ایران نے یورینیم کی افزودگی 60 فی صد تک بڑھا دی
- اتوار 10 / نومبر / 2019
- 4620
ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو بڑھا کر 60 فی صد تک لے گیا ہے۔ اس طرح جوہری معاہدہ میں ،مقرر حد کو عبور کرلیا گیا ہے۔
اے ای او آئی کے ترجمان بہروز کمال وندی نے ہفتے کے روز زیر زمین جوہری پلانٹ فردو میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ افزودگی 5 فی صد، 20 فی صد اور 60 فی صد کی سطح پر کی جاتی ہے۔ معاہدے کے تحت ایران افزقدگی کو 5 فی صد تجک رکھنے کا پابند تھا۔ ایران کے قائد آیت اللہ علی خامنہ ای نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ ایران نے کبھی بھی جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کے متعلق سوچا، کیونکہ مذہب اس ہلاکت خیزی کی اجازت نہیں دیتا۔
ایران نے جمعرات کے روز کہا کہ اس نے یورینیم کو افزودہ کرنے کی اپنی سطح بڑھا دی ہے جو 2015 کے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے سے دور ہٹنے کی جانب ایک قدم ہے۔ امریکہ معاہدے پر اعتراض کرتے ہوئے اس سے پہلے ہی الگ ہو چکا ہے۔ یہ معاہدہ ایران کی جوہری تنصیب فرود میں جوہری ہتھیار بنانے پر پابندی لگاتا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آئی اے ای اے کے انسپکٹر اتوار کے روز فرود کا دورہ کر رہے ہیں۔
مئی سے ایران امریکی دباؤ کے ردعمل میں جوہری معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے افزودگی کی مقرر کردہ سطح سے تجاوز کر رہا ہے۔ امریکہ نے ایران پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر دستخط کرنے والی یورپی طاقتیں ایران کی غیر ملکی تجارت بحال کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں جس پر امریکہ نے پابندیاں لگا دی ہیں تو وہ اپنے یہ اقدامات واپس لے لے گا۔