اندلس کی سیر: غرناطہ اور الحمرا کی سیر

سیویا سے واپسی  کے بعد میں جب ہوٹل آیا تو وہاں  مجھے اردو بولنے کی اونچی اونچی آوازیں آ رہی تھیں۔  کھانا کھانے کے لئے ہوٹل کے ریسٹورنٹ گیاتو وہاں اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کا ایک گروپ تھا۔ جن میں سے کچھ وہاں ہال میں کھڑےاونچی اونچی باتیں کر رہے تھے اور کچھ  امام صاحب کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے۔

دلچسپ اور اچھی بات یہ تھی۔ کہ مردوزن ایک ہی امام کے پیچھے کھڑے تھے۔  میں جب سلام کرتے ہوئے ان لوگوں کے قریب سے گزرا تو وہ باتیں کرتے ہوئے فوراً میری طرف متوجہ ہوئے۔ اگلے دن ناشتے پہ پھر وہاں  پاکستانیوں کا ہجوم تھا۔  لیکن وہ سب بہت منظم تھے۔  میں ناشتے کے لئے ایک میز پہ بیٹھا تو ایک صاحب نے مجھے سلام کیا اور ساتھ بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا تعارف محمد جاوید کے نام سے کروایا۔ اور وہ لندن

 سے آئے تھے۔  باقی گروپ بھی لندن سے ہی آیا تھا۔

جاوید صاحب کی عُمر کوئی پینسٹھ سال کے لگ بھگ ہو گی۔ نہایت خوش اخلاق اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ دوران گفتگو انہوں نے پوچھا کہ میں پاکستان میں کہاں سے ہوں۔  جاوید صاحب نے بتایا کہ وہ کل قرطبہ گئے تھے۔ اور مسجد اور مدینہ الزہرا گئے تھے۔ مدینہ الز ہرا کا نام میرے لئے نیا تھا۔ جاوید صاحب نے مجھے خصوصی تا کید کی کہ میں وہاں جاؤں۔ آج وہ بھی میری طرح غرناطہ جا رہے تھے۔ لیکن ان کا ٹکٹوں، گائیڈ اور ٹرانسپورٹ کا اپنا بندوبست تھا۔ اور انہوں نے قیام بھی غرناطہ ہی کرنا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ میں نے الحمرا کی ٹکٹ خریدی ہے یا نہیں ۔ میں نے کہا کہ وہ ابھی تھوڑی دیر تک آن لائن لے لوں گا۔  ناشتے کے بعد

میں نے انہیں خدا حافظ کہا  اور بس کے ذریعے ریلوے سٹیشن آ گیا۔ قرطبہ ریلوے سٹیشن اور لاری اڈہ آمنے سامنے ہیں۔ میں جب بس سے اُترا تو خیال آیا کہ کیوں نہ غرنا طہ تک بس کے سفر کا بھی لُطف اُٹھایا جائے۔  حالانکہ بس پہ قرطبہ سے غرناطہ تک ایک گھنٹہ زیادہ لگتا ہے۔

 لیکن سوچا کہ میں تو گھر سے سیر کرنے نکلا ہوں۔ ایک گھنٹہ زیادہ ہے لیکن چلو سیر ہی سہی۔ لہذا میں نے بس کی ٹکٹ لی اور خوشی خوشی سوار ہو گیا۔  قرطبہ سے غرناطہ تک بس پہ ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں۔  بس جب قرطبہ سے باہر نکلی تو ارد گرد کے نظارے دیکھ کے مجھے احساس ہوا کہ شاید بس پہ جانے کا فیصلہ درست تھا۔ میں نے گاڑی بھی کرائے پہ اسی لئے نہیں لی تھی۔ کہ ایک تو پارکنگ کی سٹریس رہتی ہے اور دوسرے پھر ڈرائیونگ کرتے ہوئے آدمی ارد گرد کے نظاروں سے محظوظ نہیں ہو سکتا۔ بہرحال میں نے سُنا ہوا تھا۔ کہ مالقہ (مالاگا) سےغرناطہ تک کا سفر خوبصورت ہے۔  اور میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ مالقہ سے غرناطہ تک سڑک کے ذریعے سفر کیا جائے۔ وہ خواہش تو ابھی ناتمام ہے لیکن قرطبہ سے غرناطہ تک کا سڑک کا سفر بھی بہت خوبصورت ہے۔  راستے میں چھوٹے چھوٹے پہاڑ ہیں۔ اور کہیں کہیں میدانی علاقہ ہے۔  چھوٹی

 چھوٹی قدیم بستیاں بھی ہیں۔ اور خوبصورت عمارات والے جدید شہر بھی۔ لیکن جو چیز مجھےسب سے زیادہ پسند آئی وہ زیتوں کے باغات ہیں۔  جو میلوں بلکہ تا حد نظر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو خود رو ہیں۔ لیکن زیادہ تر نہایت ترتیب سے لگائےگئے ہیں۔  دور سے دیکھیں تو

 لگتا ہے جیسے کسی ماہر نقاش نے زمین پہ نقش ونگار بنائے ہوئے ہیں۔  خوش قسمتی سے اس دن سورج  بھی اپنی پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا۔  اور درجہ حرارت بھی مناسب تھا۔ اس لئے یہ تمام مناظر نہایت دلکش لگ رہے تھے۔ میں ان نظاروں میں اتنا کھویا کہ سفر کا پتہ ہی نہ چلا

 اور میں غرناطہ پہنچ گیا۔

لاری اڈے سے میں نے ٹیکسی لی اور الحمرا پہنچ گیا۔ میں نے بس میں ہی نیٹ پہ ٹکٹ لینے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہا۔ جب الحمرا پہنچا تو  اس دن کے لئے تمام ٹکٹیں ختم ہو چُکی تھیں۔ بہت مایوسی ہوئی۔ کہ اب کیا ہوگا۔  وہاں سب لوگ یہی کہہ رہے

 تھے۔کہ الحمرا آنا ہو تو ٹکٹ ایڈوانس بُک کروائیے۔ کیونکہ وہاں ٹکٹ نہ ملنے کےامکانات زیادہ ہیں۔ اور پھر جو مایوسی ہوتی ہے اس کا تجربہ مجھے خُود بھی ہو گیا۔ اس لئے الحمرا جانے والے تمام لوگوں

کو میرا مشورہ ہے کہ ٹکٹ آن لائن لے کے جائیں۔  اور پھر ٹکٹ پہ وقت لکھا ہوتا ہے کہ آپ کب اندر جا سکتے ہیں۔

 ٹکٹ ملنے کی ناکامی پہ انتہائی مایوس میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب کیا کروں تو اتنے میں مجھے ہوٹل والے جاوید صاحب نظر آئے جو اپنے گروپ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے پوچھا کیا بات ہے آپ پریشان لگ رہے ہیں۔ میں نے اپنی مایوسی کی وجہ بتائی۔  وہ اپنے گروپ لیڈر کے پاس گئے اور ایک ٹکٹ لا کے مجھے دے دی۔  اس وقت جاوید صاحب مجھے اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رحمت کا فرشتہ لگ رہے تھے۔ ورنہ میری ساری محنت اکارت جاتی۔  میں نے جاوید صاحب کو شکریہ کی زوردار جپھی ڈالی۔  اور خوابوں کے محل الحمرا میں داخل ہو گیا۔الحمرا میں داخل ہونے کے لئے  ایک بہت بڑے پھاٹک سے گزرنا پڑتا  کمان کی شکل میں بنا ہوا ہے۔‏ اس پھاٹک کا نام باب‌القانون ہے۔‏ یہ نام اُس زمانے کی یاد دلاتا ہے جب مسلمانوں کی حکمرانی کے دوران اس پھاٹک میں عدالت بیٹھتی تھی۔

 مجھے سپین میں عربوں کے بنائے گئے تین اہم مقامات دیکھنے کا موقع ملا ہے۔  سیویا میں القصر ، قرطبہ میں  مدینہ الزہرا اور اب غرناطہ میں الحمرا۔  تینوں جنت نظیر اور ایک سے ایک خوبصورت ہیں۔  الحمرا کاحُسن دیکھ کے مجھے خیال آیا کہ آج اتنی صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ محل جنت کے ٹکڑے کا منظر پیش کر رہا ہے تو جب یہ نیا تھا اس وقت کیسا ہوگا؟  یہ محل عربوں کی شان وشوکت ، جاہ و حشمت اور غلبے کی علامت تھا۔ الحمرا کی تعریف الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ ایک نغمہ ہے جسے آنکھوں سے گایاجاتاہے۔ ایک  تصویر ہے جسے احساسات کے رنگوں سے اور آنکھوں کے برش سے دل کے کینوس پہ بنایاجا سکتا ہے۔ اس کی داستان عروج کے تفاخر اور زوال کے آنسوؤں سے مزین ہے۔

اسے الحمرا اس لئے کہتے ہیں کہ یہ سُرخ پتھر سے بنایا گیا ہے۔  1213 میں محمد ثانی نے اس کی بنیاد رکھی ۔ اور یہ تقریباً 1354  میں مکمل ہوا۔اس محل کے کمرے جس صحن کے اردگرد بنے ہوئے ہیں اسے البراقہ کہتے ہیں۔ جس کے معنی ہیں بجلی کی سی چمک دمک والا۔البراقہ کے بالمقابل شیروں کا صحن ہے جس میں شیروں کو لڑایا جاتا تھا۔ محل میں بہت سے صحن ہیں جن میں سب سے خوبصورت شیروں والا صحن ہے۔  محل میں ستوتوں اور عربوں کی سات صدیوں پہ محیط حکومت کا خاتمہ اس محل میں ہوا۔ جب ابوعبداللہ نےمحل کی چابیاں عیسائی بادشاہ فرڈینینڈ اور ملکہ ازابیلہ کے حوالے کیں۔ معاہدے کے مطابق مسلمانوں کی جان مال کا تحفظ کیا جانا تھا۔ لیکن عیسائی حکومت اس معاہدے پہ قائم نہ  رہی۔

اور مسلمانوں اور یہودیوں پہ سپین کی زمین تنگ کر دی گئی۔ ابوعبداللہ نے محل سے باہر جا کر دوبارہ جب محل پہ نظر ڈالی تو رو پڑا۔ اس کی ماں نے وہاں ایک تاریخی فقرہ بولا ۔ جو ایک محاورہ بن گیا۔ اس نے کہا ’جس سلطنت کی تم مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکے اب اس کے لیے عورتوں یہ فقرہ اور یہ جگہ دونوں اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس جگہ اب ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہے، جس کا نام سسپیرو ڈل مورو ہے۔اسپینش زبان میں سسپیرو ایسے لمبے سانس کو کہتے ہیں جس میں آہ شامل ہوتی ہے جب کہ مور ان مسلمانوں کو کہا جاتا ہے جو مراکش سے آ کر اسپین پر قابض ہوئے، آپ اس مناسبت سے اس گاؤں کو ’مسلمانوں کی آہ‘ کہہ سکتے ہیں، یہ گاؤں ابوعبداللہ محمد کی آہ کی نسبت ڈل مورو بن گیا۔

میں سب دیکھ رہا تھا اور تصور میں عربوں کی چیخیں اور ازابیلا اور فر ڈینینڈ کے قہقہے سُن رہا تھا۔ الحمرا کے اندر ہی ایک قصبہ آباد تھا جسے القصبہ کہتے ہیں۔  وہاں بھی ایک قلعہ ہے۔  پھر ساتھ ہی چارلس پیجنم کا محل ہے جس کا وسیع و عریض آنگن ہے۔ اس کے وسیع و عریض اور خوبصورت باغات، صحن ، ستون اور تمام مناظر ایک خوشبو کی طرح میرے زھن میں بس گئے اور میری سوچوں اور خیالات کو معطر کرتے رہیں گے۔ تین چار گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد اب تھکن کے آثار نمایاں تھے۔ میں نے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔ اور ٹیکسی لے کے لاری اڈے آ گیا۔  

جب غرناطہ کے لئے بس چلی تو سورج بھی دن بھر کی مشقت کے بعد اب سستانے کے لئے شام کےخوبصورت رنگ بکھیرتا ہوا پہاڑوں کی اوٹ میں جا چُھپا۔  اس کے بعد حسین رنگوں سے مزین شام رات کی سیاہی میں بدلنے لگی۔ اور کچھ دیر بعد رات کی خاموشی میں بس کے ٹائروں کی موسیقی ہی سُنائی دے رہی تھی۔