بھارت کا بدلتا ہوا نیا چہرہ
- تحریر
- جمعہ 15 / نومبر / 2019
- 5050
تین ماہ کے بظاہر قلیل عرصے میں بھارت نے تین ایسے حیرت انگیز رنگ بدلے کہ دنیا کو اس کا چہرہ پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے دار ملک نے عالمی معاہدوں اورآئین میں خصوصی حیثیت کے باوجود کشمیر کو اگست میں یک طرفہ اور اکثریت کی آواز دباتے ہوئے اس حیثیت سے محروم کر دیا۔
دنیا کی ایک بڑی اکونومی اور اوپن اپ ہونے کے دعوؤں کے باوجود آسیان ممالک کے ساتھ RCEP ٹریڈ ڈیل سے عین آخری وقت پر علیحدہ ہو کر ممبر ممالک کو چونکا دیا۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے حساس مسئلے پر قانون کی بجائے عقیدے کی بنیاد پر فیصلہ کرکے سب کو مزید حیران کر دیا۔ بظاہر بی جے پی نے یہ تین فیصلے تین ماہ میں کر ڈالے لیکن در اصل ان فیصلوں کے لئے اس نے پچھلی تین چار دِہائیوں سے زمین ہموار کرنے پر مسلسل کام کیا۔ بقول مشہور عالم ادیب پاؤلو کوئیلو راتوں رات کامیابی کے لئے کئی دِہائیاں روزانہ محنت کرنا پڑتی ہے تب کہیں جا کر ٌ راتوں رات ٌ کامیابی ممکن ہوتی ہے۔
تازہ ترین معاملے کو پہلے لیتے ہیں۔ اتر پردیش کے شہر ایودھیا کی بابری مسجد پر یوں تو تقریباٌ ایک صدی سے بھی زائد شدید کشمکش چلی آ رہی ہے لیکن 1980 کے لگ بھگ بی جے پی کی سیاسی اڑان میں یہ مسئلہ بنیادی اہمیت کا حامل بنا دیا گیا۔ ملک بھر میں رتھ یاترا اور بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنما اپنی شعلہ بیانیوں سے اپنے ورکرز کو مسجد گرانے اور اس کی جگہ رام مندر پر اکساتے رہے۔ یوں 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ ہو گیا۔
مسلم دشمنی کے جلائے گئے شعلے مزید بھڑکائے جانے کا عمل اس کے بعد بھی مزید زور شور سے جاری رہا۔ 2002 میں گودھرا اسٹیشن پر ٹرین کی آتشزدگی کے شعلے اس قدر بھڑکے کہ گجرات میں دو ہزار سے زائد لوگ جان سے گئے جن میں غالب اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ آج کے وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو خاموش تماشائی بنے رہے یا پھر وہ جنونی ہندؤں کو آگ اور خون کی ہولی کھیلنے سے باز نہ رکھ سکے۔ اسی وجہ سے یہ بیانیہ سفاک سچ بن کر سامنے آیا کہ یہ فسادات ایک سوچی سمجھی اسکیم تھی جس پر موقع ملتے ہی عمل کر دیا گیا۔ بعد میں تفتیس اور عدالتی مراحل سے تمام نمایاں کردار بری ہو گئے۔
معاملہ سیاست کی راہداریوں سے ہوتا ہوا بھارت کی سپریم کورٹ میں آن پہنچا۔ فیصلے میں بابری مسجد کو گرائے جانے کا عمل غیر قانونی قرار دیا گیا، مسجد کی تہہ میں کسی پرانے اسٹر کچر کا ذکر ضرور کیا گیا لیکن اس کی حیثیت متعین نہ کی گئی۔ موجودہ جگہ کو ہندؤں کے حوالے کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو پابند کیا کہ مسلمانوں کو علیحدہ سے پانچ ایکڑ جگہ مسجد بنانے کے لئے دینے کا پابند کیا۔ اسے اتفاق کہئے یا سوچی سمجھی اسکیم، بابری مسجد کا فیصلہ عین اسی روز سنایا گیا جب کرتار پور راہداری کا افتتاح تھا۔ عالمی اور بھارت کے مقامی میڈیا پر یہ فیصلہ چھایا رہا اور کرتار پور راہداری کھولنے کا تاریخی فیصلہ میڈیا میں ثانوی خبر رہا۔
بھارت کی ایک معروف تاریخ دان رومیلا تھاپر نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایک اخبار میں لکھا کہ یہ فیصلہ حقائق پر نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر کیا گیا۔ اس فیصلے کی بنیاد قانونی اور تاریخی حقائق کی بے توقیری کرتے ہوئے مذہب پر رکھی گئی۔ بھارت کے ایک اور معتبر تاریخ دان ڈی این جھا (D N Jha) نے بھی اس فیصلے کو تاریخی حقائق سے چشم پوشی قرار دیا۔ ڈاکٹر ڈی این جھا نے تعمیراتی مواد کی سائنسی پرکھ کو بنیاد بنا کر قدیم ہندوستان کے آثار پر بہت وقیع کام کیا ہے، وہ اس آرکیالوجسٹس گروپ میں بھی شامل تھے جس نے بابری مسجد کی بنیادوں کے نیچے کسی بھی قسم کے قدیم مندر کے آثارنہ ملنے کی رپورٹ دی۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور انٹریوز میں اس امر کی نشاندہی کہ کس طرح آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اپنا مؤقف بدل کر سنگھ پریوار کے ہاتھ مظبوط کئے اور یوں بابری مسجد کی جگہ رام مندر جنم بھومی کے قضئے پر تاریخی حقائق مسخ کرنے میں کردار ادا کیا۔
بھارت کا ایک فخر اس کی بڑی معیشت، اس کی شرح نمو اور گزشتہ تین دِہائیوں سے اصلاحات اور دنیا کے لئے اپنی اکونومی اوپن کرنا ہے۔ بھارت کے مشرقِ بعید کے ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ سرگرم تجارتی تعلقات ہیں۔ 2012 سے اس تنظیم اور چھ بڑی معیشتوں کے مابین ایک تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری تھے۔ ان مذاکرات میں کئی بار پیچیدگیاں بھی آئیں اور معاملات طویل بھی ہوتے گئے۔ بھارت ان مذاکرات میں سب سے مشکل فریق ثابت ہوا۔
بہت سی شرائط منوانے کے بعد گزشتہ ہفتے کی سربراہی کانفرنس میں اس معاہدے کی تکمیل کا اعلان متوقع تھا لیکن بھارت نے آخری لمحے اس معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کرکے ممبر ممالک کو حیران کر دیا۔ بی جے پی کے سخت گیر حلقے شروع دن سے اس معاہدے کے خلاف تھے، بلکہ اس معاہدے سے دستبرداری ان کے الیکشن وعدوں میں ایک وعدہ تھا۔ ایک ممبر ملک کے وزیر نے جِھلا کر کہا کہ اگر بھارت کو اس معاہدے سے واک آؤٹ ہی کرنا تھا تو ہم سب کے ساتھ مذاکرات کا کھیل کھیلنے کی کیا ضرورت تھی۔ یوں دنیا میں ابھرتی معیشتوں کی ڈارلنگ اکونومی نے سب کو حیران کر دیا۔
کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد سو دن سے زائد ہونے کو آئے ہیں لیکن ابھی تک مقبوضہ جموں کشمیر میں لاک ڈاؤن ہے۔ انسانی حقوق اور سیاسی آزادی بے دردی سے روندی جا رہی ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں پر قیامت صغریٰ برپا ہے۔ اسی دوران قانون میں یک طرفہ تبدیلی کرکے لداخ کو علیحدہ کرکے دونوں کو ریاست کا درجہ دے کر آئینی طور پر یونین کے حوالے کر دیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا نیا چہرہ دنیا کو ابھی تک حیران کئے ہوئے ہے۔
بی جے پی کے کٹر اور جنونی عزائم یہیں رک پائیں گے یا کچھ مزید عزائم ہیں؟ بھارت کے معروف سیاسی تجزیہ نگار روہن وینکٹ رام کرشنن نے ایک عالمی اخبار میں ان عزائم کی تصویر کشی کچھ یوں کی: تین ممکنہ اقدام متوقع ہیں۔ اول: قومی شہریت کے ترمیمی بل کے ذریعے شہریت کے اندراج کو پورے ملک میں نافذ کرنا، جس کا صاف مطلب ہے ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو ہراساں کرنا۔ دوم: انفرادی مذہب کی بنیاد پر جاری پرسنل لاء کو تبدیل کرکے ملک بھر میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنا جس کا سب سے بڑا ہدف مسلمان کمیونٹی ہو گی۔ سوم: تبدیلی مذہب کا راستہ روکنا تاکہ حالیہ سالوں میں مالی طور پر کمزور اور نچلے طبقات میں تبدیلی مذہب کے رجحان کو بزور روکا جا سکے۔
حکومت کے حالیہ ان تین اقدامات سے بی جے پی حکومت نے بھارت کا پرانا چہرہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ سب سے بڑی جمہوریت اپنے ہی آئین میں کشمیری عوام کے تحفظ کی شقوں کی بزور تبدیلی اور لوگوں کو طاقت کے بل بوتے دبانے پر کمر بستہ ہے۔ دنیا کی ڈارلنگ اکونومی نے دنیا کے متوقع سب سے بڑے تجارتی معاہدے سے دستبرداری کرکے عالمی تجارت میں پروٹیکشن کا راستہ اپنا یا ہے۔بابری مسجد کے فیصلے سے ظاہر ہورہا ہے کہ سیکولر ریاست اب مذہب کی پہچان اپنانے پر بضد ہے۔ نہ جانے ابھی اس چہرے کے خدوخال میں مزید کیا تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ مذہبی جنونیت کی شاید اب جتنی ضروت ہے بی جے پی کو اس قدر ضرورت کبھی نہ تھی!