شہدائے جموں

شہیدوں کے مقدس خون سے جو مشعلیں روشن ہوتی ہیں انہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں بجھاسکتی۔ جواقوام اپنے شہداء کویاداوران کامشن جاری رکھتی ہیں تاریخ ان پرنازکرتی ہے۔

 سرزمین پاکستان کوشہیدوں نے اپنے لہوسے سیراب کیا ہے لہٰذا یہ بنجر یابانجھ نہیں ہوسکتی۔یوم شہدائے جموں ہر سال 6 نومبر کو  یرغمال کشمیر، آزاد کشمیراور پاکستان  سمیت دنیا بھر میں ان کشمیریوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ نومبر 1947 میں جموں کے نواحی علاقوں سے پاکستان ہجرت کے وقت لاکھوں کشمیری مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ پاکستان کے قیام کے وقت کشمیری مسلمانوں نے بے حد خوشی اور مسرت کا اظہار کیا تھا اور قیام پاکستان سے پہلے 19 جولائی 1947 کو کشمیر میں اس وقت کی بڑی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے متفقہ طور پر پاکستان سے الحاق کی قرار داد پاس کی تھی۔

 15 اگست کو ریاست جموں کشمیر کے ہر شہر اور قصبے میں چراغاں کیا گیا اور پاکستان کے حق میں جلوس نکالے گئے۔ پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد، نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت ؐ اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند کیے گئے۔ اس جوش و خروش کو دیکھ کر ڈوگرہ حکومت لرز گئی۔ کانگریسی رہنماؤں نے انگریزوں اور شیخ عبداللہ کے ساتھ مل کر 27 اکتوبر 1947 کو ایک منصوبے کے تحت بھارت کے مسلح افواج کو رات کے اندھیرے میں جموں کشمیر میں اتار دیا تھا۔ اسی منصوبے کے تحت  مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لئے گھراؤ جلاؤ شروع کر دیا گیا۔ ادھم پور، راجوری ریاسی، رام نگر، بانیال، کٹھوہ کوٹلی اور دیگر مقامات پر مسلمانوں کو خون سے رنگین کر دیا گیا۔ ہزاروں باشندوں کو گھروں سے باہر نکال کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ہزاروں عفت مآب بچیوں اور خواتین کو اغواکر لیا گیا۔ یہ قتل عام اتنی منظم سازش سے ہوا کہ جموں شہر خبر نہ پہنچ سکی۔ جب نومبر کے ابتدائی دنوں میں جموں شہر میں قتل عام ہوا تو سرینگر کے لوگوں کو علم نہ ہو سکا۔

 یہ سب کچھ کانگریسی حکومت اور اس وقت کانگریس کے صدر اچاریہ کرپلانی کے ایما پر ہوا۔ جب وہ کشمیر گئے تو واپسی پر جموں کے مسلمانوں کے قتل عام کا حکم دے کر آئے۔ اس وقت رئیس الحرار چوہدری غلام عباس اور اے آر ساغر جیل میں تھے۔ مسلم کانفرنس میں  قیادت کا فقدان تھا۔ ان مشکل دنوں میں میاں نصیر الدین، محمد شریف ٹھیکیدار، منشی معراج دین اور چوہدری عبدالحمید نے دلیری اور شجاعت سے مقابلہ کیا۔ اس حوصلے کی مثال نہیں ملتی۔ جب گھراؤ جلاؤ شروع ہوا تو مسلمان جموں کے نچلے حصے میں آ گئے اور مورچے بنا لیے۔ کشمیری رہنما چوہدری غلام عباس کی بچیوں کو بھی اغوا کر لیا گیاتھا۔ حکومت اور کانگریس کی سرپرستی میں جن سنگھی غنڈے خواتین کی آبروریزی اور لوٹ مار کر رہے تھے۔

جب حکومت اور کانگریس نے دیکھا کہ مسلمان قابو میں نہیں آ رہے تو اعلان کیا گیا کہ پاکستان جانے کے خواہشمند اپنا سامان لے کر پولیس گراؤنڈ پہنچ جائیں۔ اس موقع پر میاں نصیر الدین  اور گورنر جموں کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے کہ جب حالات ٹھیک ہو جائیں تو مسلمان واپس آ جائیں اور پر امن طریقے سے پاکستان پہنچانے کا وعدہ کیا گیا۔ پاکستان کے عشق میں کشمیری اپنے آباؤ اجداد کے میراثوں کو چھوڑ کر پولیس لائن جمع ہو گئے۔ لوگوں کو سینکڑوں گاڑیوں میں سوار کر کے کٹھوا، ماوا، چیت گڑھ استواری و دیگر مقامات پر لا کر شہید کر دیا گیا۔ یہ داستان چار، پانچ، چھ نومبرکو بالترتیب دہرائی گئی جس سے  نازیوں کی روح بھی کانپ اٹھی اور شیطان نے بھی اپنا چہرہ چھپا لیا۔ جموں، ادھم پور، رجوری، ریاسی اور کٹھوا کے مسلمانوں کی اکثریت نے جام شہادت نوش کیا۔ اس کی تصدیق ہندو اور تمام غیر جانبدار مورخین نے بھی کی۔ اور لکھا کہ اس دوران تین سے چار لاکھ تک مسلمان شہید ہوئے۔

آج بھی جموں کشمیر میں 13 جولائی 1931، 27 اکتوبر 1947،  6 نومبر1947 شہدائے جموں کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ نسل کشی جاری ہے۔ دھونس، دھاندلی سے الیکشن کرا کر ہمیشہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں اس پر کشمیری قوم سراپا احتجاج ہے۔  بھارت کی 7لاکھ مسلح افواج سے لڑ رہے ہیں۔ تو اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کی آڑ میں پر امن کشمیریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اسی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔  5 اگست 2019 کے حالیہ بھارتی اقدامات بھی قابل مذمت ہیں۔ کیونکہ 1960 تک بھارتی حکمران UNO کی قرار دادوں پر عمل درآمد کرنے اور حق خود ارادیت دینے کے وعدے کرتے رہے لیکن اب مودی حکومت کے اقدامات نے ان سب کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ 3 ماہ سے کرفیو کا مسلسل نفاذ اور بنیادی سہولتیں نہ ہونے نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

 یوم سیاہ کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے درست کہا کہ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ کشمیری اس کے ساتھ ہیں تو مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کرا لے۔ خود ہی فیصلہ ہو جائے گا۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پانی سمیت دیگر کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اگر بھارت نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی اور خوفناک جنگ ہو سکتی ہے جو کہ جنوبی ایشیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔