لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی

  • ہفتہ 16 / نومبر / 2019
  • 4810

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کے ہمراہ شہباز شریف بھی بیرون ملک جا سکیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مختصر حکم جاری کیا، جس میں عدالت نے نئے بیان حلفی میں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے آرڈر کے مطابق اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہو سکتی ہے۔  حکومتی نمائندے سفارت خانے کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کر سکیں گے۔ سابق وزیر اعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے کی درخواست کی مزید سماعت اب جنوری 2020 کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔

عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ شہباز شریف نے کیا کہ نواز شریف کے علاج میں جو رکاوٹیں حائل تھیں وہ اب دور ہو چکی ہیں. ان کو علاج کی اجازت مل گئی ہے۔ وہ علاج کروا کر واپس آئیں گے۔

اس سے پہلےعدالت نے سابق وزیر اعظم کے علاج کے بعد وطن واپسی سے متعلق نواز شریف کے وکلا سے بیان حلفی طلب کیا تھا، جس پر نواز شریف کے بھائی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تحریری بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا۔ وفاقی حکومت کے وکلا نے شہباز شریف کا بیان حلفی مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ بیان حلفی میں ایسی کوئی گارنٹی نہیں دی گئی کہ نواز شریف وطن واپس آئیں گے۔

شہباز شریف کی جانب سے بیان حلفی جمع کرانے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے بھی ایک مسودہ عدالت میں جمع کرایا گیا، جسے شہباز شریف نے مسترد کر دیا۔ سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اب عدالت خود ایک مسودہ تیار کرے گی، جو فریقین کو دیا جائے گا اور اسی کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے کہا تھا کہ نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دے رہے ہیں تو پھر شرائط کس لیے ہیں؟

عدالت نے شہباز شریف کے وکیل سے کہا کہ عدالت کو نواز شریف کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے بیان حلفی درکار ہو گا، جس پر شہباز شریف روسٹرم پر آئے اور کہا کہ وہ تین دفعہ پنجاب کے وزیر اعلٰی رہ چکے ہیں اور بیان حلفی دینے کو تیار ہیں کہ نواز شریف ہر صورت واپس آئیں گے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف اور شہباز شریف سے بیان حلفی لے لیتے ہیں۔ اگر بیان حلفی سے منحرف ہوئے تو توہین عدالت کا قانون موجود ہے۔

نواز شریف اس وقت لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ہی زیر علاج ہیں، جہاں ان کے لیے خصوصی میڈیکل یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ نواز شریف کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ تاحال نواز شریف کی بیماری کی تشخیص نہیں ہو سکی۔ لہٰذا انہیں فوری طور پر بیرون ملک جانا چاہیے۔ نواز شریف کا نام وزارتِ داخلہ کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں موجود ہونے کے باعث وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔

پاکستان کی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری دی تھی، جس کے تحت نواز شریف کو سات ارب کا ضمانتی بانڈ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ لیکن مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان نے یہ شرط مسترد کر دی تھی۔