اندلس کی سیر: قصہ آج کے سیویا اور ماضی کے اشبیلیہ کا

صبح دن کا آغاز حسب معمول گھڑی کے الارم سے ہوا۔ جاگے تو دیکھا کہ صبح کے اُبھرتے ہوئے سورج کی کرنیں کھڑکی سے چَھن کر آ رہی تھیں۔ میں نے اُٹھ کر کھڑکی کا پردہ ہٹایا تو باہر ایک مسحورکُن مظر تھا۔

ہوٹل شہر سے ذرا باہر ایک پُر فضا مقام پہ ہے۔ اور ارد گرد سبزہ ہی سبزہ ہے۔ ہوٹل  کےاطراف سڑکوں کے کنارے کھجور کے درخت بھی بکثرت ہیں۔ اور قطاروں میں کھڑے سرُو کے درخت آسمان سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ موسم خزاں میں آج اکتوبر کی ایک پُر بہار صبح میں سورج ان درختوں کی اوٹ سے جھانک رہا تھا تو یوں لگ رہا تھا کہ وہ درخت آسمان سے سورج کی اس تاک جھانک کی شکایت کر رہے ہوں۔ میں کھڑکی میں کھڑا کچھ دیر قدرت کے اس رومانوی حُسن کا نظارہ کرتا رہا۔ کل کے کشٹ کے بعد آج تھکن بھی بہت تھی۔ لیکن صبح کے اس رومان پرور اور دِلکش آغاز نے رُوح کو ایک فرحت و تازگی بخش دی تھی۔ پھر رات کو نیند بھی گہری آئی ۔ اس لئے طبیعت تازہ تھی۔ غُسل وغیرہ کرنے کے بعد ناشتہ کیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد پروگرام بنا کہ آج سیویا چلتے ہیں۔

سیر پرجانے سے پہلے کپڑے استری کرنا ضروری تھا۔ جب استری لگائی تو تھوڑی دیر بعد فیوز اُڑ گیا۔ فیوز دوبارہ آن کیا اور کپڑے استری کرنا شروع کئے۔ لیکن میں نے چونکہ فیوز میاں کی بات نہیں مانی تھی اورکپڑے استری کرنا نہیں چھوڑے تھے۔ اس لئے فیوز صاحب پھر جلال میں آ گئے۔ میں نے غصے پہ قابو پاتے ہوئے فیوز کے سامنے کھڑے ہو کے کہا کہ جناب جلال میں تو شاہ آتے ہیں اور وہ میں ہوں۔ آپ کو جلال کیوں آیا؟ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد۔ فیوز صاحب اپنی ضد پہ اڑے رہے. وہ کہتے ییں نا کہ سیر کو سوا سیر۔ لہذا میں نیچے استقبالیہ پہ گیا اور وہاں موجود خاتون کو اپنی سر گزشت بیان کی۔ اس مہربان  نے ہماری مدد کے لئے ایک عدد الیکڑیشن کو بھیجا۔

الیکٹریشن نے آکے سب کچھ چیک کر کے جو نقص مِلا وہ ٹھیک کیا تو بجلی آئی۔ اُس کے بعد مجھے فیوز میاں نے تنگ نہیں کیا۔ اُسے علم ہو گیا کہ اُس کے نخروں کا علاج میرے پاس ہے۔ کپڑے استری کرنے اور فیوز صاحب سے آنکھ مچولی کرنے میں کافی وقت لگ گیا۔ اورہمیں ہوٹل سے نکلتے نکلتے دیر ہو گئی۔ لہذا ہماری یک رُکنی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ بس کی بجائے ٹیکسی پہ ریلوے سٹیشن جایا جائے۔ کیونکہ ہمیں پندرہ منٹ بعد نکلنے والی ٹرین پکڑنا تھی۔ اور ابھی ٹکٹ بھی خریدنا تھا۔ لہذا وقت کم اور مقابلہ سخت والی بات تھی۔ استقبالیہ والوں نے ٹیکسی بُک کروانے میں ہماری مدد کی۔ اور چند منٹوں بعدٹیکسی آ گئی۔  ہوٹل سے ریلوے سٹیشن اور لاری اڈہ پانچ منٹ کے فاصلے پہ تھے۔ لہذا ہم جلد ہی قرطبہ ریلوےسٹیشن پہنچ گئے۔ کل کے تجربے کے پیش نظر آج ہم نے ٹکٹ مشین پہ طبع آزمائی نہیں کی۔ اور ٹکٹ لینے کے لئے سیدھے کاؤنٹر پہ چلے گئے۔ اتفاق سے اس دن رش نہیں تھا۔ اور ہم لائن میں لگنےکی مشقت سے بچ گئے۔ ٹکٹ لیتے ہی ٹرین آ گئی۔ 

سپین میں ٹرین کا نیٹ ورک بہت اچھا ہے اور ایکسپریس اور لوکل دونوں طرح کی ٹرین مل جاتی ہے۔ کرایہ بھی مناسب ہے۔ خوش قسمتی سے ہمیں ایکسپریس ٹرین ملی تھی۔ جو پینتالیس منٹ میں قرطبہ سے سیویا پہنچ جاتی ہے۔  راستے میں ٹرین کی دونوں اطراف زیتون کے باغات ہیں اور کہیں کہیں مالٹے کےباغات بھی نظر آتے ہیں۔  اور بڑے بڑے ٹیلے بھی جو اتنے بڑے تو نہیں کہ جنہیں پہاڑ کہا جا سکے۔ لیکن آپ انہیں ٹیلے کہہ سکتے ہیں۔

میں پہلے بھی ایک دفعہ سیویا آ چُکا ہوں لیکن وقت کی کمی کے باعث سیویا  کی سیر کی خواہش تشنہ تکمیل رہی تھی۔ اس دفعہ میں یہ ارادہ کر کے آیا تھا کہ سیویا سب سے پہلے جانا ہے۔  سیویا کو اصل میں  انگریزی میں لکھا جاتا ہے Seville

ہسپانوی زبان میں اسے سیویا پڑھتے ہیں۔  اس لئے ہم یہی لفظ استعمال کریں گے کیونکہ اصلی زبان میں یہی نام ہے۔ 

سیویا سپین کی نیم آزاد ریاست اندلس کا دارالحکومت ہے اور اس کی آبادی تقریبا سات لاکھ نفوس پہ مشتمل ہے۔ عربوں کے دور میں اسے اشبیلیہ کہا جاتا تھا۔ یہ شہر رومنوں نے قبل از مسیح آباد کیا تھا۔ اور اس وقت اس کا نام ہسپالس تھا۔ لیکن جب  712 میں عربوں نے اسے فتح کیا تو اس کا نام اشبیلیہ رکھ دیا۔ یعنی اس شہر کا نام بار بار تبدیل ہوا۔ رومی اسے ہسپالس کہتے ۔ عربوں نے اس کا نام اشبیلیہ رکھا اور ہسپانویوں نے سیویا ۔  یہ اندلس کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔

یہ وادی الکبیر میں واقع ہے جہاں دریائےالکبیر بہتا ہے۔ یہ سپین کا دوسرا طویل ترین دریا ہے اور صرف یہی ایک ایسا  دریا ہے  جس میں جہاز رانی ممکن ہے۔ شہر مختلف ادوار میں تجارت و ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ جس کے ثبوت شہر میں جا بجا ملتے ہیں۔  شہر میں کھجور کے درختوں کی بہتات ہے۔ کھجور درحقیقت سپین کا درخت نہیں لیکن یہ سپین میں اموی خلیفہ عبدالرحمان اول کے توسط سے پہنچا۔ اس نے قرطبہ کے نواح میں واقع مدینۃ الزہرا میں پہلا درخت لگایا۔ اور عربی میں اس بارے میں نظم بھی لکھی جو نیٹ پہ دستیاب ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اس نظم کا منظوم ترجمہ کیاہے جس کا عنوان ہے عبدالرحمان اول کا پہلا کھجور کا درخت۔ یہ نظم بال جبریل میں موجود ہے۔

بغداد میں خلافت کے خاتمے کے بعدعبدالرحمن اول نے قرطبہ کی خلافت کی بنیاد رکھی۔ 929  تک یہاں کا حکمران امیرِ قرطبہ کہلاتا تھا۔ 929  میں عبدالرحمن سوم نے اپنی خلافت کا اعلان کیا اور اپنا لقب امیر سے خلیفہ میں بدل لیا۔1009 سے 1031 تک اس علاقے میں خانہ جنگی رہی، تاریخ میں اسے فتنہ اندلس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اس خانہ جنگی کے باعث  1031 میں قرطبہ کی خلافت کا خاتمہ ہوا اور سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے  ہو گئے۔  ان ٹکڑوں کے مختلف خاندان  حکمران بن گئے۔ سارہ قوطیہ ، ابن العربی، ابن رشد، شاعر المعتمد کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ ابن خلدون بھی اسی شہر میں سفیر بن کر آیا تھا۔  اور یہیں سے کولمبس ہندوستان دریافت کرنے نکلا تھا۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ کولمبس اپنی موت تک یہی سمجھتا رہا کہ اس نے جو جگہ دریافت کی تھی وہ ہندوستان تھا۔ لیکن اس کے ایک اطالوی دوست نے دعویٰ کیا کہ نہیں وہ ہندوستان نہیں  کوئی اور دُنیا تھی۔ بعد میں کولمبس کے دوست کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا۔ کولمبس کے اس دوست کا نام امریگو ویسپوشی تھا۔ اور پھر اسی کے نام پہ نئی دریافت شدہ دُنیا کا نام امریکہ رکھا گیا۔

کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد یہ واحد ساحلی شہر تھا۔ جس کے ذریعے امریکہ سے بحری تجارت ہوتی تھی۔ یہ زمانہ قدیم سے موجودہ دور تک سپین کا ایک اہم شہر رہا ہے۔  وقت کے اُتار چڑھاؤ ، حکومتوں کی تبدیلیوں اور حوادث زمانہ کے باوجود اس شہر کی خوبصورتی اور اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ شہر آج قدیم اور جدید تہذیب کا حسین امتزاج ہے۔ شہر میں ایک انٹر نیشنل ایئر پورٹ بھی ہے۔ جو کافی مصروف رہتا ہے۔  آجکل یہ شہر سیاحوں کا مرکز ہے۔  شہر کی تین عمارات یونیسکو کے ثقافتی ورثے کی لسٹ پہ ہیں۔  اول القصر محل، دوم سیویا کیتھیڈرل اور سوم دستاویزات  کا آرکائیو ہے۔  وقت چونکہ کم تھا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ القصر محل سے آغاز کیا جائے۔ لہذا میں جب سیویا ریلوے سٹیشن اُترا تو یہاں بھی بس کی بجائے ٹیکسی لی تا کہ زیادہ سے زیادہ وقت بچایا جا سکے۔  مذکورہ بالا تینوں عمارات  ایک دوسرے کے  قریب ہیں۔  ایک سے دوسری عمارت تک پیدل جایا جا سکتا ہے۔

القصر محل کے باہر ٹکٹ لینے کے لئے ایک لمبی لائن تھی۔ بہت پچھتاوا ہوا کہ ٹکٹ آن لائن لے لیتے تو اس لائن میں کھڑے ہونے سے بچ جاتے ۔ لیکن جن لوگوں نے  آن لائن ٹکٹ لی ہوئی تھی ان کی قطار بھی لمبی تھی۔ یہ بات اس امر کی غماز تھی کہ یہ سیاحوں کے لئے مقبول جگہ ہے۔  آدمی محل القصر میں داخل ہو تو مسلمانوں کے فن تعمیر  کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دیدہ زیب اشکال ، خوبصورت محرابیں، دیواروں اور چھتوں پہ بنے خوبصورت نقش و نگار، کونے اور فوارے سب قابل دید ہیں۔ میں اسی لئے کہتا ہوں کہ انسان کسی بھی دور میں جاہل نہیں رہا۔ وہ اپنے وقت اور زمانے کے مطابق اپنے لئے سامان زیست تیار کرتا رہاہے۔ اور اس کے ثبوت دنیا کے طول و عرض میں موجود ہیں۔ 

محل القصر بنو عباد کے شاہی خاندان نے بنایا تھا۔ یہ خاندان بنو امیہ کی اندلس میں حکمرانی کے خاتمے کے بعد آیا۔ اس خاندان نے اشبیلیہ پر 1023 سے 1091 تک حکمرانی کی۔ عیسائی فتح کے بعد نئے حکمرانوں نے یہ محل مختلف تبدیلیوں کے ساتھ اپنی رہائش کے لیے استعمال کیا۔ آج بھی شاہی خاندان کے لوگ سیویا آئیں تو اسی محل میں قیام کرتے ہیں۔ اب بھی اس محل میں اسلامی اور مورش طرز تعمیر نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ یہ طرزِتعمیر مدجن بھی کہلاتا ہے۔ مدجن کا لفظ ہتک آمیز ہے کیونکہ سپین کے فاتح عیسائی اسے پالتو کے زمرے میں استعمال کرتے تھے۔ اور عیسائی فتح کے بعد وہ مسلمان جو سپین میں رہے ان کے لیے یہ ہتک آمیز لفظ استعمال کیا جاتا  تھا۔ اشبیلیہ کا محل اقوام متحدہ کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔  یہ ایک عالیشان عمارت ہے جس کے نقش  ونگار اور در و دیوار نے کئی صدیوں کا سفر طے کیا ہے ۔

یہ عمارت اور اس کے باغات اپنے  ہنرمندوں، معماروں اور اُس زمانے کے فن کا آئینہ دار ہے۔ میں نے وہاں بہت سی تصویریں بنائیں ۔ اور جلدی سے نکل آیا کیونکہ کیتھیڈرل بند ہونے میں بہت کم وقت باقی تھا۔  سیویا کا گرجا گھر رومن کیتھولک عقیدے کے عیسائیوں کا ہے۔ یہ دُنیا کا سب سے بڑا گوتھک گرجا گھر اور تمام قسم کے گرجا گھروں میں دُنیا میں چوتھے نمبر پہ ہے۔  عربوں کے دور میں یہاں مسجد تھی۔ جسے کی جگہ گرجا گھر بنایا گیا۔  گرجا گھر کی خاص بات گھنٹہ مینار ہے جو اصل میں مسجد کا مینار ہوتا تھا۔ اپنے دور میں یہ دُنیا کا سب سے بڑا مینار تھا۔ یہ مینار الموحد خلیفہ یعقوب یوسف المنصور نے 1184 میں بنوایا تھا۔ اس

  اس کی بُلندی97,5 میٹر ہے۔ اس میں سیڑھیوں کی جگہ چونتیس  رکاوٹیں بنائی گئی ہیں۔ مؤذن ازان دینے کے لئے گھوڑے پہ بیٹھ کے اوپر جاتا اور نیچے آتا تھا۔  یہاں سے سارے شہر کا نظارہ خوبصورت لگتا ہے۔ گرجا گھر تعمیر کرتے وقت باقی مسجد تو گرا دی گئی لیکن یہ مینار برقرار رکھا گیا۔ 

گرجا گھر کی ایک اور خاص بات وہاں کو لمبس کی قبر ہے۔ اس پہ لوگوں کا اختلاف رہا ہے لیکن ڈی این اے وغیرہ کی تحقیق کے بعد لوگ اب اسے کولمبس کی قبر تسلیم کرتے ہیں۔ وقت کی کمی کے باعث میں  گرجا گھر زیادہ تفصیل نہ دیکھ سکا۔ انڈین آرکائیو بھی نہیں جا سکا۔ لیکن کوئی بات نہیں یار سلامت صحبت باقی۔ زندگی نے وفا کی تو پھر سہی۔