الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا حکم
- جمعرات 21 / نومبر / 2019
- 5040
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا ہے۔
یہ حکم اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کی جانب سے ایک درخواست کے بعد سامنے آیا جس میں ای سی پی سے استدعا کی گئی تھی کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی مدت اختتام پذیر ہونے سے قبل کیس کا فیصلہ کردیا جائے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح کے پاس جمع کروائی گئی درخواست میں اپوزیشن کی 8 جماعتوں کے نمائندوں نے ای سی پی پر زور دیا تھا کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس گزشتہ 5 سال سے زیر التوا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ انصاف کے تقاضوں کے لیے کیس کی روزانہ سماعت کی جائے اور چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل اس کا فیصلہ کیا جائے۔
اس سلسلے میں جب سیکریٹری الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ اپوزیشن کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے اور اس پر کیس کی روزانہ سماعت کا حکم بھی دیا جاچکا ہے۔ اس ضمن میں ایک اور ای سی پی عہدیدار کا کہنا تھا مذکورہ حکم چیف الیکشن کمشنر اور رکن خیبرپختونخوا نے جاری کیا جبکہ رکنِ پنجاب موجود نہیں تھے۔
اسکروٹنی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 26 نومبر 2019 کے لیے مقرر کی تھی اور کمیٹی اسی روز مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ کی سماعت بھی کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وکلا کو بھی نوٹس دیے جاچکے ہیں۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ نے مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے خلاف بھی فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔
ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔