نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ طے نہیں ہوسکا

  • منگل 12 / نومبر / 2019
  • 5660

پاکستان کی حکومت سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے یا نہ نکالنے کے معاملے پر تذبذب کا شکار ہے اور وزرا کے متضادات بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی زیر صدارت منگل کو ہوا جس کے دوران نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا تارڑ سمیت نیب کے نمائندے اور وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر بھی شریک تھے۔

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے یا نہ نکالنے سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی اپنی سفارشات کابینہ کو فراہم کرے گی جس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان حتمی فیصلہ کریں گے۔ طبی ماہرین اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے میں ہر لمحے کی تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک لے جانے کے لیے ایئر ایمبولینس بدھ کو لاہور پہنچے گی اور اُنہیں طبی طور پر سفر کے لیے آج سے پھر تیار کرنا شروع کریں گے۔ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی سات سال قید کی سزا اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر آٹھ ہفتوں کے لیے معطل کی ہے۔ عدالت نے انہیں اپنی مرضی کا علاج کرانے کی اجازت دے رکھی ہے اور وہ لندن سے علاج کرانے کے خواہش مند ہیں جب کہ ان کے میڈیکل بورڈ نے بھی تجویز کیا ہے کہ انہیں بیرون ملک علاج کے لیے بھیجا جائے۔

نواز شریف  کی صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات کے بعد حکومت نے فوری طور پر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن سابق وزیر اعظم کی صحت فوری طور پر سفر کرنے کے قابل نہیں تھی۔ ان کی حالت سفر کے قابل بنانے کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی خدمات حاصل کی گئیں کیونکہ فضائی سفر میں پلیٹ لیٹس کی کمی شدید نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

8 نومبر کو شہباز شریف نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وفاقی حکومت کو باضابطہ درخواست دی۔ اس پر پیش رفت جاری تھی کہ بعض ذرائع کے مطابق اس موقع پر شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کی ایک ٹوئٹ نے کام خراب کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’خدا کے فضل سے شہباز شریف اپنے بھائی اور لیڈر کو وہاں سے نکال گیا جہاں سے سلیکٹڈ نے ٹی وی اور اے سی اتارنا تھا۔

اسی دوران مسلم لیگ ن کے بعض قائدین کی طرف سے بھی ایسے بیانات آئے جو حکومت کے لیے تحقیر آمیز اور اپنے فاتح ہونے کا تاثر دے رہے تھے جس پر حکومتی عہدے داروں نے یہ فیصلہ کیا کہ ای سی ایل سے نواز شریف کا نام آسانی سے نہ نکالا جائے اور اس سلسلے میں تمام پروسیجر مکمل کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اسی وجہ سے اب یہ کیس پانچ روز کی تاخیر کے بعد وفاقی کابینہ میں پیش کیا جا رہا ہے اور اس عرصے کے دوران ان کی فائل کو مختلف محکموں کے درمیان زیر گردش رکھا گیا ہے۔

قوی امکان یہ ہے کہ نواز شریف کا نام منگل کو کابینہ کے اجلاس میں ای سی ایل سے نکال کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا۔ مریم اورنگزیب کے مطابق بدھ کے روز ایئرایمبولینس کا بندوبست بھی کر لیا گیا ہے جس کے بعد نوازشریف لندن روانہ ہو جائیں گے۔