مہنگائی سے نجات ممکن ہوسکے گی؟

پاکستان میں موجود عام اور کمزور طبقات کا بنیادی مسئلہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ اس مہنگائی کے جن نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنادیا ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت کا دعوی ہے کہ کچھ عرصہ سے حکومتی معاشی اعداد وشمار میں بہتری کے واضح امکانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔لیکن ان بہتر اعدادوشمار کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں فوری طو رپر کوئی معاشی ریلیف دیکھنے کو نہیں مل رہا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ مہنگائی کے تناظر میں موجودہ حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ خود وزیر اعظم برملا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ مہنگائی بڑھنے پر پریشان ہیں۔لیکن مسئلہ ان کی محض پریشانی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عملی طور پر وزیر اعظم یا ان کی حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے کیا کچھ کررہی ہے اس کی جھلک بہت کمزور نظر آتی ہے۔ایک مسئلہ پہلے سے موجود بنیادی ضروریات سے جڑی چیزوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ جو زیادہ ہم کو تکلیف دہ نظر آتا ہے وہ مارکیٹ میں سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمتوں کی بنیاد پر چیزوں کی فروخت ہے۔یہ مسئلہ محض آج کی حکومت کا نہیں ہے۔ ہر دور حکومت میں مہنگائی بنیادی مسئلہ رہا ہے اور قیمتوں میں بے جا اورناجائز اضافہ کی وجہ بری طرز حکمرانی کے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ 18ویں ترمیم کی بنیاد پر پہلی بڑی ذمہ داری صوبائی حکومتوں او راس کے بعد مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ دونوں حکومتیں ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ مہنگائی کے معاملات میں بہتری پیدا کرنے کے لیے اقدامات اٹھاتی ہیں۔ لیکن پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ مضبوط او رمستحکم مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم دستیابی سے جڑ ا ہوا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی بنیاد پر مہنگائی کے نظام کو موثر اور شفاف انداز میں چلانے او راس میں بہتری پیدا کرنا جیسے امور میں صوبائی حکومتوں کو براہ راست ذمہ داری لینی چاہیے۔ صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کی بجائے پرائس کنٹرو ل کمیٹیوں کو بنیاد بنا کر نظام کو درست کرنے پر زیادہ انحصار کیا ہوا ہے۔ یہ صوبائی اور ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی شفاف نظام کو یقینی بنانے میں ناکام ہیں۔حکومت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ عام آدمی کا مسئلہ بڑے بڑے معاشی اور سیاسی اعدادوشمار اہمیت نہیں رکھتے او ر اس کی بنیاد پر وہ مطمن نہیں ہوتے۔کیونکہ عام آدمی کی بڑی ترجیحات میں روزمرہ کی زندگیوں سے جڑے مسائل ہوتے ہیں او ران میں بجلی، گیس، پٹرول، کھانے پینے کی اشیا، ادویات میں اضافہ، تعلیم اور صحت سے جڑے مسائل شامل ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی سطح پر حکومت کا ایک بڑا سیاسی او رانتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ وزیرو ں، مشیروں، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے سربراہ، انتظامی افسران سمیت اپنی جماعت کے سیاسی کارکنوں کی بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ا س بڑی طاقت کی موجودگی کے باوجود اگر حکومتی  سطح پر مہنگائی کو کنٹرول نہیں کیا جارہا تو یہ حکمرانی کے نظام کی سیاسی رٹ کو کمزور کرتا ہے۔یہ عمل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومت کا انتظامی مشینری پر کنٹرو ل کمزور ہے۔صوبائی سطح پر ایک متحرک اور فعال صوبائی حکومت جس کا نگرانی اور جوابدہی کا نظام بہت موثر ہو وہی حکمرانی کے نظام کو شفاف بناتا ہے۔صوبائی حکومتوں کو سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ مقامی نظام حکومت کو اپنی سیاسی ترجیحات کا ترجیحی بنیادوں پر حصہ نہیں بناتی تو یہ نظام پہلے سے زیادہ بگاڑ کا شکار ہوگا۔ایک اچھی حکومت بدترین معاشی بحران میں بھی عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے ان کے لیے غیر معمولی اقدامات اور وسائل سبسڈی کی صورت میں دیتی ہے، تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جاسکے۔

بنیادی طور پر مہنگائی پیدا کرنے میں جہاں حکومتی پالیسیاں ہوتی ہیں وہیں ریاستی و حکومتی نظام میں طاقت ور مافیا کا گٹھ جوڑ بھی ہوتا ہے۔ یہ گٹھ  جوڑ مصنوعی مہنگائی کا بحران پیدا کرکے ایک مخصوص طبقہ کے مفادات کو تقویت دیتا ہے۔ وہ ادارے جن کا کام مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے وہ بھی بدقسمتی سے اپنے اندر خود ایک طاقت ور مافیا کا حصہ بن کر خود مفادات اٹھاتے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس استحصالی نظام کو کیسے ختم یا کمزور کیا جائے۔حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ وہ محض سابقہ حکومتوں پر الزام دے کر خود کو بری الزمہ نہ قرار دیں۔کیونکہ پچھلے ایک برس میں موجودہ حکومت کے دور میں جو مہنگائی بڑھی ہے وہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گذشتہ ایک برس میں صرف سبزیاں ہی کو دیکھیں تو اس میں چھ گناہ اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ٹماٹردو سو روپے، پیاز سو روپے، آلو80روپے، لسن تین سو روپے، ادرک چارسو روپے سمیت شملہ مرچ، کریلے، بھنڈی گوبھی سب ہی سبزیوں کی قیمتیں آسمانوں پر پہنچ گئی ہیں۔ غریب او رکمزور آدمی ایسی صورتحال میں کیا کرے اس کا کوئی جواب ان کے پاس یا حکومت کے پاس نہیں ہے۔

صوبائی حکومتوں کے سربراہوں یعنی وزیر اعلی کو خاص طو رپر مہنگائی کو کنٹرول کرنے او رعام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے اس غیر معمولی صورتحال میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال صوبائی سطح پر ایک بڑی ایمرجنسی کا تقاضہ کرتی ہے اور ایسے اقدامات فوری طور پر اٹھانے ہونگے جو مہنگائی کو قابو کرسکے۔ خود وزیر اعظم کو بھی چاروں صوبائی وزرائے اعلی کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلہ کے پائدار حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ بالخصوص وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر نگرانی او رجوابدہی کا نظام از سر نو نئے او رجدید انداز میں ترتیب دینا ہوگا۔وزیر اعلی کو خود براہ راست اس سارے معاملات کی خود نگرانی کرنی چاہیے او رجو لوگ بھی اس بحران کو پیدا کرنے یامصنوعی مہنگائی کو پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں ان کو قانو ن کے شکنجے میں لانا چاہیے۔

صوبائی یا ضلعی حکومتیں جو بھی قیمتوں کا تعین کرتی ہے اس پر عملدرآمد کا نظام موثر ہونا چاہیے۔اس نظام میں حکومت کا تضاد گہرا ہے اور ایسے لوگوں کو کھلی چھوٹ دیتا ہے جو منافع کمانے کے لیے منافع خوری یا زیادہ قیمتیں وصول کرکے عام آدمی کا استحصال کرتے ہیں۔اسی طرح جو صوبائی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں موجود ہیں ان میں سیاسی مداخلتوں کو ختم کیا جائے او رایسے افراد کو سامنے لایا جائے جو واقعی اس نظام میں شفاف نگرانی اور جوابدہی کے نظام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں میں بے جا سیاسی مداخلت اور مختلف مافیا پر مبنی طاقت ور او ربااثر لوگوں کی ان میں شمولیت خود شفاف نظام میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہے۔

حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اس وقت عام آدمی کی زندگی میں جو بدحالی یا معاشی تنگ دستی ہے اس کا احساس اس کی قانون سازی، پالیسیوں یا اس پر عملدرآمد کے نظام میں شفاف طور پر نظر آنا چاہیے۔اس مسئلہ کی حساسیت کے پیش نظر ہمیں اس عام او رکمزور طبقات کے ساتھ حکومتی سطح پر خود کو کھڑا کرنا ہوگا۔ محض نجی شعبوں تک عام آدمی کو چھوڑ کر خود کو بری الزمہ کرنا درست سیاسی حکمت عملی نہیں۔ریاست میں ریاستی او رحکومتی نظام عملی طو رپر اسی وقت اپنی سیاسی ساکھ قائم کرتا ہے جب اس کے اقدامات عام آدمی کی مشکلات سے جڑے ہوں۔ عام آدمی کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ مشکل حالات کے باوجود حکومت او رادارے اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔وگرنہ محض نام نہاد جمہوریت اور سیاسی نعرے کو بلند کرکے ہم جمہوری عمل کو بھی کمزو ر کرنے کا سبب پیدا کرتے ہیں۔

مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری محض حکومتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اس میں حکومت پر دباو بڑھانے، نگرانی کرنے اور عام آدمی کے مسائل پر آواز اٹھانے سمیت موثر اقدامات کو یقینی بنانے میں سماجی اداروں یا سول سوسائٹی جیسے اداروں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس کے لیے جہاں جہاں حکومت اور سول سوسائٹی کے اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے اس عمل کو زیادہ طاقت ور بنایا جائے۔ کیونکہ حکومت اور شہری اداروں سمیت عوام کے منتخب نمائندوں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو بنیاد بنا کر ہم ہنگامی بنیادو ں پر ایسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں جو عام آدمی کے ریلیف کے عمل کو یقینی بناسکے۔حکومتی سطح پر اس فکر کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر لوگوں کی معاشی صلاحیت بڑھ رہی ہو او راس کے پاس پیسے کمانے کے زیادہ سے زیاد ہ مواقع ہوں تو وہ مہنگائی سے بھی نمٹ سکتا ہے۔مگر یہاں قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور آمدن میں مسلسل کمی خود ایک بڑا بحران پیدا کرنے کاسبب بن رہا ہے، اس کا بھی مداوا ہونا چاہیے۔