اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر کرپشن و دھوکہ دہی کی فرد جرم عائد کردی گئی

  • ہفتہ 23 / نومبر / 2019
  • 7230

اسرائیلی اٹارنی جنرل نے ملک کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو پر کئی ماہ سے زیر تفتیش تین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کردی ہے۔

نیتن یاہو پر ایک ایسے وقت میں فرد جرم عائد کی گئی ہے جب کہ ملک کے صدر نے رواں سال منعقد ہونے والے دوسرے انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کو 3 ہفتوں کے دوران حکومت بنانے کی ہدایت کی تھی۔ اسرائیل کی تاریخ میں رواں برس پہلی بار ایک ہی سال میں 2 انتخابات ہوئے تھے۔ دوسری بار انتخابات رواں برس 17 ستمبر کو ہوئے تھے، اس سے قبل اپریل 2019 میں انتخابات ہوئے تھے۔

ایک ہی سال میں ہونے والے دونوں انتخابات میں اگرچہ بن یامین نیتن یاہو کو توقعات سے اچھے ووٹ ملے، تاہم وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپریل میں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد 6 ماہ کے لیے وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔

پہلے انتخابات میں واضح برتری حاصل نہ کرپانے اور کرپشن الزامات کی وجہ سے دباؤ بڑھنے کے بعد اسرائیل میں ایک ہی سال میں دوسرے انتخابات کروانے کا اعلان کیا گیا اور رواں برس ستمبر میں دوسری بار ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو اور ان کے حریف وزیر اعظم کے امیدوار بینی گیٹس نے تقریباً ایک ہی تعداد میں نشستیں حاصل کی تھیں اور دونوں تنہا حکومت بنانے کے قابل نہیں تھے۔

اسی دوران ہی نیتن یاہو کے خلاف حکومت نے کرپشن، دھوکے اور عوام کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کردی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی تاریخ میں پہلی بار وزارت عظمیٰ کی سیٹ پر براجمان وزیر اعظم پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو پر تین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی اور اب ان کے خلاف باضابطہ طور پر تفتیش ہوگی اور عدالت ان کے خلاف فیصلہ سنائے گی۔ تاہم فوری طور پر ان کے خلاف عدالتی ٹرائل کی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔

نیتن یاہو پر لگائے گئے سنگین ترین الزام کو 4000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں نیتن یاہو پر رشوت لینے اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کے خلاف لگائے گئے دوسرے سنگین الزام کو 1000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ پر امیر ترین افراد کو سیاسی فوائد پہنچانے کے عوض قیمتی تحائف لینے کا الزام ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم پر لگائے گئے تیسرے الزام کو 2000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں ان پر ایک ٹیلی کام کمپنی کے مالک کو رشوت اور اپنے حوالے سے مثبت خبریں شائع کرنے کے عوض حریف اداروں کے لیے سخت مشکلات فراہم کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے اپنے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کے فوری بعد بن یامین نیتن یاہو نے 15 منٹ کی پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو سیاسی سازش قرار دیا۔