طاقتور کا طعنہ نہ دیں، باہر اجازت وزیراعظم نے خود دی: چیف جسٹس
- بدھ 20 / نومبر / 2019
- 5730
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ جس معاملہ میں وزیراعظم نے بات کی ہے، انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ اس کیس میں انہوں نے خود باہر جانے کی اجازت دی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے 2 روز قبل ہزارہ موٹروے کے ایک حصے کے افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ 'میں موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور آنے والے جسٹس گلزار کی بہت عزت کرتا ہوں اور میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کو انصاف دے کر آزاد کریں۔ 'پاکستان میں یہ تاثر ہے کہ طاقتور کے لیے ایک اور کمزور کے لیے دوسرا قانون ہے'.
سپریم کورٹ میں موبائل ایپ، کال سینٹر اور ریسرچ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی وزیراعظم نے طاقت ور اور کمزوروں کے بارے میں بات کی۔ جس جانب ان کا اشارہ تھا وہ معاملہ زیر التوا تھا اس لیے میں کچھ نہیں کہتا۔ تاہم میں آپ کے توسط سے پورے ملک کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں عدلیہ میں سول جج سے سپریم کورٹ تک تقریباً 3 ہزار ایک سو مجسٹریٹ اور ججز ہیں۔ گزشتہ سال ان 3 ہزار ایک سو مجسٹریٹ اور ججز نے 36 لاکھ کیسز کا فیصلہ کیا۔ ان 36 لاکھ میں شاید ایک یا دو ہی طاقتور لوگ ہوں گے جبکہ باقی سب اس کمزور طبقے کے تھے جن کے کیسز نہیں سنے جاسکتے تھے، جن کی کہیں شنوائی نہیں تھی۔ عدالتوں نے انہیں ریلیف دیا ہے۔
جسٹس نے کہا کہ میڈیا کہ مہربانی سے اگر کوئی شخص طاقت ور کہلاتا ہے یا اس پر بہت زیادہ میڈیا کی توجہ آجاتی ہے تو اس کا ہرگز یہ تاثر نہیں ہے کہ آپ ان 36 لاکھ لوگوں کو بھول جائیں۔ عدلیہ نے جو ان 36 لاکھ کیسز میں فیصلے کیے ہیں ان کا آپ کو معلوم بھی نہیں ہے، تو یہ کہنا کہ عدم توازن ہے اس پر دوبارہ غور کریں۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں، ہمیں ان کا بہت احترام ہے کہ وہ ہمارے ملک کے منتخب نمائندے ہیں لیکن وسائل کے بغیر جو اب تک ہم نے کیا ہے شاید معاشرے کو اس کا اتنا علم نہیں۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدلیہ انتہائی جانفشانی سے کام کر رہی ہے، وہ اپنے دن، رات کو قربان کر رہے ہیں اور انہیں کوئی اضافی معاوضہ بھی نہیں مل رہا۔ سرکار سے ہم نے ایک آنہ، کوئی جج نہیں مانگا، کوئی الگ کمرہ عدالت نہیں مانگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پارلیمنٹ سے قوانین میں کوئی ترامیم نہیں مانگیں، نہ ہی بجٹ مختص کرنے کا کہا۔ یہ ہمارے ججز کا جذبہ ہے، یہ ہمارا جذبہ ہے کہ ہم نے کچھ کر دکھانا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ معاشرے کے جو طبقے ججز پر اعتراضات کرتے ہیں وہ تھوڑا احتیاط کریں کیونکہ یہ دن، رات محنت کر رہے ہیں، یہ طاقتوروں کا طعنہ ہمیں نہ دیں، ہمارے سامنے کوئی طاقتور نہیں۔
دوران خطاب چیف جسٹس نے کہا کہ پرفیکٹ کوئی ادارہ اور کوئی انسان نہیں ہے لیکن اگر کوئی لگن اور جذبے کے ساتھ کام کر رہا ہو تو اسے سراہیں اور سہولیات فراہم کریں، جس کے نتائج بہت اچھے ہوں گے۔ عدلیہ میں ایک خاموش انقلاب آگیا ہے۔ ہمارے 3 بینچز کیسز میں التوا نہیں فیصلے دیتے ہیں۔ اس رجحان کو اپنایا جارہا ہے، وقت کے ساتھ اور تجربات کے ساتھ ہم بدل رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا عدلیہ آزاد ہے۔ ہم صرف قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ ہمارے سامنے نہ کوئی چھوٹا ہے نہ بڑا ہے اور نہ ہی کوئی طاقت ور ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو یاد نہیں کہ ہم نے ایک وزیراعظم کو سزا دی اور ایک کو نااہل کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مکے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک سابق آرمی چیف کے خلاف مقدمے کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ ہمارے سامنے صرف قانون طاقت ور ہے کوئی انسان نہیں۔
دو روز قبل وزیراعظم نے کہا تھا کہ 'ہماری تاریخ رہی ہے کہ طاقتور ٹیلیفون کرکے فیصلے لکھواتے رہے ہیں، بریف کیس پکڑ کر ایک چیف جسٹس کو فارغ کروادیا گیا، ہمارے ملک کی تاریخ ہے کہ طاقتور کو ہمارا قانون ہاتھ نہیں لگا سکتا'۔
انہوں نے کہا تھا کہ 'میں چیف جسٹس سے کہتا ہوں کہ اس تاثر کو ختم کریں، ہم پوری طرح آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں لیکن عدلیہ نے ہمارے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے'۔