اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور حکومت نے آرڈیننسز واپس لے لیے
- جمعہ 15 / نومبر / 2019
- 5830
قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت کا اقدام کیا ہے۔ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر آمادگی کا اظہار کی جبکہ حکومت نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے منظور کرنے والے متعدد آرڈیننس کمیٹیوں میں بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
پارلیمنٹ میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد متفقہ طور پرواپس لینےپر تیار ہے۔ دوسری جانب حکومت نے متعدد آرڈیننس کمیٹیوں میں بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔
اپوزیشن نے 7 نومبر حکومت کی طرف سے یک طرفہ طور پر9 آرڈیننس اور 2 بل منظور کروانے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس کے جواب میں ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک داخل کی گئی تھی۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ جو آج ہوا ہے اگر اس روز ہوجاتا تو ہمیں اس تلخی سے نہ گزرنا پڑتا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اعظم سواتی اور نوید قمر نے بلز سے متعلق تفصیل فراہم کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ منظور شدہ بل واپس لے کر دوبارہ پیش کیے جائیں گے۔ 7 نومبر کو پیش کردہ پاکستان میڈیکل کمیشن 2019 پر آئندہ اجلاس میں بحث ہوگی اور کوشش ہوگی کہ اتفاق رائے پیدا کیا جا ئے۔
انہوں نے کہا کہ 7 نومبر کو پیش کردہ آرڈینینسز اور منظور کردہ بلوں پر بھی اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی۔ اعظم سواتی نے واضح کیا کہ بے نامی ٹرانزیکشن آرڈینینس منظوری سے پہلے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔ قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبل قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا اعلان خوش آئند ہے۔