پوپ فرانسس کی دنیا سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کی اپیل
- اتوار 24 / نومبر / 2019
- 5920
مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اتوار کے روز جاپان کے شہر ناگاساکی میں عالمی برادری سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کی اپیل کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پوپ فرانسس نے ناگاساکی کے ایٹم بم ہائپوسنٹر پارک، وہ مقام جہاں پر ایٹم بم گرایا گیا تھا، پر خطاب کرتے ہوئے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کے خاتمے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ جاپان کے شہر ناگاساکی اور ہیروشیما ہی دنیا کے وہ شہر ہیں جنہیں اب تک ایٹمی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ناگاساکی پر 9 اگست 1945 کو امریکہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں ایٹم بم گرایا گیا تھا جس میں یک دم 27 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے دو دن قبل 7 اگست کو جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا تھا جس سے فوری طور پر 78 ہزار اور بعد میں ایٹمی تابکاری سے چار لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تیز ہواؤں اور بارش کے دوران دھیمی آواز میں گفتگو کرتے ہوئے پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ ہماری دنیا میں ایک قابلِ نفرت تفریق پائی جاتی ہے جس میں خوف اور عدم اعتماد کے ذریعے تحفظ کے جھوٹے احساس کو فروغ دے کر استحکام اور امن یقینی بنانے کا دفاع کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’باہمی تباہی یا انسانیت کے مکمل خاتمے کا خوف اور امن و بین الاقوامی استحکام آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔‘
پوپ فرانسس نے اپنی تقریر اس تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر کی جس کو ناگاساکی دھماکے کے کچھ وقت بعد ہی ایک امریکی سپاہی نے کھینچا تھا۔ اس تصویر میں ایک جاپانی بچہ اپنے مرے ہوئے چھوٹے بھائی کو لے کر جا رہا ہے۔
انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے 2017 کے معاہدے کی حمایت کی۔ اس معاہدے پر اس وقت اقوامِ متحدہ کے تقریباً دو تہائی ملک راضی ہو چکے تھے مگر بڑی ایٹمی قوتوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ مخالفت کرنے والے ممالک کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے روایتی جنگوں کا خطرہ ٹل چکا ہے۔
پوپ فرانسس نے ناگاساکی کے ہلاک شدگان کے لیے دعا کرنے کے بعد ان کی یاد میں شمع روشن کرتے ہوئے کہا کہ ’ایٹمی اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے دیگر ہتھیار امن کی خواہش پوری نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے کہا ایٹمی حملے کے تباہ کن انسانی اور ماحولیاتی اثرات جھیلنے والے اس شہر میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہم چاہے جتنا بھی بولیں، وہ کم ہے۔