معیشت کو اب بھی چیلنجز درپیش ہیں: مشیر خزانہ

  • سوموار 25 / نومبر / 2019
  • 4930

وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کو تاحال معاشی حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں۔

اسلام آباد میں پاکستان انوویٹیو فنانس فورم سے خطاب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اقتصادی استحکام آنا شروع ہوگیا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ معاشی اہداف  کو پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آئی ایم ایف رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں پاکستان کے اہداف سے مطمئن ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے معاشی لحاظ سے مشکل فیصلے کیے۔ اپنے اخراجات کم کیے اور برآمد گنندگان کو مراعات دیں، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا اور اب اکتوبر میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوگیا۔ مشیر خزانہ نے پیشگوئی کی کہ رواں مالی سال مجموعی ملکی پیداوار کی ترقی مقررہ ہدف سے زیادہ ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولی میں 16 فیصد اضافہ ہوا اور نان ٹیکس ریونیو گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنا ہوگیا۔  انہوں نے بتایا کہ 4 ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تاہم معاشی لحاظ سے ابھی بھی چینلجز درپیش ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ لیکن اب معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق معاون نائب وزیر خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا مشیر خزانہ نے کہا کہ سی پیک کی کامیابی دراصل اس وقت سب زیادہ ہوگی جب دنیا کے دیگر ممالک بھی منصوبے میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک میں جتنے زیادہ ممالک شامل ہوں گے پاکستانی معیشت کو فائدہ ہوگا۔  واضح رہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی سب سے اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز نے گزشتہ روز ایک ’غیر معمولی‘ تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک منصوبہ پہلے سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے، بدعنوانی میں اضافے کا سامنا کرنے والے پاکستان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا جبکہ منافع اور روزگار چین کو ملے گا۔