دنیا بھر میں عید میلاد النبیﷺ کی پرجوش تقریبات

  • اتوار 10 / نومبر / 2019
  • 5070

دنیا بھر میں یوم ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔  پاکستان میں عیدمیلادالنبی ﷺ کے دن کا آغاز اسلام آباد میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔

مساجد میں نماز فجر کے بعد امت مسلمہ کے اتحاد اور ملک کی ترقی وخوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت کے سلسلے میں ملک بھر میں مختلف مقامات پر بڑی اور چھوٹی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے جن کے لیے نذر و نیاز کا بھی اہتمام کیا گیا۔

رحمۃ اللعالمینﷺ کی ولادت کے دن کی خوشی میں ملک کا قریہ قریہ، گلی گلی اور شہر شہر سبز پرچموں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا ہے۔ عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر کراچی میں مساجد، سرکاری و نجی عمارتوں پر دیدہ زیب چراغاں کیا گیا ہے۔ گھروں، گلیوں اور بازاروں کو خصوصی طور پر جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا۔ جشن عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں جلوس و ریلیاں نکالیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا ہے کہ زندگی کے تجربات میں حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کو ہی بہترین پایا اور ریاست مدینہ کی بات کرنا میری ذاتی زندگی کا تجربہ ہے۔  اسلام آباد میں جشن میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں 'بین الاقوامی رحمتہ اللعالمین ﷺ کانفرنس' سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی میں جتنا مطالعہ کریں گے اسی قدر اندازہ ہوگا کہ جو علم حاصل کیا وہ کم ہے۔  عمران خان نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوران تعلیم کبھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ ہمارا رول ماڈل نبی کریم ﷺ کو ہونا چاہیے لیکن زندگی کے تجربے نے اب یہ سکھایا کہ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو اپنے مالی وسائل سے انسانوں کی خدمات کرتا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی صوفیا کرام آئے انہوں نے نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کیا اور ہمیشہ انسانیت کی خدمات کی۔ حضرت محمد ﷺ نے فتح مکہ کے بعد تمام مخالفین کو معاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں جزا اور سزا کا نظام قائم ہوگا وہاں ترقی کے ثمرات کو کوئی نہیں روک سکتا۔