مجرم اور انسانی حقوق
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- منگل 12 / نومبر / 2019
- 6690
آج سے آٹھ سال پہلے 2011 میں ناروے میں دہشت گردی کاایک بہت بڑا واقعہ رونما ہوا۔ ایک انتہا پسند نارویجن نے اوسلو میں وفاقی سیکریٹریٹ میں دھماکہ کیا اور آٹھ افراد کی جان لے لی ۔ یہی شخص وہاں سے اوسلو کے نواح میں ایک جزیرے پہ گیا جہاں لیبر پارٹی کے نوجوانوں کی تنظیم کا سالانہ کنونشن جاری تھا۔ اس کنونشن میں شریک سارے نوجوانوں کی عمریں 23 سال سےکم تھیں۔ اس دہشت گرد نے پولیس کی وردی پہنی ہوئی تھی۔ اور شرکا کو یہ باور کرایا کہ وہ پولیس کا آدمی تھا اور وہاں ان کی حفاظت کے لئے آیا تھا۔ اس نے سب نوجوانوں
جگہ اکٹھا کیا اور فائر کھول دیا۔ جس سے 70 کے قریب نوجوان مارے گئے۔ کچھ نے سمندر میں کود کے جانیں بچائیں۔ کچھ درختوں کےجھنڈ میں ادھر ادھر بھاگ گئے۔ پولیس کے پہنچنے تک وہ تسلی سے فائر کرتا رہا۔
پولیس نے بالآخر موقع پر پہنچ کر اسے گرفتار کیا۔ اس شخص پہ مقدمہ چلا۔ یہاں ایک بات دلچسپی سے خالی نہیں اور نارویجن معاشرے کو اس کی داد دینی چاہئے کہ مجرم رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اس نے فورا اقرار جُرم بھی کر لیا۔ اور اتنا بڑا جُرم کرنے کی وجہ بھی بتائی۔کچھ لوگوں نے کہا کہ جب اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی بندہ ہے جس نے جُرم کیا ہے تو پھر اس مقدمے پہ اتنا پیسہ کیوں صرف کیا جا رہا ہے۔ نارویجن حکومت کا جواب تھا کہ مجرم ہونے سے کوئی شہری حقوق سے محروم نہیں ہوجاتا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے پیسہ بچانے سے زیادہ اپنی اقدار بچانا ضروری ہے۔ ہم اپنی اقدار قربان نہیں کر سکتے۔ غُصے اور طیش میں ہم کسی کو انسانی حقوق سے محروم نہیں کر سکتے۔
یہاں پر ہر کسی کو حق ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے۔ اس دہشت گرد نے بھرپور طریقے سے مقدمہ لڑا۔ اس دہشت گرد کے ذہنی توازن کا بھی معائنہ کروایا گیا جو ایسے مقدمات میں ایک معمول ہے۔ یعنی معمول کے تمام طریقے اختیار کئے گئے۔ تا کہ مجرم کے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ نے جو جُرم نارویجن قانون کے مطابق اسے پوری سزا ملی۔ اس میں رتی برابر بھی رعائت نہیں برتی گئی۔ پھر جب وہ جیل میں تھا۔ تو جیل مینوئیل کے مطابق اسے کچھ سہولتیں نہیں ملیں۔ اس نے حکومت پہ مقدمہ کر دیا۔ اور وہ مقدمہ جیت گیا۔ اور اسے وہ سہولتیں حاصل ہوگئیں۔
یہ ہوتا ہے انصاف اور اسے احتساب کہتے ہیں۔ ایک شخص بر ملا اقرار جُرم کر رہا ہے۔ گواہان موجود ہیں۔ تمام ثبوت موجود ہیں۔ لیکن ملکی نظام اسے اس کے انسانی حقوق سے محروم نہیں کرتا۔ اور یہ اس معاشرے کا حال ہے ہے جہاں اکثریت مذہب بے زار اور ملحد ہے۔ اور جو ہمارے عقیدے کے مطابق دوزخ میں جائے گی۔ انہوں نے اپنے مضبوط اور انسانیت دوست نظام کی بدولت اپنے ملک کو یہیں جنت بنایا ہوا ہے۔ قیاس نہیں کر سکتا۔
دوسری طرف ہمارے معاشرے کی طرف آ جائیے۔ ہم کہنے کو رحمت اللعالمین اور رب العالمین کے ماننے والے ہیں۔ جنہوں نے قرآن کی شکل میں انسانی حقوق کا ایک چارٹر ہمیں دیا ہے لیکن ہم انسانی حقوق کےانڈکس میں دُنیا میں بہت پیچھے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ بات بے بات ہم سر عام پھانسیوں اور خونخوار کتوں کے آگے ڈالنے کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ان مقدمات کی مثال ہی لیجئے۔ اس وقت حکومت ریاست مدینہ کا راگ الاپتے نہیں تھکتی۔ لیکن حالت یہ ہے کہ لوگ بغیر مقدموں میں سڑ رہے ہیں۔ کیا عام لوگ اور کیا سیاسی رہنما۔ ماڈل ٹاؤن میں لوگ بے گُناہ قتل کر دیے گئے۔ اس وقت کی اپوزیشن نے بہت شور مچایا۔ آج وہ حکومت میں ہیں۔ لیکن ماڈل ٹاؤن واقعہ کا نام لیتے ہوئے ان کے منہ بند ہیں۔
ساہیوال میں معصوم بچوں کے والدین کے سامنے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ لیکن کیا ہوا؟ ان بچوں کی خالی اور سوالی آنکھیں ہمارے معاشرے اور ہمارے نظام پہ ایک بہت بڑا سوال ہیں۔ جو زندہ ضمیروں کو ہمیشہ کچوکے دیتی رہیں گی۔ کتنے ہی سیاسی رہنما اس وقت بغیر مقدموں یا جعلی مقدموں میں جیلوں میں ہیں۔ گرفتار کرتے وقت لمبے لمبے دعوے کرتے ہیں۔ اور گرفتار کرنے کے بعد عدالتوں میں تُھس ۔ جیسے رانا ثناءاللہ کا کیس ہے۔ زرداری صاحب کو پہلے گیارہ سال جیل میں رکھا۔ کیا ثابت ہوا؟ اگر کچھ بھی ثابت نہیں کر سکے تو کسی نے زرداری سے معذرت کی۔ وہ مجرم تھا تو ثابت کرتے اور سزا دیتے۔ اور اگر ثابت نہیں کر سکے تو معافی اور معذرت تو بنتی تھی۔ اب وہ پھر جیل میں ہیں۔ لیکن پہلے کئی اربوں کی کرپشن ڈالی اور اب ڈیڑھ کروڑ پہ آ گئے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کہ پہلی معلومات غلط تھیں یا موجودہ۔ اور غلط معلومات پہ کوئی معذرت وغیرہ؟
میاں نواز شریف صاحب کو عدالت نے سزا سُنائی۔ غلط یا صحیح سزا کی بحث نہیں۔ لیکن انہیں مجرم ثابت کیا گیا وہ اس کی سزا بُھگت رہے ہیں۔ اب اُن کی صحت خراب ہوئی۔ پہلے تو ان کامذاق اُڑایا گیا۔ پھر کہا گیا کہ مرتا ہے تو اندر ہی مر جائے۔ پھر جب یقین ہو گیا کہ یہ تو مر جائے گا۔ تو کہا باہر علاج کے لئے بھیج دو۔ شیخ رشید خود ٹی وی پہ فرما رہے ہیں کہ وہ گلے پڑنے والا تھا۔ لیکن میں عمران خان کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے تحمل سے کہا کہ وہ بیمار ہیں۔ ہم انہیں علاج کے لئے بیھج رہے ہیں۔
بارگین۔ اب ان کے مقلدین کی حالت دگرگوں ہے اب ایک سیدھی سی بات کو بھی وہ کبھی ڈیل کہتے ہیں کبھی پلی بارگین۔ اور کبھی خان صاحب کی شاندار چال۔ حالانکہ اگر وہ سیدھی سوچ رکھتے ہوں تو اس با ت کا کریڈت لے سکتے ہیں۔ کہ بھئی ایک آدمی شدید بیمار ہے۔ وہ مجرم تو ہے لیکن اپنے انسانی حقوق سے محروم نہیں ہوا۔ اس لئے عمران خان اسے انسانی جذبے کے تحت باہر بھیج رہا ہے۔ اور اس رویے پہ خود بھی داد پاتے اور عمران خان کے لیے بھی نیک نامی کا باعث بنتے۔