجد کسی مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی تھی۔

اس بات کا بھی کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں کہ 12 ویں صدی عیسویں سے 16ویں صدی عیسوی (جب بابری مسجد بنائی گئی) کے دوران کسی قسم کی تعمیرات موجود تھیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ مسلمانوں نے مذکورہ مسجد کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا، صرف وہاں نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ انہوں نے مسجد کی ملکیت نہیں چھوڑی تھی۔

سماعت کے دوران بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ مسلمان مسجد کے اندرونی مقام پر عبادت کرتے تھے جبکہ ہندو مسجد کے باہر کے مقام پر عبادت کرتے تھے۔ ہندوؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دیوتا رام کا جنم بابری مسجد کے مقام پر ہوا تھا غیرمتنازع ہے۔ مذکورہ زمین کی تقسیم قانونی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔

بھارت کی حکومتی شخصیات، سیاستدانوں اور ہندو لیڈروں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ سماعت کے بعد ہندو تنظیموں کے کارکنان خوشی مناتے ہوئے سڑکوں پر آگئے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ بھارتی ویب سائٹ کے مطابق مقدمے کے مدعی اقبال انصاری نے بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

بابری مسجد فیصلے کے حوالے سے پورے بھارت میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے تھے تاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں خصوصی طور پر سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا جبکہ حساس مقامات اور علاقوں پر پولیس کے گشت کو بھی بڑھا دیا گیا۔

یاد رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں مشتعل ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات ہوئے۔ ان میں 2 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا جاتا ہے۔  بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے اس مقام کا کنٹرول وفاقی حکومت اور بعدازاں سپریم کورٹ نے سنبھال لیا تھا۔

اس سے پہلے بھارت کی زیریں عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ کی متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم کی جائے۔ اس تنازع کے باعث بھارت کی مسلمانوں اقلیت اور ہندوؤں اکثریت کے مابین کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔ بابری مسجد کے حوالے سے مسلمانوں کا مؤقف ہے کہ یہ سال 1528 سے موجود ہے۔

1885 کے مقدمے کی دستاویزات سے مسجد کی موجودگی کا ثبوت ملتا ہے۔ مسلمانوں کے پاس اس جگہ کی ملکیت تھی اور وہ 22، 23 دسمبر 1949 تک یہاں عید کی نماز پڑھتے رہے۔

ہندوؤں کا مؤقف ہے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے اس جگہ مندر تھا جو صدیوں پہلے بنایا گیا تھا۔ اس مندر کو 1526 میں مغل بادشاہ بابر یا پھر 17ویں صدی میں ممکنہ طور پر اورنگزیب نے گرا دیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تاریخی دستاویزات جیسے سکاندو پرانا یا اس کے بعد میں آنے والے ایڈیشنز، سفرناموں اور دیگر کہانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہوا تھا۔

اس سے پہلے بھارت کی سپریم کورٹ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بابری مسجد اور رام مندر کی زمین کا تنازع حل کرنے کے لیے ثالثی ٹیم تشکیل دی تھی۔