نواز شریف کی بیرون ملک روانگی: لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کا اعتراض مسترد کردیا
- جمعہ 15 / نومبر / 2019
- 4790
لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی طرف سے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے سے متعلق درخواست کوناقابل سماعت قرار دینے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
وفاقی حکومت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست کی مخالفت کی تھی اور عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ سماعت کااختیار نہیں رکھتی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل (اے اے جی) چوہدری اشتیاق اے خان نے حکومت کی نمائیندگی کی۔
گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سےتحریری جواب طلب کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے نواز شریف کو غیر مشروط ملک سے باہر جانے کی اجازت کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔
وفاقی حکومت نے کہا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کو درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب 45 صفحات پر مشتمل جواب میں سے استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردے۔
وفاقی مراسلے میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے نواز شریف کو چار ہفتے کے لیے مشروط طور سے ملک سے جانے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے حکومتی موقف کی نقول مسلم لیگ (ن) کی وکلا ٹیم کو فراہم کردیں۔ اس پٹیشن میں شہباز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی حکومت کو نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی لیکن نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا۔ حکومت کی جانب سے ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط رکھی جا رہی ہیں، عدالت وفاقی حکومت کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔
شہباز شریف نے اپنی درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور چیئرمین قومی احتساب بیورو کو فریق بنایا تھا اور موقف اپنایا تھا کہ نواز شریف نے علاج کے لیے بیرون ملک جانا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت منظور ہو چکی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا تھا کہ میں اور اسمبلی میں موجود 84 اراکین قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے بعد واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی 7 ارب کے ضمانتی کاغذ کی بنیاد پر نواز شریف کی توہین کرتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ انہیں 7 ارب روپے سے زائد کی ضمانت فراہم کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ نواز شریف نے ان شرائط کومسترد کردیا تھا