الطاف حسین نے بھارتی وزیراعظم سے سیاسی پناہ کی درخواست کردی

  • جمعرات 21 / نومبر / 2019
  • 6620

متحدہ قومی موومنٹ  کے بانی الطاف حسین نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے خود کو اور اپنے ساتھیوں کو سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔

یہ درخواست لندن سے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کی گئی۔ رواں ماہ کی 9 تاریخ کو جاری ہونے والے الطاف حسین کے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ 'اگر بھارت اور وزیراعظم نریندر مودی مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھارت آنے کی اجازت اور سیاسی پناہ فراہم کریں تو میں اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں آنے کو تیار ہوں۔ کیونکہ میرے دادا وہاں دفن ہیں، میری دادی وہاں دفن ہیں اور میرے ہزاروں رشتے دار بھارت میں مدفون ہیں، میں ان کی قبروں پر جاکر فاتحہ کہنا چاہتا ہوں'۔

الطاف حسین نے بھارتی حکومت کو یقین دہانی کروائی کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ وہاں کسی سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ اس ویڈیو کے علاوہ سوشل میڈیا پر ان کا بھارتی میڈیا کو دیا گیا ایک انٹرویو بھی زیرگردش ہے جس میں وہ نہ صرف سیاسی پناہ کی بات کر رہے ہیں بلکہ پاکستان مخالف اور پاکستانی اداروں کے خلاف بھی بات کی ہے۔

الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اور گزشتہ 27 سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ تاہم وہ برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے کیس میں اس وقت ضمانت پر ہیں۔ وہ برطانیہ میں 2 مرتبہ گرفتار ہوچکے ہیں۔ ایک مرتبہ انہیں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا اور دوسری مرتبہ انہیں موجودہ کیس میں حراست میں لیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ 10 اکتوبر 2019 کو برطانوی پولیس نے 2016 میں برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کرنے سے متعلق تفتیش میں الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعہ کے تحت فرد جرم عائد کی تھی۔ فرد جرم عائد ہونے کے بعد بانی ایم کیو ایم کو حراست میں لے لیا گیا تھا، بعد ازاں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے عدالت نے الطاف حسین کو مشروط ضمانت دی تھی۔

ان شرائط میں الطاف حسین پر برطانیہ یا بیرون ملک عوام کے لیے سوشل میڈیا، ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی قسم کا آڈیو یا ویڈیو پیغام نشر کرنا اور پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بات کرنے کی پابندی شامل تھی۔ بعد ازاں ان کی ضمانت میں توسیع کردی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ان کی جماعت ایم کیو ایم لندن کہلاتی ہے جو 22 اگست 2016 کی اس تقریر کے بعد سے پابندی کا سامنا کررہی ہے جس میں الطاف حسین نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی اور مبینہ طور پر پاکستان مخالف نعرہ لگایا تھا۔

پاکستان میں موجود متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) ہے اور اس نے اشتعال انگیز تقریر کے بعد اپنے قائد الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کردیا تھا۔