ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے والے نوجوان کو پاک فوج کے ترجمان کا سلام

  • ہفتہ 23 / نومبر / 2019
  • 6490

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کو روکنے والے نوجوان الیاس کی بہادری کو سلام پیش کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے لکھا کہ قابلِ مذمت عمل کو روکنے کے لیے جرأت دکھانے والے الیاس کی بہادری کو سلام ہے۔ اس طرح کی اسلاموفوبیا پر مبنی اشتعال انگیزی صرف نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہے۔ اسلاموفوبیا عالمی امن و ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے لکھا کہ تمام مذاہب قابلِ احترام ہیں۔

واضح رہے کہ ناروے کے ایک شہر کرستیان سنڈ میں گزشتہ دنوں ایک اسلام مخالف ریلی نکالی گئی تھی اور اسی دوران یہ لوگ ایک جگہ جمع ہوگئے تھے۔ جہاں ایک شخص نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی۔ جب اسلام مخالف شخص کی جانب سے قرآن پاک کو نذرِ آتش کیا جارہا تھا تو ایک  نوجوان نے مقدس کتاب کی بے حرمتی روکنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے الیاس نامی اس نوجوان کو حراست میں لے لیا۔

پاکستان کی جانب سے بھی ناروے میں قران کی بے حرمتی کی مذمت کی گئی تھی۔ ہفتہ وار بریفنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ مسلمان دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا احترام کرنا چاہیے۔

پاکستان کے علاوہ ترکی کی جانب سے بھی کرستیان سنڈ کے علاقے میں ناروے کے دائیں بازوں گروپ کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔  ناروے میں پیش آنے والے اس قابل مذمت واقعے پر سوشل میڈیا پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا جبکہ مسلم نوجوان الیاس کی بہادری کی تعریف کی گئی۔

اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ ناروے میں قرآن کریم کے بے حرمتی کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ آزادی اظہار کے نام پر مذاہب اور مقدسات کی بے حرمتی قابل مذمت ہے اس واقعے سے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کی توہین ہوئی اور ان کے دینی اور روحانی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بحیثیت مسلمان تمام مذاہب کے احترام پر یقین رکھتے ہیں اور مذہب اسلام کے تمسخر یا قرآن کریم کی توہین ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔  نور الحق قادری کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس طرح کے واقعات کو تصادم، انتشار اور عالمی امن کے لیے خطرہ کا باعث سمجھتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ناروے میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کی توہین ہوئی ہے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات تصادم، انتشار اورعالمی امن کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو اس شرمناک واقعہ پر مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ اس افسوس ناک واقعہ سے یورپ کا مکرو چہرہ سامنے آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں دہشتگرد کہیں یا جو مرضی بولیں مگر قرآن پاک کی بے حرمتی قابل قبول نہیں۔ جس نوجوان نے قرآن پاک کا دفاع کیا ہے اس کو پوری امت مسلمہ کا سلام ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل دہشت گرد کون ہیں۔ ایسے واقعات کسی جگہ پر یا کسی بھی وقت پر ہو قابل برداشت نہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر لوگوں نے الیاس کو مسلم امہ کا ہیرو قرار دیا اور یہ ٹرینڈ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں لاکھوں لوگوں نے ٹوئٹس کیں۔ نہ صرف عوام بلکہ کچھ معروف لوگوں نے بھی اس پر ٹوئٹس کی اور الیاس کو مسلم دنیا کا ہیرو قرار دیا۔ معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی سے منسوب اکاؤنٹ سے بھی ایک ٹوئٹ کی گئی۔ ٹوئٹ میں لکھا گیا کہ مسلمانوں کو رواداری کا درس دینے والی مغربی دنیا کی قرآن کریم کے ساتھ بزدلی اس انتہا پر پہنچ چکی ہے کہ اب اس کی بے حرمتی کے لیے باقاعدہ تقریب منائی جارہی ہے۔

وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فہد چوہدری نے لکھا کہ ناروے کے شدت پسند گروہ کی طرف سے قرآن کریم کی بے حرمتی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، شدت پسند ہر معاشرے میں ناسور ہیں اور ان کا سد باب عالمی ذمہ داری ہے۔  انہوں نے مطالبہ کیا کہ ناروے کی پولیس کو مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی بجائے ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

صحافی انصار عباسی نے لکھا کہ یہ اسلامی دنیا کا وہ ہیرو ہے جو ناروے میں چند اسلام دشمنوں کی طرف سے قرآن مجید کو جلانے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے جلانے والے پر کود پڑا۔ نوجوان کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جس پر صرف ترکی نے آواز بلند کی، باقی اسلامی دنیا ابھی تک خاموش ہے۔