دو غیر ملکی مغویوں کے بدلے تین طالبان کمانڈر رہا کرنے کا اعلان
- منگل 12 / نومبر / 2019
- 4910
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والے دو مغوی پروفیسروں کے بدلے تین طالبان قیدیوں کو مشروط طور پر رہا کر رہے ہیں۔
افغان صدر اشرف غنی نے اس بات کا اعلان منگل کو کیا۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں واقع امریکن یونیورسٹی کے دو پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں طالبان سے منسلک شدّت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے تین قیدیوں کو مشروط طور پر رہا کیا جا رہا ہے۔
صدر اشرف غنی نے افغانستان کے قومی ٹی وی پر ایک بیان میں کہا کہ قیدیوں کے تبادلے میں طالبان، ایک امریکی شہری کیون کنگ اور ایک آسٹریلوی شہری ٹموتھی ویکس کو رہا کریں گے۔ دونوں پروفیسروں کو اگست 2016 میں کابل سے اغوا کیا گیا تھا۔ جنوری 2017 میں طالبان نے مغویوں کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں دونوں مغوی اپنی رہائی کے لیے اپیل کر رہے تھے۔
صدر غنی کے بقول دونوں پروفیسروں کے بدلے میں حقّانی نیٹ ورک کے سربراہ کے بھائی انس حقانی کے ساتھ حاجی مالی خان اور عبدالرشید حقّانی کو رہا کیا جائے گا۔ افغان صدر کے بقول طالبان رہنماؤں کو رہا کرنے کا مشکل فیصلہ افغان عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان عہدے داروں کی رہائی افغان حکومت کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے رضا مندی کا اظہار ہے۔
صدر اشرف غنی کے مطابق طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ بین الاقوامی برادری اور امریکہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ افغان صدر کے بعض قریبی ذرائع نے وائس امریکہ کو بتایا ہے کہ مغربی ممالک کے مغویوں کی رہائی کے لیے طالبان سے مذاکرات کی قیادت امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کی تھی۔
ذرائع کے مطابق طالبان قیدی افغان حکومت کی جانب سے رہائی کے باوجود کسی تیسرے ملک میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ’سی آئی اے‘ کی حراست میں اس وقت تک رہیں گے جب تک دو مغوی پروفیسروں کو رہا نہیں کیا جاتا۔ ذرائع کے مطابق تیسرا ملک ممکنہ طور پر قطر ہو سکتا ہے۔
افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت معطل ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال ستمبر میں کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کر دیے تھے۔