اسلام آباد ہائی کورٹ نے غلام سرور اور فردوس عاشق کی معافی قبول کرلی

  • سوموار 25 / نومبر / 2019
  • 4380

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں وفاقی وزیر غلام سرور خان اور وزیراعظم کی معاون خصوصی  فردوس عاشق اعوان کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے شوکاز کے نوٹس واپس لے لیے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے غلام سرور خان اور فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ دونوں شخصیات سمیت ان کے وکیل بھی پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ غلام سرور خان کہاں ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ساڑھے 10 بجے تک کا وقت ہے۔ اس پر عدالت نے سماعت کو اس وقت تک ملتوی کیا۔ دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو غلام سرور خان عدالت میں پہنچے۔

اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ دونوں بہت ہی ذمہ دار ہیں آپ ریاست کے سب سے اونچے نمائندے ہیں، آپ جب اپنے الفاظ کے ذریعے غلط تشریح کریں گے تو اداروں سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ غلام سرور خان کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا کہ بیان سیاسی تھا، ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم میں خامیاں نہیں بلکہ ہر جگہ خامی موجود ہے۔ تاہم سیاسی بیان بازی کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد خراب کرنا اچھی بات نہیں ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ سیاست دان لوگوں کا اعتماد سسٹم میں مزید بڑھائیں، سیاسی مخالفت کی وجہ سے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچایا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تنقید سے ہم گھبراتے نہیں ہیں ہمارے لیے اور بھی چیلنجز موجود ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ریمارکس دیے کہ عدالت مطمئن ہے کہ آپ نے جوبھی کہا وہ توہین عدالت میں ضرور آتا ہے تاہم ہم آپ کو جاری کیے گئے نوٹسز واپس لیتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیاست کے لیے اداروں کو متنازع بنانا درست نہیں، توقع رکھتا ہوں آپ عوام پر اداروں کا اعتماد بڑھائیں گے۔ عدالتیں تنقید سے گھبراتی نہیں ہیں بلکہ خوش آمدید کہتی ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 14 نومبر کو وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان اور وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کی غیر مشروط معافی پر توہین عدالت کے کیسز کے فیصلے محفوظ کیے تھے۔