حکومت سے کوئی ڈیل اور مفاہمت نہیں ہوئی: مولانا فضل الرحمٰن
- اتوار 17 / نومبر / 2019
- 4700
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت سے ڈیل اور مفاہمت کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔
نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی طرف سے ڈیل کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں واضح الفاظ میں تردید کرتا ہوں کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ میں مشقتیں برداشت کرنے والے کارکنان کی خواہش کے برعکس کسی سے ڈیل کروں یہ میری سیاسی زندگی کا حصہ نہیں ہے۔ ہم اپنے مطالبے پر قائم ہیں اور منصوبے کے تحت اسلام آباد سے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی ایسی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مفاہمت ہوئی حالانکہ کوئی مفاہمت نہیں ہوئی۔ ہم نے رہبر کمیٹی کو اعتماد میں لے کر اسلام آباد سے جانے کا فیصلہ کیا اور مل کر تمام صورتحال آگے بڑھائی ہے۔ لیکن دیگر اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ ہم اپنی اپنی پارٹیوں کی حکمت عملی کے تحت پلان بی کا حصہ بنیں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے پرویز الہٰی سے ملاقات کے حوالے سے مزید کہا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ بہت اچھی ملاقاتیں کیں اور بنیادی بات یہ ہے کہ ہمارے موقف کو تسلیم کیا۔ ان سے دوٹوک کہا کہ حکومت کے خاتمے کے علاوہ کوئی ہدف نہیں، جبکہ چوہدری شجاعت حسین کا لب و لہجہ بھی یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ ہم نے ان کو اپنے موقف پر کتنا قائل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں کچھ طے نہیں پایا ہے، وزیر اعظم کا استعفیٰ لے کر رہیں گے اور اس حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، ہم کوئی مسلح جنگ تو نہیں لڑ رہے، یہ سیاسی جنگ ہے اور جنگ کے اپنے اطوار ہوتے ہیں۔ ہم نے دنیا سے اپنا موقف منوا لیا ہے اور دنیا تسلیم کر رہی ہے ہم اپنے مطالبات میں سنجیدہ ہیں۔
سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کو نقصان پہنچایا ہے اور اپوزیشن کو استحکام ملا ہے۔ ہم خیالی پلاؤ لے کر نہیں نکلے، اگلے سال بہت بڑی تبدیلی آئے گی اور جنوری نئے نظام کے ساتھ نظر آئے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو شاید ہم اس حوالے سے ایک یو ٹرن لے لیں۔'
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسی پروگرام میں چوہدری پرویز الہٰی نے دعویٰ کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے معاملات طے ہونے کے بعد اسلام آباد کا دھرنا ختم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ہم نے جو دے کر بھیجا وہ ’امانت‘ ہے۔