سیاست کی بند گلی کھولنی ہوگی
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 10 / نومبر / 2019
- 8090
پاکستان کی سیاست عملی طور پر ایک نئی جہت کی متلاشی ہے۔ہم موجودہ سیاست سے وہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں جو ہماری قومی ضرورت اورسیاسی اور جمہوری تقاضوں کو پورا کرسکے۔
سیاست اور جمہوریت کا بنیادی محور عام آدمی کی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔جب سیاست سے جڑی قیادت عوام کو بنیاد بنا کر ان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو مفاد بھی ان ہی سے وابستہ ہونا چاہیے۔جب ہم اپنی قومی سیاست کا جائزہ لیتے ہیں تو بظاہر لگتا ہے کہ ہم سیاست کی ایک ایسی بند گلی میں داخل ہوگئے ہیں جو ہمیں ترقی دینے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے۔جب سیاست قومی اور عوامی مفاد سے زیادہ ذاتی او رخاندانی مفاد کے گرد کھڑی ہوجائے تو اس کا نتیجہ قومی سیاسی،سماجی اور معاشی بحران کی صورت میں نکلتا ہے، جو خود بڑا خطرہ ہے۔
کسی بھی سیاسی اور جمہوری نظام میں حکومت اور حزب اختلاف ایک بنیادی کنجی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں فریقین کی اپنی اپنی سطح پر بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان تعاون ہمیں بحران سے نکال کر مسائل کے حل کی طرف لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ہمارا قومی مسئلہ سیاسی نظام میں بداعتمادی او رایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنے سے جڑی ہؤا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست میں محازآرائی کی کیفیت بالادست نظر آتی ہے۔ مفاہمت، اصلاحات، افہام تفہیم، تدبر اور فہم وفراست پر مبنی سیاست جیسے الفاظ یا فکر محض کتابوں یا لفظوں کی حد تک رہ گئے ہیں۔ عملی سیاست کے جو تقاضے بالادست نظر آتے ہیں اس سے نفرت، تعصب اور دشمنی پر مبنی سیاست کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
اصل مسئلہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں اور تلخیاں ہیں۔ حکومت کی غلطی یہ ہے کہ وہ مخالفین کی سیاسی اہمیت کو تسلیم کرنے او ران کے ساتھ خود کو جوڑ کر رکھنے کی صلاحیت سے محروم نظر آتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ ہمیں اپنے سیاسی مخالفین کو ساتھ جوڑ کر رکھنے کی بجائے تن تنہا آگے بڑھنا ہے او رحزب اختلاف کی سیاسی جگہ کو کم کرنا ہوگا۔ یہ ہی وہ غلطی ہے جہاں حکومت مخالف جماعتوں میں سخت ردعمل پایاجاتا ہے او ران کو لگتا ہے کہ حکومتی حکمت عملی میں ہمیں دیوار سے لگانے کی حکمت عملی بالادست ہے۔ جب اس کے برعکس حزب اختلاف سمجھتی ہے کہ دو جماعتی نظام میں تیسری سیاسی جماعت کا ابھرنا اور اقتدار حاصل کرنا ان کے سیاسی مفادات سے ٹکراؤ ہے۔سیاسی مینڈیٹ کو قبول نہ کرنا، سلیکٹیڈ وزیر اعظم او رحکومت، جعلی مینڈیٹ، یہودی حکومت جیسے نعروں کا بھی سخت ردعمل حکومتی سطح پر دیکھا جاسکتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کسی ایک فریق پر الزام لگائیں کہ اکیلی حکومت یا حزب اختلاف موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہے۔ دونوں فریقین نے اس بگاڑ کے کھیل میں اپنااپنا حصہ ڈالا ہے اوربدستور ڈالا جارہا ہے۔اصل مسئلہ سیاسی محاذ پر اس تدبر کے فقدان کا ہے کہ ہمیں اپنی قومی سیاست میں موجود بگاڑ کو ایک دوسرے کے تعاون او رمدد کے ختم کرنا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگا او رکون بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ پہلی بڑی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے او ربحران کی سیاست کبھی بھی اس کے مفاد میں نہیں ہوتی او رصورتحال کی بہتری میں پہل بھی اسے ہی کرنی ہوتی ہے۔لیکن یہ سب کچھ وہاں ممکن ہوتا ہے کہ جہاں حزب اقتدار او رحزب اختلاف میں ذمہ دارانہ سیاست کا وجود موجود ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہوں کہ مسائل کے حل کی بڑی ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے۔
ماضی اور حال کی سیاست میں سب نے شعوری او رلاشعوری طور پر غلطیاں کی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے قومی سیاست بگاڑ کا شکار ہے۔لیکن مسئلہ اپنی سابقہ سیاسی غلطیو ں سے باہر نکلنا ہے۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ ہم ماضی میں رہنے کے زیادہ عادی ہوگئے ہیں اور دوبارہ 80اور 90کی دہائی کی سیاست کی جانب بڑھ رہے ہیں۔سیاست، جمہوریت، انصاف اورعوام کے مفادات کو سیاسی ہتھیار بنانے کی بجائے اسے کیسے ہم اپنی سیاست میں بالادست کریں، یہ اہم نکتہ ہے او راسی پر ہماری توجہ ہونی چاہیے۔جب یہ نکتہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہماری سیاست پس پردہ قوتوں کے ہاتھوں یرغمال ہے تو یہ خود اپنے اندر وزن رکھتا ہے۔ کیونکہ ہماری جمہوری سیاست بدستور ایک ارتقائی عمل سے ہی گزر رہی ہے۔ لیکن بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس عمل میں ہم اپنی سیاست کو کیسے خود مختار بنائیں او رکیسے جاری سفر کو حقیقی جمہوری شکل دیں ۔
یہ بات سیاسی قوتوں کو سمجھنی ہوگی کہ ان کاموجودہ طرز عمل پس پردہ قوتوں کی سیاست کو کمزور کرنے کی بجائے، ان کو اور زیادہ طاقت فراہم کرتا ہے۔ کیونکہ سیاسی او رجمہوری قوتوں کی آپس کی محاذ آرائی او رایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کی سیاسی روش کا اصل فائدہ ان ہی پس پردہ قوتوں کو ہوتا ہے جو سیاست میں بالادست ہوتی ہیں۔اگر ہمیں واقعی پس پردہ قوتوں کا کردار ختم کرکے سیاسی کردار کو طاقت دینی ہے تو اس کے لیے پہلے سے موجود طرز عمل کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔ ایک سنجیدہ نوعیت کا مکالمہ قومی سیاست میں درکار ہے جس میں سب فریقین اپنا اپنا حصہ ڈال کر اپنے سیاسی اور آئینی کردار کو سمجھ بھی سکیں او راسے نئی ضرورتوں کے تحت چلابھی سکیں۔سیاسی قوتوں اور اسٹیبلیشمنٹ دونوں کو اپنے اپنے رویوں او رفکر میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
سیاست او ربالخصوص پارلیمانی سیاست میں بڑی اہمیت پارلیمنٹ کی ہوتی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت او راس کے تقاضے ہماری سیاسی قوتوں کو سمجھنے ہوں گے۔ کیونکہ موجودہ عمل میں پارلیمنٹ او را س سے جڑ ی پارلیمانی اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں کا کردار کافی مایوس کن ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہماری سیاسی قیادت کی پارلیمانی سیاست کے مضبوط کرنے میں عدم دلچسپی ہے۔ کابینہ کے مقابلے میں چند وزرا پر مشتمل کمیٹی جسے ہم کچن کیبنٹ کہتے ہیں بالادست ہے۔ وزیر اعظم اور وفاقی وزرا پارلیمنٹ میں آنا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا رویہ بھی سابقہ حکمرانوں سے مختلف نہیں وہ بھی پارلیمنٹ میں آنے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کا عملی حصہ بنیں گے۔اسی طرح پارلیمنٹ میں جو غیر جمہوری رویے یا طرز عمل کی جھلکیاں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں وہ قومی سطح پر جمہوریت کی نیک نامی کی بجائے بدنامی کا سبب بنتی ہیں او رایسے لگتا ہے کہ ہماری قومی سیاست بدستور سیاسی ناپختگی اور غیر شائشتگی کا شکار ہے۔
قومی سیاست کو درست سمت میں رکھنے میں ایک بڑا کردار سماج میں موجود ان افراد یا اداروں پر ہوتا ہے جو رائے عامہ بنانے کے ساتھ ایک دباؤ کی سیاست پیدا کرکے پریشر گروپ کا کردار ادا کرتے ہیں۔لیکن جیسے ہماری سیاست کی خرابیاں ہیں یہ ہی عمل ہمیں اہل دانش اور رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں میں بھی غالب نظر آتا ہے۔کیونکہ یہ فریق بھی طاقت کی سیاست کے کھیل کا حصہ بن کرخود بھی بگاڑ کا حصہ بنتے ہیں اور ملک کو مشکل صورتحال سے دوچار کرتے ہیں۔میڈیا کا موجودہ طرز عمل جس میں بحران پیدا کرنا ان کی سیاسی ضرورت بن گیا ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا۔کیونکہ میڈیا کا کام پہلے سے موجود بحران میں زیادہ شدت پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم عمران خان، نواز شریف، بلاول بھٹو، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، چوہدری برادران،اسفند یا ر ولی خان، محمود خان اچکزئی سمیت سب سیاست دانوں کو اپنا اپنا احتساب کرنا چاہیے۔کیونکہ اگر اس ملک نے واقعی جمہوری عمل اور جمہوریت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو موجودہ فکر کو تبدیل کرنا ہوگا۔قومی سیاست کے تقاضوں کی ضرورت ہے کہ ہم قومی سیاست سے جڑے تمام معاملات کو نئے سرے سے ترتیب دیں او رنئی جہتوں کے ساتھ قومی سیاست کا نیا بیانیہ تلاش کریں۔ یہ بیانیہ سیاسی او رمعاشی استحکام اور اہل سیاست کے ذمہ دارانہ کردار سے جڑا ہونا چاہیے۔ یہ ہی اہل سیاست قوم کے اندر بھی ایسی فکر کو آگے بڑھائے جس کا مقصد پورے سماج کو ترقی اور جمہوریت کے دھارے میں شامل کرنا ہو۔لیکن کیا ہمارے اہل سیاست ایسا کچھ کرسکیں گے؟ یہ بجائے خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب کافی مبہم ہے۔