’این آر او نہیں دوں گا‘ کا ملبہ
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- ہفتہ 09 / نومبر / 2019
- 8320
کہتے ہیں وہ سچا ہے کھرا ہے، ایماندار ہے۔ عدالت سے ثابت شُدہ صادق اور امین ہے۔ لیکن جب وہ کہتا ہے کہ نواز شریف حقیقی طور پہ بیمار ہے، اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ تو ہم یقین نہیں کرتے ۔
کہتے ہیں کہ نواز شریف فراڈ کر رہا ہے۔ کوئی بیمار شیمار نہیں۔ پیسے دے کے باہر جا رہا ہے۔ یعنی سچا اور کھرا جھوٹ بول رہا ہے۔ جس کے پاس معلومات کے تمام ذرائع ہیں. جس کے پاس تمام معلومات اصلی ہیں۔ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کے وزراء جھوٹ بول رہے ہیں۔ لیکن جن کے پاس کوئی مصدقہ معلومات بھی نہیں، صرف قیاس ہیں، وہ سچ بول رہے ہیں۔ ہے نا مزے کی بات۔
یا تو آپ تسلیم کریں ۔ کہ آپ کا صادق اور امین جھوٹ بول رہا ہے۔ یا یہ تسلیم کریں۔ کہ اس نے این آر او دیا ہے، جس کا وہ ڈھنڈورا پیٹتا رہا کہ وہ نہیں دے گا۔ اور اگر نواز شریف نے رقم دی ہے تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ آج کل کے دور میں تو ہر بات فوراً لیک ہو جاتی ہے۔ اور یہ اتنی بڑی بات کیسے خُفیہ رہ سکتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر رقم نکلوائی ہوتی تو کیا سچے اور کھرے صاحب نے اسے خُفیہ رکھنا تھا؟ کیا وہ اپنی اتنی بڑی کامیابی کو خُفیہ رکھتے؟ کیا وہ ایک ایسے معاملے کو مصلحت کا شکار ہونے دیتے جس کا انہیں بے پناہ سیاسی فائدہ ہو سکتا تھا؟
ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر نواز شریف نے رقم دی ہوتی تو خان صاحب اب تک ایک آدھ تقریر جھاڑ چُکے ہوتے۔ میاں صاحب کے ساتھ رقم کی وصولی کا معاہدہ دکھا چُکے ہوتے ۔ اور پھر تحریک انصاف کے میڈیا سیل ایک طوفان لا چُکا ہوتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وزیر اعظم ’این آر او نہیں دوں گا‘ نے اپنے مزاج کے برعکس تحمل بھرا بیان دیا ہے کہ کوئی این آر نہیں ہوا۔ میاں صاحب حقیقی طور پہ بیمار ہیں۔ اور ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جا رہا ہے تاکہ وہ علاج کے لئے بیرونِ ملک جا سکیں۔ نعیم الحق کہتے ہیں کہ حکومت روزِ اول سے ہی اس بات کے حق میں تھی کہ میاں صاحب کا عِلاج بیرون ملک ہو۔ ڈاکٹر یاسمین راشد روزانہ پریس کانفرنس کر کے میاں صاحب کی صحت کے بارے میں بریفنگ دیتی رہیں۔ کیایہ سب لوگ میاں صاحب کی بنائی ہوئی سازش میں شریک ہیں؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ جذباتی اور سطحی مائنڈ سیٹ خود عمران خان کا تخلیق کردہ ہے۔ جنہوں نے 2011 میں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں پہ بیعت ہونے کے بعد کرپشن اور غداری کی ایسی ایسی کہانیاں تخلیق کر کے لوگوں کو سُنائیں۔ ایسے ایسے خواب دکھائے۔ جو حقائق کی دُنیا سے کوسوں دور تھے۔ اس تربیت نے اُن کے سیاسی مقلدین کو ایسی سطح پہ لا کھڑا کیا جہاں گالی گلوچ اور دشنام طرازی وجہ افتخار ٹھہرا۔ اور استدلالی سوچ ایک جنس نایاب۔ جو بھی عقل و خرد کی بات کرے۔ اسے جاہل، پٹواری ، گدھا اور 45% دماغ والا کہنا حُب الوطنی اور بزعم خویش ایمانداری کی علامت ٹھہرا۔
تحریکِ انصاف اور اس کے حواریوں کے علاوہ سب چور، ڈاکو اور غدار قرار دیے گئے۔ یہ سب کہنے میں ہمارے سب سے ایماندار، سچے اور کھرے وزیر اعظم صاحب پیش پیش ہوتے تھے بلکہ ہوتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ ایک ایسی ہی قوم کی تشکیل کی صورت میں سامنے آیا۔ جو بد تہذیبی، دشنام طرازی اور گالی گلوچ جیسے ’اوصافِ حمیدہ‘ کی حامل ہے۔ اور ان ہتھیاروں کے استعمال کے فن میں طاق ہے۔ اور اب نوبت بہ ایں جا رسید کہ وہ سچے اور کھرے صاحب کی باتوں پہ بھی یقین نہیں کرتے۔ انہیں خوابوں میں رہنااس قدر سکھا دیا گیا ہے کہ وہ حقائق کی دُنیا کا سامنا کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ ان بے چاروں کے مشکل اب یہ ہے کہ وہ اگر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ میاں صاحب بیمار ہیں تو پھر پچھلے چند ہفتوں میں انہوں نے میاں صاحب کی بیماری کا جو مذاق اُڑایا تھا اور غیر اخلاقی اور غیر مہذب بیانات جاری کئے تھے، میاں صاحب کی بیماری کو تسلیم کر لینے سے، وہ سب منہہ پہ آگریں گے۔ اگر وہ اسے این آر او کہیں. تو صادق اور امین صاحب کی ’این آر او نہیں دوں گا‘ والی عمارت ڈھے جاتی ہے۔ پھر لا تعداد یو ٹرنز میں ایک کا اضافہ ہو جائے گا۔
اور یہ شاید سب سے بڑا یو ٹرن ہو۔ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہو۔ اس لئے وہ اسے این آر او بھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ اب لے دے کے یہ رقم دینے والی بات ہی بچتی ہے. جس کے پیچھے ان کے خوابوں کا محل چُھپ سکتا ہے اور وہ اسے چُھپانے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن وزیر اعظم یا اُن قریبی رفقاء نے ابھی تک اس بات کا عندیہ نہیں دیا کہ ایسا کوئی معاملہ ہے۔ لیکن ہمارے خوابوں کے رسیا اس بات پہ سچےاور کھرے صاحب کی بات کو بھی جُھٹلا رہے ہیں۔.
گُمان یہ ہے کہ میاں صاحب واقعی بیمار ہیں. اور شاید کسی لا علاج مرض میں مُبتلا ہیں. بالفرض خدانخواستہ ان کا انتقال ہو جاتا ہے تو عمران خان اور اُن کی حکومت نہایت بدنام بھی ہوگی۔ اور نون لیگ کے ورکرز کے غیض و غضب کا شکار بھی۔ ایسی صورت میں حکومت کی اخلاقی بُنیاد بہت کمزور ہو جاتی۔ اور یہ بد نما داغ ہمیشہ اُن کے ماتھے پہ رہتا۔
حکومت نے اُنہیں علاج کی غرض سے باہر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ اب اگر خدانخواستہ میاں صاحب کی زندگی کو کُچھ ہو گیا۔ تو حکومت اسے کیش کروا سکتی ہے اور کہہ سکتی ہے۔ کہ ہم نے مقدمات ہونے کے باوجود میاں صاحب کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پہ جانے کی اجازت دی۔ اگر یہ بات درست ہے تو حکومت نے ٹھیک کیا ہے۔ اب سچ کیا ہے یہ میاں صاحب کے باہر پہنچنے کے بعد پتہ چلے گا۔ اگر تو انہوں نے آزادانہ گھومنا پھرنا شروع کر دیا تو پھر یہ ایک فراڈ ہو گا۔ لیکن اس کے امکانات کم ہیں۔ کیونکہ پھر وزیراعظم، وزراء، عدالتیں اور ڈاکٹرز سب جھوٹے ثابت ہوں گے۔