مولانا فضل الرحمان آج پلان بی کا اعلان کریں گے

  • بدھ 13 / نومبر / 2019
  • 4860

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے اسلام آباد میں دھرنے کو تقریباً دو ہفتے ہو چکے ہیں ۔ مطالبات منظور نہ ہونے پر نئے 'پلان' کا اعلان سامنے آیا ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے اگلے لائحہ عمل کو پلان 'بی' کا نام دیا ہے اور اگلے مرحلے میں وہ اپنے کارکنان کو دھرنے کے مقام سے اٹھ کر آگے بڑھنے کا کہہ سکتے ہیں۔ کراچی سے 27 اکتوبر کو نکلنے والا آزادی مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد کے پشاور موڑ کے مقام پر پہنچا جہاں ملک بھر سے جے یو آئی کے کارکن آکر جمع ہوئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ابتدائی طور پر کارکنان کے مجمع کو مارچ کا نام دیا اور بعدازاں یہ دھرنے کی شکل اختیار کر گیا۔

اس دھرنے میں شریک کارکنان کئی روز کا راشن ساتھ لائے ہیں اور انہوں نے سردی سے بچنے کے لیے ٹینٹ اور دیگر انتظامات بھی کر رکھے ہیں جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ وہ طویل عرصے تک دارالحکومت اسلام آباد میں قیام کر سکتے ہیں۔ جے یو آئی کے مرکزی رہنماؤں کا اہم اجلاس منگل کو ہوا جس کے دوران پارٹی سربراہ نے پلان 'بی' پر عمل درآمد کا اعلان کیا۔ البتہ پلان 'بی' کے خدوخال سے متعلق چیزیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے منگل کو کارکنان سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ اب ہم آگے بڑھیں گے اور بدھ کو انہیں پلان 'بی' سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ جے یو آئی کے پلان 'بی' میں دھرنے کے مقام کی تبدیلی کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں احتجاج کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔ جس میں  سڑکوں کی بندش بھی ہو سکتی ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے سارے پلان ناکام ہوں گے۔ مولانا جمہوری اور عوامی پلان سامنے لائیں۔