پاکستان نے سی پیک پر امریکی موقف مسترد کردیا

  • اتوار 24 / نومبر / 2019
  • 3990

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی حکام کے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں پر تحفظات کو مسترد کیا ہے۔

ملتان میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ کہنا ہے کہ سی پیک کی وجہ سے ہمارے ڈیبٹ سروسنگ (قرض) میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی انچارج معاون سیکریٹری اسٹیٹ ایلس جی ویلز نے الزام لگایا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کو کرپشن سے متعلق تحقیقات میں استثنیٰ حاصل ہے۔

انہوں نے اسلام آباد کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک سے صرف چین کو فائدہ ہوگا اور اگر بیجنگ یہ منصوبہ جاری رکھتا ہے تو کچھ فائدے کے بدلے پاکستان کو طویل مدت میں بڑا نقصان ہوگا۔ اگر پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے وقت مل بھی جائے تو یہ قرضے اس کی اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رہیں گے جس سے وزیر اعظم عمران خان کے اصلاحات کے ایجنڈے کو نقصان پہنچے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے جاری رہیں گے بلکہ توسیعی منصوبے کے تحت اس کے فیز ٹو کا آغاز کردیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم اسپیشل اکنامکس زون میں شامل امریکا سمیت دیگر ممالک سے بھی چاہیں گے کہ وہ سرمایہ کاری کریں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر سیل کے اگلے اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان سے کرنے کی گزارش کی جائے گی۔ وزیراعظم کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق تمام سفارشات پیش کی جائیں گی، جن میں سفارتی، سیاسی اور قانونی چارہ جوئی جیسے امور شامل ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کچھ عرصہ قبل مسئلہ کشمیر پر سے داخلی سیاسی صورتحال کی وجہ سے میڈیا اور عالمی برادری کی توجہ ہٹ گئی تھی۔ وزیر خارجہ نے میڈیا سے گزارش کی کہ وہ کشمیر پر خصوصی توجہ دیں۔

واضح رہے کہ 14 ستمبر کو امریکی کانگریس کی خاتون رکن راشدہ طلیب نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات کو ناقابل قبول اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وادی سے مواصلات کی معطلی اور کرفیو فوری طور پر ہٹایا جائے۔

راشدہ طلیب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت بغیر کسی وجہ کے زیرحراست ہزاروں افراد سے قانون کے مطابق برتاؤ کرے اور ادویات، ہسپتالوں سمیت دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی یقینی بنائے۔ قبل ازیں امریکا کے نمایاں سینیٹرز اور اراکین کانگریس نے مسئلہ کشمیر اور پاکستان اور بھارت کے مابین دیگر تنازعات کے حل کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعمیری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خط لکھا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ گزشتہ روز پاکستان میں ناروے کے سفارتکار کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے قرآن کی بے حرمتی کے واقعہ پر اپنی تشویش اور اضطراب کا اظہار کیا گیا۔  ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اوسلو میں اپنے سفیر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناروے کے دفتر خارجہ کو باور کرائیں کہ اس واقعے سے ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور فوری طور پر قرآن کی بے حرمتی کرنے والے شخص کو گرفتار کرکے اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔