امریکہ طالبان امن مذاکرات بحال ہونے کا امکان

  • اتوار 24 / نومبر / 2019
  • 4750

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ افغانستان میں امن مذاکرات پھر سے شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اور ایک بار پھر وہاں سے امریکی فوج واپس بلانے کے عہد کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ ٹرمپ کے اس بیان سے قبل پیر کو کامیابی کے ساتھ ایک امریکی اور ایک آسٹریلوی پروفیسر کے بدلے امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کی قید سے چوٹی کے باغی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

عام تاثر یہی ہے کہ امریکی شہری کیون کنگ اور آسٹریلوی ٹموتھی ویکز کی رہائی امریکہ طالبان مذاکرات کی بحالی کا موجب بنے گی۔ مغوی مغربی پروفیسروں کی رہائی کو سراہتے ہوئے منگل کے روز ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ''توقع کرتے ہیں کہ اس کے بعد امن کے محاذ پر جنگ بندی جیسی مزید اچھی باتیں سامنے آئیں گی، جن کی مدد سے طویل عرصے کی یہ لڑائی ختم کی جائے گی''۔

کابل میں طالبان کے حملوں کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے ستمبر کے اوائل میں ٹرمپ نے اس سال سے جاری مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلی بار جب مجھے توقع تھی کہ سمجھوتا ہونے والا ہے، پھر انہوں (طالبان) نے سوچا کہ شاید یہ بہتر ہو گا کہ ہم لوگوں کو ہلاک کریں تاکہ ہم مضبوط موقف سے ساتھ بات چیت کر سکیں گے۔

جب امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کیے 18 سال سے جاری افغان لڑائی کے فریق سمجھوتے پر دستخط کے قریب تھے۔ امن عمل میں امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے جمعے کے روز کہا کہ انہیں امید ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں تشدد کی کارروائیوں میں کمی آئے گی اور پیش رفت میں تیزی آئے گی۔

افغان نژاد امریکی سفارت کار نے ایک  ٹوئٹ میں کہا کہ 'افغان عوام امن اور سلامتی کے متلاشی ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑا ہیں'۔